بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی بدستور قائم ہے۔۔۔!
03 دسمبر 2018 2018-12-03

نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کے سرحدی گاؤں’’کوٹھے پنڈ‘‘کے قریب دریائے راوی کے قریب واقع موضع کرتار پور میں سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گوردوارہ دربارہ صاحب تک سکھ یاتریوں کی باسہولت رسائی اور آمد ورفت کے لئے بھارت اورپاکستان کے اپنی اپنی طرف راہ داریوں کی تعمیر کے فیصلوں کو بلاشبہ پاک بھار تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ سمجھا جا سکتا ہے ۔لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی ، ضد اور پاکستان کو نیچا دکھانے کی روایتی پالیسی اِتنی گہری جڑیں رکھتی ہے کہ دونوں ممالک کے اپنی اپنی طرف راہ داریوں کی تعمیر کے سنگِ بنیاد رکھنے کی دیر تھی کہ بھارت کی وزیر خارجہ سُشما سوراج کا پاکستان مخالف بیان سامنے آگیا۔ جس میں محترمہ نے بھارت کے پاکستان میں سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کا ہی اعادہ نہیں کیا بلکہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی رِٹ کو بھی دوہرایا ہے ۔ منگل کو بھارت کے نائب صدر نے اپنی طرف ڈیرہ بابا نانک سے پاک بھارت سرحدپرراوی پل تک راہ داری کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا اور اُس سے دوسرے دِن پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی طرف کرتار پور سے پاک بھارت سرحد تک4.50کلو میٹرطویل راہ داری کے فیز Iکا سنگ بنیاد رکھا۔ ابھی سنگ بنیاد رکھنے کی اِن تقاریب کا تذکرہ اور اُن میں کی جانے والی تقاریر بالخصوص پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھارت کو دوستی کی پیش کش ، تجارت کے لئے سرحدیں کھولنے اور باہمی یونین تک بنانے کی تجاویز پر مبنی تقریر کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ سُشما سوراج نے پاکستان کو یاد دِلانا ضروری سمجھا کہ وہ چاہے دوستی اور باہمی مفاہمت کیلئے جتنا بھی جتن کر لے بھارت کے نزدیک ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ کشمیر کو بھارت کااٹوٹ انگ قرار دینے کے اپنے دیرینہ روایتی موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہے ۔

نئی دہلی میں پریس بریفنگ کے دوران سُشما سوراج نے واضح لفظوں میں کہا کہ راہ داری کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب پاکستان سے دو طرفہ مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔ دو طرفہ بات چیت اور کرتارپوردونوں مختلف معاملات ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے بھارت پاکستانی حکومتوں سے کرتار پور کورے ڈور کھولنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے ۔ پہلی بار کسی پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر مثبت جواب دیا ہے ۔ تاہم بارڈر کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ اب دو طرفہ تعلقات کا آغاز ہو جائے گا۔ جب تک پاکستان بھارت میں دہشت گردانہ کاروائیاں بند نہیں کرتا بھارت پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی سار کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ پاکستان میں کرتار پر کوریڈور کی تقریب میں بھارتی وزراء (بھارتی پنجاب کے وزراء) نے سرکاری نہیں ذاتی حیثیت میں شرکت کی ہے ۔

