ایک کی بجائے ،تین چار”پیج“ پر
03 دسمبر 2018 2018-12-03

آپ یقین کریں، پاکستان کو بنے ہوئے واقعی ستر سال ہوچکے ہیں، یہ تو خدا کا شکر ادا کریں کہ لاکھوں قربانیوں کے بعد ہم نے اللہ کے فضل سے قائداعظم ؒ جیسے عظیم اور انمول قائد اور بے مثال کردار کے مالک کی بدولت خونخوار اور جنگلی جبلت والے آمروں کے چنگل اور ناقابل شکست طاقتوں کو ہزیمت سے دوچار کرکے وطن حاصل کرہی لیا۔

آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا، کہ دنیا میں کئی ایسے بدقسمت لوگ بھی موجود ہیں کہ جو روزانہ درجنوں کے درجنوں ہلاک کردیئے جاتے ہیں، ہزاروں عفت مآب اپنی عصمتیں گنوا بیٹھتی ہیں اور نوجوان دوشیزائیں، اپنا سہاگ گنوا کر جبراً بیوہ بنا دی جاتی ہیں، مگر نہ تو وہ آزادی حاصل کر سکی ہیں، اور نہ ہی دوردورتک ان کے علیحدہ وطن حاصل کرنے کے آثار نظر آتے ہیں، اللہ جانے، اللہ کو کیا منظور ہے، مفکر ملت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ

گرچہ برہم ہے قیامت سے نظام ہست وبود

ہیں اسی آشوب سے بے پردہ اسرار وجود

زلزلے سے کوہ ودر اُڑتے ہیں مانندسحاب (بادل، اَبر)

زلزلے سے وادیوں میں تازہ چشموں کی نمود

ہر نئی تعمیر کو لازم ہے تخریب تمام !!

ہے، اسی میں مشکلات زندگانی کی کشود (فائدہ، کامیابی)

علامہ اقبالؒ کو تو یہ صدائے غیب سنائی دی کہ وہ زلزلوں سے پھوٹنے والے چشموں ،آبشاروں ، جھرنوں، اور ساگروں کی مثبت باتیں کرتے نظرآتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں مثبت ومنفی اسرار ورموز اور باتیں یکجا ہوتی ہیں ۔

ہم پہلی دفعہ اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف جرم کرتے ہیں کہ ستر سال کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے، کہ تحریک انصاف کی حکومت، سپریم کورٹ، اور افواج پاکستان صرف ایک ”صفحہ“ پیج پر نہیں، بلکہ تین چار پیج پر ہیں، یہ بات یقیناً عوام کے لیے باعث اطمینان ہے مگر شاید یہ بھی پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ان تینوں قوتوں کو اس فضول خرچی کا ادراک نہیں ہوا کہ 2ستمبر کو شجرکاری مہم کے تحت اشتہارات مل رہے ہیں، جب کہ اب موسم خزاں بھی آگیا ہے، مگر ساون کے اندھوں کو ہرطرف ہریالی نظرآرہی ہے، جہاں دوسری جماعتوں کے رہنماﺅں کی نشست و برخاست کی جواب دہی ہورہی ہے، ان اشتہارات کو کون بند کرائے گا ؟ اور ان کا خرچہ نیب ، ایف آئی اے، کس سے وصول کرے گی؟

میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، یہ ہمارے وزیر خارجہ کہتے ہیں، اور وزیرداخلہ ہمارے وزیراعظم بھی ہیں، قوم کو تو عادت ہوگئی ہے، وزیرخارجہ کے بغیر حکومت چلانے کی ، اور اب یہ عادت بھی ہوتی ہوتی ہوہی جائے گی۔ وزیراعظم نے شاید یہ عہدہ اس لیے اپنے پاس رکھا ہوگا، کہ اپوزیشن کو، کوئی دوسرا وزیرداخلہ کسی قسم کی رعایت نہ دے دے۔ تحریک انصاف نے انصاف کا ترازو جھکائے بغیر ، اور بغض معاویہ کے بغیر سنسر بورڈ ختم کرکے اچھا قدم اٹھایا ہے کیونکہ ان کے بقول سنسر بورڈ کے ارکان ہی پروڈیوسر، وہی تقسیم کار، اور وہی فلموں کے ڈائریکٹر ، وہی فلم ساز ہوتے ہیں، ویسے بھی ان کا فائدہ تو کوئی عوام اور فلم بینوں بلکہ تماش بینوں کو کبھی نظر نہیں آیا۔ جو بارش میں بھیگتے گانے سنسر شپ کی نذر ہوجاتے ہیں، سینما میں فلم کے اندر دوبارہ ڈال دیئے جاتے ہیں۔ میری سمجھ میں تو کم ازکم یہ نہیں آیا کہ اب تک ہماری پارلیمان قانون سازی میں حیلہ سازی سے کیوں کام لے رہی ہیں، صوبہ سندھ میں تو جیسے اردو، لاگو نہیں ہوتا لگتا ہے وہاں وفاق کے قانون کا عمل دخل بھی ویسا ہی لگتا ہے، تحریک انصاف کی حکومت سازی کی مجبوریاں اب کھل کر سامنے آنے لگی ہیں ، مختلف خیالوں کی سیاسی پارٹیاں تحریک انصاف کے ساتھ ملنے کے لیے جتنی بے تاب تھیں، انہوں نے یقیناً اپنی ایک قیمت کا تعین کیا، اور پھر جہانگیر ترین سے یا تو اپنی قیمت وصول کی یا پھر حکومت میں وزیر یا مشیر بنے۔ جہانگیر ترین کے بارے میں ان شاءاللہ پھر بات کروں گا، فی الحال کرتارپور راہداری کے بارے میں بات کر لیتے ہیں۔ ہمارے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اس حوالے سے انتہائی فعال کردار ادا کیا ہے، بلکہ بھارتی انتخابات سے پہلے سکھوں کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تقسیم برصغیر کے وقت، کانگریسی لیڈروں نے سکھوں کے سردار ماسٹر تاراسنگھ کو اپنے جال میں پھنسا کر بلکہ انہیں اپنے شیشے میں مکمل راز داری سے اتار کر سکھوں کے سینے میں نہیں ان کی پیٹھ پیچھے چھرا گھونپا تھا، خدا جو بھی کرتا ہے، وہ بہتر ہی کرتا ہے، جہاں تک یہ خیال ہے ، کہ ہمارے دفاعی تجزیہ نگار یہی کہیں گے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج نے بہت بڑا خطرہ ورسک لیا ہے، کہ پاکستان میں دنیا بھر سے سکھ یاتری داخل ہو جائیں گے، ہوسکتا ہے ان میں غیرملکی اور خصوصاً بھارتی جاسوس بھی سکھوں کا رنگ روپ دھار کے ریاست پاکستان کو زک پہنچانے کی کوشش کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔

کرتار پور راہداری کھولنے کی بات پہلی دفعہ نہیں کی گئی، بھارت کو یہ پیشکش پہلے بھی خصوصاً بے نظیر کے دور میں جب ان کے تعلقات راجیو گاندھی سے بڑے گرم جوشی والے تھے، کی گئی تھی ہمارے وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ دوست، جوغالباً بھارتی پنجاب میں وزیر بھی ہیں، نوجوت سنگھ سدھو، جن کو عمران خان نے اپنی تقریب حلف برداری میں خصوصی طورپر بلایا تھا، اور غالباً انہوں نے کرتار پور بارڈر کھولنے کی بات کی تھی، سکھوں میں اگر اتنا فہم، اور اتنی فراست ہوتی توتوحید پہ یقین کرنے کے باوجود وہ اپنا متبرک مقام چھوڑ کر بتوں کو پوجنے والے ملک کو کیوں اہمیت دیتے؟ ستر سال بعد انہیں یہ ہوش آیا ہے ، بابا گورونانک کی عزت تو مسلمان بھی کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے سعودی عرب کا سفر کیا تھا، اور لوگ بتاتے ہیں کہ انہوں نے خانہ کعبہ میں بھی حاضری دی تھی، جس کی وجہ سے ان کی وفات کے بعد سکھوں اور مسلمانوں میں تنازعہ بھی ہوگیا تھا، اور جب ان کی لاش کودیکھنے کے لیے چادر ہٹائی گئی ،تو وہاں پھول پڑے تھے جنہیں مسلمانوں اور سکھوں نے اٹھا لیا تھا کاش کہ کرتار پور بارڈر جنرل ضیاءالحق مرحوم کے زمانے میں کھولا جاتا، تو مسئلہ خالصتان دوبارہ سے پھر زندہ ہوجاتا، مگر اب یہ مسئلہ بھی ”ازخود“ دوبارہ زندہ ہو جائے گا، یقین نہ آئے تو وقت آپ کو خود ہی بتادے گا جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے، کرتار پور بارڈر کھولنے کا کریڈٹ مودی خود لے کر الٹا اسے مسئلہ کشمیر کے خلاف استعمال کرے گا۔

لہٰذا حکومت پاکستان کو چاہیے کہ سرحد کھولنے کے اس عمل کو سفارتی سطح پر دنیا بھر میں اجاگر کرے۔


ای پیپر