وہاں ایسا نہیں ہوتا
03 دسمبر 2018 2018-12-03

کام کوئی بھی ہو اسے ڈھنگ اور مہارت سے چلایا جائے تو نتائج بہتر ہوں گے ایسا نہ ہو تو خرابی اور اناڑی پن ظاہر ہو کر ہی رہتا ہے۔ اگر حکمرانی میں ہوں جبکہ دعویٰ بھی ہو اچھی حکمرانی کا، کسی چور کو نہ چھوڑنے کا مگر ایسا نہ ہو سکے احتساب اپوزیشن کا ہو ایسا نہیں چلے گا۔ ایک وزیر نے غریبوں کو اس لیے اپنے شاندار محل اور فارم ہاؤس کے قریب برداشت نہیں کیا، ارادے کے پیچھے اور کہانی تھی جب ایک وزیر غریبوں کو دہشت گرد کا الزام لگا کر آئی جی کو ہٹانے پر تل جاتا ہے، حمایت میں پوری ریاست میدان میں آجائے قصہ ایک گائے سے شروع ہوا۔ اس بچاری گائے کی وجہ سے ہمارے پڑوس ملک میں مسلمانوں کو عذاب سہنا پڑ رہا ہے ایسی ہی قیامت غریبوں پر اس معصوم جانور کے نام پر ڈھائی گئی مگر یہ پڑوس نہیں 21کروڑ مسلمانوں کا ملک ہے۔ ایک متحرک چیف جسٹس صاحب ہیں۔ میڈیا جابرانہ پابندیوں کے باوجود میدان میں ہے۔ ایک اسلامی اور ایٹمی ملک میں مرغی کے انڈوں سے معیشت کو درست کریں گے پرانی سکیم ہے یہ بنیادی طور پر کئی دہائیوں پرانی بچوں کو پڑھائی جانے والی کہانی ’’اور آنا گھر نہیں مرغیوں کا‘‘ سے لیا گیا آئیڈیا ہے۔ اس کہانی کے مصنف مشتاق یوسف پاکستان کے مزاح نگار ادیب اور پیشے کے اعتبار سے بینکار تھے۔ مرغیاں پالنا ہمارے دینی نظام کا حصہ ہے۔ یہ اس زمانے کی باتیں تھیں جب دیہاتوں میں بجلی تک نہیں تھی۔ میرے کپتان کے آئیڈیا کا کافی مذاق اڑایا گیا جس کا گلہ خود وزیراعظم عمران خان نے کیا ہے کہ ’’اگر ولایتی لوگ دیسی مرغی کی بات کریں تو شاندار تو شاندار دیسی لوگ یہ بات کریں تو مذاق اڑایا جاتا ہے۔۔۔یہ نسخہ بل گیٹس نے برازیل کی دیوالیہ معیشت کو اٹھانے کے لیے دیا تھا ۔ امریکی ماہرین نے اسے معیشت کے اصولوں کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا۔ حقیقت میں الیکشن جیتنے کے لیے تحریک انصاف نے عوام سے وعدے کیے تھے۔ ٹارگٹ نوجوان تھے ان کے لیے سب سے زیادہ پر کشش نعرہ تھا، 50 لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، پھر غریبوں کے آنسو اور دلاسہ کی بات تھی منشور میں غریب بھی مخاطب تھے۔ امیر تو علاج باہر کراتے ہیں۔ غریب سسک سسک کے مرجاتے ہیں۔ ان کو کھانا نہیں ملتا۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس میں ایسا نہیں ہوتا اور بھی بہت سے نعرے تھے مگر ووٹ کے لیے یہ نعرے بھٹو کے منشور ’’روٹی ، کپڑا اور مکان‘‘ سے چرائے گئے تھے۔ عمران خان جو بہت اچھے مقرر بن گئے جلسوں میں تقریروں اور نوجوانوں کی کشش کے لیے جو بھی ہو سکتا تھا وہ سب کہا گیا۔ سب نے دیکھا جھومتے ہوئے نوجوان ’’بنے گا نیا پاکستان‘‘ پر بہت ہی آزاد ہو جاتے تھے۔ ان کے ناقدین بھی تھے پھر کہا گیا روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی ہے۔ سو دن میں تبدیلی ہے تو بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا والا معاملہ ہے۔ یہ سو دنوں کی کہانی ہے اقتدار ملا کیسے ملا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ مگر ترقی یافتہ ملکوں میں یہ ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے ان کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ سب سے زیادہ غریب پرور ملک ترقی یافتہ ہیں۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے آپ ان سے جو بات کریں جو کہیں یقین کر لیتے ہیں۔ وہاں کا انصاف پاکستان جیسا نہیں وہ ادارے سیاست نہیں کرتے۔ وہاں کا وزیراعظم یہ دھمکیاں نہیں دیتا کہ اپوزیشن کو جیل میں ڈال دوں گا۔ وہاں کسی سیاست دان کو اتنی جرأت نہیں ہوتی جو اپنی تقریروں میں عدلیہ کو للکارے۔ الیکشن کمیشن پر دھاندلی کے الزامات لگائے، نادرا کی اینٹ سے اینٹ بجا دے اور پھر الزامات کا آڈٹ ہو،

