دل کا مرید
03 دسمبر 2018 2018-12-03

شاعری پر گفتگو کرنا میرا شعبہ نہیں ہے لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ کوئی موضوع اگر آپ کا میدان نہیں ہے اور آپ اس پر بات نہیں کر سکتے تو آپ کو اس پر بات کرنی بھی نہیں چاہییے۔ اللہ بھلا کرے ہمارے آجکل کے ٹاک شوز کے بعض اینکر پرسنز کا کہ جنہوں نے قوم کو درپیش کئی دیگر مسائل کے حل کے علاوہ گفتگو کے حوالے سے بھی نئی روایات متعارف کروائی ہیں ۔ان کے مطابق آپ کسی موضوع کی بھلے ابجد سے بھی واقف نہ ہوں آپ اس پر پورے اعتماد سے عالمانہ گفتگو کر سکتے ہیں ۔چنانچہ جب مجھے جناب ابرار ندیم صاحب کی اس تقریب میں بطور مقرر شرکت کی دعوت ملی تو میں نے بصد احترام انہی اینکر پرسنز کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی حاضری کے لیے ہامی بھر لی ۔مذید برآں ، میں نے جب اس تقریب کے دیگر مقررین کے اسماء گرامی پر نظر ڈالی تو مجھے ان میں ایک دو نام ایسے نظر آئے جنہیں دیکھ کر مجھے بہت حوصلہ ملا ۔ اور میں نے سوچا کہ اگر ان محترم حضرات نے بھی شاعری پر گفتگو فرمانی ہے تو پھر میں تو اس پر بہت اچھی گفتگو فرما سکتا ہوں ۔ لہذا ان حوصلہ افزاء باتوں کے بعد میں یہاں حاضر ہوا ہوں ۔

خواتین و حضرات : اپنی گفتگو کے ذریعے اپنے پیارے دوست ابرار ندیم صاحب کے شعری محاسن اور مقام و مرتبے کا تعین کرنا ، الحمدللہ ۔۔نہ میرا مقام ہے اور نہ مقصد ۔یہ ازلی کارگناہ نقاد حضرات کو سونپا گیا ہے اور وہی نہایت عمدگی سے اس کام کا بیڑا غرق کرتے رہتے ہیں ۔لیکن میں صرف یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ وہ جو انگریزی شاعر کالرج نے شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھاBest Words in Best Order ۔۔میرے خیال میں ابرار کی شاعری اس تعریف پر ہر لحاظ سے پوری اترتی ہے تاہم میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ابرارندیم کی شاعری خالصتاً آمد کی شاعری ہے اور اس میں آورد کی آمیزش بہت کم ہے بلکہ بعض اشعار تو ایسے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ کاش یہاں آورد کو بروئے کار لایا جاتا تو شعری حُسن اور بھی نکھر کر سامنے آتا ۔ اور وہ جو ابرار نے کتاب کے پیش لفظ میں کہا ہے کہ ۔میرے شعر وڈے ہون نہ ہون سچے ضرور نیں ۔۔تو میں اس میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ ابرار صاحب آپ کے شعر وڈے بھی ہیں اور سچے بھی ۔۔

خواتین و حضرات : میرے نزدیک ابرار ندیم کے لیے ایک بڑا بلکہ سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کا تعلق اس حلقہ خاص سے ہے جنہیں استاد محترم جناب عطا الحق قاسمی صاحب کا شاگرد ہونے کا شرف حاصل ہے اس خاکسار کو بھی یہی اعزاز حاصل ہے۔ اس تعلق کے حوالے سے اگلے دن جب ابرار صاحب نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر لگائی جس میں استاد محترم جناب قاسمی صاحب اپنے دفتر میں موجود ہیں اور انتہائی محبت سے ابرار کے منہ میں مٹھائی ڈال رہے ہیں تو میں نے اپنے اندر شدید رشک اورحسد محسوس کیا ۔ پھر جب کچھ اور دوستوں نے بھی مجھے یہ تصویر ارسال کی تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اس کا توڑ یہ نکالا کہ انہیں واپسی لکھ بھیجا کہ یہ تصویر فوٹو شاپ کی ہوئی ہے ورنہ اس دن قاسمی صاحب تو لاہور میں موجود ہی نہیں تھے ۔ اور پھر میں نے ان دوستوں کو یہ بھی بتایا کہ یہ فوٹو شاپ کس قدر واہیات اور گمراہ کُن چیز ہے ثبوت کے طور پر میں نے انہیں اپنے پنڈ کے ساجھو نائی کی ایک تصویر بھیجی جس میں وہ کترینہ کیف کو اپنی بانہوں میں لے کر بوس و کنار میں مصروف ہے ۔ اور میں نے انہیں بتایا کہ اگراُن کے بقول ابرار صاحب کی یہ تصویر درسست ہے تو پھر انہیں دوسری تصویر کے مطابق ساجھو نائی کا دعویٰ بھی درست ماننا پڑے گا ۔

حاضرین محترم : اپنے دوست جناب ابرار صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے مقام و مرتبے کے حوالے سے میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ شاعری میں استاد غالبؔ کے بعد ابرار ندیم کا نمبر آتا ہے۔ ظاہر ہے درمیان میں ایک آدھ شاعر اور بھی پڑتا ہو گا اور مذید برآں ایسے بے تکے فتوے سے میرے دوسرے شاعر دوست جناب عزیر احمد کی حق تلفی کا بھی خدشہ ہے لیکن میں یہ ضرور عرض کروں گا کہ غالب ؔ کی طرح ابرار کے بھی کئی اشعار معنی کے اعتبار سے Multidimentional نظر آتے ہیں ۔ مثلاً ان کا یہ تاریخی شعر دیکھئے

اکو واری فرض تے نئیں ناں

عشق دوبارہ ہو سکدا اے

اب یہ شعر ایک طرف تو کسی رومانٹک شادی شدہ جوڑے میں باقاعدہ تخریب کاری کا باعث بن سکتا ہے کہ ایک ہنستے بستے گھر میں ون فائن مارننگ میاں صاحب اٹھتے ہیں اور یہ نعرہ مستانہ لگا تے ہیں ۔اور اس کے بعد سارا رومانوی تعلق ایک بھیانک انجام کو پہنچ جاتا ہے ۔ اور دوسری طرف لگتا ہے کہ یہ شعر اپنے اندر باقاعدہ ایک فلسہ بلکہ فتویٰ رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس شعر میں ہمیں ایک التجا اور دھمکی وغیرہ کے پہلو بھی نظر آتے ہیں ۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابرار ندیم کے کئی اشعار معنی کے لحاظ سے کثیرالجہات ہیں اور یہی خوبی ہمیں جنابِ غالبؔ کی شاعری میں ملتی ہے ۔

آخر میں میں اپنے عزیز دوست جناب ابرار ندیم صاحب کو ایسی زندہ اور خوبصورت کتاب لانے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ وہ اس میدان میں اور ترقی کریں ۔ یہاں میری یہ بھی دعا ہے کہ ابرار ندیم صاحب اور استاد غالبؔ کا نام اکٹھا لینے پر میں نے جس ادبی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے اللہ پاک مجھے اس پر معاف فرمائے ۔ بہت شکریہ

( یہ مضمون عزیز دوست ابرار ندیم کی کتاب ’’ اساں دل نوں مرشد جان لیا ‘‘ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا )


ای پیپر