سُشما سوراج کا یہ بیان ہماری آنکھیں کھولنے

کے لئے کافی ہے کہ بھارتی حکومت اگر ایک طرف کوئی ایسا قدم اُٹھاتی ہے یا اقدام کرتی ہے جس سے پاکستان سے مفاہمت کا تاثر اُبھرتا ہے تو ساتھ ہی وہ فوری طورپر اُس تاثر کو زائل کرنے کے لئے بھی سرگرم ہو جاتی ہے ۔ پاک بھارت تعلقات کی پوری تاریخ بھارت کے اس طرح کے رویوں سے بھری پڑی ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ مسائل کے حل اور اختلافات ختم کرنے یا کم کرنے کی راہ اپنائی ہے ۔لیکن بھارت نے اِسے ہماری کمزوری پر محمول کرتے ہوئے ہمارے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے رویے کو اختیار کیے رکھا ہے ۔14اگست 1947ء کو برصغیر جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دو آزاد ریاستوں کا قیام عمل میں آیا۔ تو پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی تنازعات اور مسائل بھی سامنے آئے۔ اِن میں دونوں ملکوں میں اثاثوں کی تقسیم ، سرحدوں کی نشاندہی، نہری پانی کا تنازعہ اور اِسی طرح کے کئی دوسرے مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے ساتھ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور بھارتی فوج کشی سے کشمیر کا بہت بڑا تنازعہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ پاکستان نے ان تمام تنازعات میں مصالحانہ اور مسائل کو حل کرنے والا رویہ اپنایا ۔ جب کہ بھارت کی طرف سے ڈھونس ، دباؤ، ہٹ دھرمی اور تنگ نظری پر مبنی رویوں اور اندازِ فکروعمل کا اظہار سامنے آتا رہا۔ نہری پانی کی تقسیم کے معاملے کو بھارت نے پاکستان کے لئے زِندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا۔ دریائے راوی اور ستلج سے نکلنے والے نہریں جو پاکستان میں شامل صوبہ پنجاب کے جنوب مشرقی علاقوں کو سیراب کرتی تھیں کے ہیڈ ورکس بھارت کے حصے میں آئے اِن کے مشرقی پنجاب میں ہونے کی وجہ سے اِن پر بھارت کا مکمل کنٹرول ہو گیا۔ اور اُس نے اِن سے پاکستان علاقوں کو سیراب کرنے والی نہروں میں پانی چھوڑنا بند کر دیا۔ یہ صورتِ حال یقیناًپاکستان کے لئے تشویش ناک تھی۔ پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لئے بھی ثالثی کا راستہ اختیار کیاا ور عالمی بنک کے تعاون سے پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء سندھ طاس کا معاہدہ طے پایا۔ جس میں مشرقی دریاؤں ستلج راوی کے پانی پر بھارت کا تسلیم کیا گیا اور مغربی دریاؤں چناب، جہلم اور سندھ کے پانیوں پر مکمل طور پر پاکستان کو حقدار ٹھہرایا گیا۔ صدر ایوب کے دور میں طے پانے والا سندھ طاس کے اس معاہدے کے بارے میں عوامی سطح پر پاکستان میں اب بھی تنقید ہوتی رہتی ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ ایوب خان کی حکومت نے دریائی پانی کا سودا کیا۔ لیکن اس کے باوجود حکومتی سطح پر پاکستان ہمیشہ سندھ طاس کے معاہدے پر نیک نیتی سے عمل پیرا رہا ہے ۔ بھارت کا اس ضمن میں رویہ کیا رہا ہے وہ اُس کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں دریائے چناب کے رُخ کو موڑنے، اِس پر کئی بند تعمیر کرنے اور اس کے پانی کو اپنے استعمال میں لانے کے منصوبوں سے ظاہر ہو جاتا ہے ۔

کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان نزاع کی بہت بڑی وجہ ہے ۔اس کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی قرار دادیں موجود ہیں۔جن میں کہا گیا ہے کہ کشمیری آزادانہ استعواب رائے کے ذریعے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کر سکیں گے۔ بھارت اِن قرار دادوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتا رہا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ اِن قراردادوں پر عمل کرنے سے ہی انکاری ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی اُس نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی رِٹ لگانی شروع کر دی۔تاہم بھارت اور پاکستان کے درمیان مختلف ادوار میں مسئلہ کشمیر اور دوسرے تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات ہوتے رہے لیکن اب تو بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے ہی انکاری چکا ہے ۔

بھارت کی ہٹ دھرمی پر مبنی رویے کی یہ تفصیل نہ تو خوش کن ہے اور نہ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کو حل کرنے اور تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے حوصلہ افزا ہے ۔ اب وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کے سنگِ بنیاد کے موقع پر بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سرحدیں کھولنے اور تجارت کو فروغ دینے کی پیش کش کی ہے تو لگتا ہے کہ پاکستان کی اس پیش کش کے ساتھ بھی بھارت وہی سلوک کرے گا جو اِس سے قبل وہ پاکستان کی طرف سے دوستی کے ہاتھ بڑھانے کی پیشکشوں کے ساتھ کرتا رہا ہے ۔


ای پیپر