گورنر ہائوس کی اگر ایک دیوار بھی گری تو سب جیل جائینگے:لاہور ہائیکورٹ
03 دسمبر 2018 (18:24) 2018-12-03

لاہور:ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانے سے روک دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مامون الرشید شیخ نے گورنر ہاس کی دیواریں گرانے کے خلاف خواجہ محسن عباس کی درخواست کی سماعت کی ، درخواست میں پنجاب حکومت، چیف سیکرٹری ، ڈی سی اور مئیر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ گورنر ہاﺅس کی عمارت ثقافتی ورثہ کی حامل تاریخی عمارت ہے، وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانے کا حکم دیا گیا ہے، اس عمل سے عوام کے پیسے کا ضیاع ہو گا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس طرح کے کام کے لیے اخبار میں اشتہار دینا ضروری ہے، اس کے لیے کابینہ سے اجازت بھی نہیں لی گئی۔ گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانا سپریم کورٹ کے فیصلے اور اینٹی کیوٹ لا کی بھی خلاف ورزی ہے۔ عدالت گورنر ہاس کی دیواریں گرانے کا اقدام کالعدم قرار دے اور فیصلے تک دیواریں گرانے کے کام پر حکم امتناع جاری کرے۔سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گورنر ہاﺅس کو مسمار نہیں کیا جا رہا بلکہ صرف دیواروں کی بات ہوئی ہے۔

جسٹس مامون الرشید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ میں یہی پیدا ہوا ہوں اور میں جب سے دیکھ رہا ہوں دیوار موجود ہے۔عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے دیواریں گرانے پر تاحکم ثانی حکم امتناعی جاری کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلنی چاہیے ۔ایسا ہوا تو سب جیل جائیں گے۔


ای پیپر