جوڈیشل کمیشن بنے تمام الزامات ثابت نہ کر سکین۔ فائنڈنگ سے دھاندلی نہیں ہوئی پھر بھی الزام لگانے والا کچھ ثابت نہ کر سکے پھر بھی صادق اور امین کہلائے۔ وزیراعظم صاحب برطانیہ میں ٹیکس بچانے کے لیے ایک آف شور کمپنی بنائی پھر گھر کی تعمیر ضابطوں کو تہ و بالا کرتے ہوئے کی مگر بنی گالہ کے لوگوں کے خلاف ایسے ہی الزام میں آپریشن ہو جناب وزیراعظم کا گھر بچ جائے۔ یہ انداز حکمرانی نیا نہیں سیاست دان ایسا ہی کرتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن ایک نہ بھولنے والا المیہ ضرور ہے مگر سارا فساد ایک طاقتور مذہبی رہنما کے سڑکوں پر قبضے اور پرائیویٹ سکیورٹی بٹانے سے شروع ہوا۔ برطانیہ میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک وزیر ہو اس پر معمولی الزام بے شک چند سو ڈالر کی خورد برد اور غلط استعمال کا آئے یا وہ عوامی دلچسپی کے کسی ایشو کی زد میں آئے اور استعفیٰ نہ دے وہاں ایسا نہیں ہوتا مگر یہ پاکستان ہے۔ یہاں جھوٹ اور غلط بیانی کو ’’یوٹرن‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ مگر برطانیہ میں وعدے توڑنے والے کا کوئی مقام نہیں رہتا۔ برطانیہ، امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک میں ’’کچن آئٹم‘‘ سب سے سستی ہوتی ہیں مگر یہاں تو معاملہ زمین سے اٹھ کر آسمان پر چلا گیا۔ مگر 100 دنوں کی کہانی میں سب سے زیادہ غریب کو ہی پیسا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ برباد ہو گیا۔۔۔ کرنسی ’’ڈی ویلیو‘‘ ایسی ہوئی خدا کی پناہ۔

دو فیملی ممبرز سے 10 ممبرز تک کے کنبے تیزی سے خط غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں۔ متوسط طبقہ جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے اب یہ ناپید ہو رہا ہے۔ وہ تیزی سے اپنی پوزیشن چھوڑ کر غریبوں میں گھس رہا ہے۔ حکمرانی کے چرچے ہرطرف ہیں۔ غریبوں کو یونہی نچوڑتے رہو گے تو کھانا لا حاصل سمجھو۔ ایوب خان کسی سازش سے نہیں مارا گیا تھا بلکہ مہنگائی اسے لے ڈوبی۔ ایوب خان نے 1961ء میں امریکہ کا دورہ کیا تاریخی حوالے سے اس کا راز یوں کھلا کہ امریکہ نے ایوب خان کو اپنے گہرے دوست کا رتبہ اس لیے بخشا کہ خارجہ پالیسی میں وہ پاکستان چین جنگ سے دور رہے۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی، نائب صدر جانسن اور جیکی کینیڈی تو قدم قدم پر دیدہ و دل فرش راہ تھے۔ امریکی دوستی کے نام پر ایوب خان اپنے کشکول میں کافی ڈالر لے آئے۔ ڈالروں اور پاکستان کو قرضوں کی جو لت لیاقت علی خان سے شروع ہوئی تھی وہ ایوب کے زمانے میں عروج پر پہنچی۔ امریکہ کا چہیتا مسٹر شعیب پاکستان کا وزیر خزانہ بن گیا۔ بھٹو بے شک کہیں کہ انہیں ایٹمی طاقت کی سزا ملی۔ پاکستان قومی اتحاد نے اپنے منشور میں سب سے زیادہ اہم نعرہ اشیاء خورو نوش کی قیمتوں کو 1970ء کی سطح پر لانے کا لگایا اور کامیاب ہوا۔ کشکول پھیلانے والی حکومت اور اس کے نورتنوں کی طرح غریبوں کو برباد کرنے کے باوجود تیس مار خان بنے ہوئے ہیں۔ اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے کی بجائے کچھ اور کاموں میں مصروف ہیں۔ پاکستان کی پہلی حکومت جس کے گرانے کا عمل شروع ہو چکا۔ پہل پیپلزپارٹی نے کر دی ۔ زرداری نے صادق آباد کے جلسہ میں نوید سنائی۔ دوسری جانب نواز شریف نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ شہباز سے ملاقات کی نواز شریف سیاسی حوالے سے متحرک ہو رہے ہیں۔ اب حکومت کو فری ہینڈ نہیں ملے گا۔


ای پیپر