ہم کریں کرتار---وہ کریں تار تار
03 دسمبر 2018 2018-12-03

تھوڑٰی حیرانگی تو ضرور ہوئی ایک طرف تو کرتارپور بارڈر کے سنگ بنیادرکھنے کی تیاریاں جاری تھیں۔ بھارت کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی اور امیدکی گئی کہ شاید اس بار امن کا راستہ بھولا ہوا اس راستے پر آجائے جو ترقی کرتی دنیا میں ترقی کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ لیکن شاید اپنی ہی جنتا کے مَن سے بے خبر اور اپنے ہی مَن سے باخبر مودی جی جانتے ہوئے بھی نہیںجانتے تھے۔ کرتار پور کوریڈور کا افتتاح بھارت کے اعصاب پر بری طرح سوار ہوگیا ہے۔حد تو یہ ہے کہ اپنے ہمسائے کی جانب سے بڑھائے گئے ایک قدم پر دو قدم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹتا نظر آرہا ہے۔ سفارتی اور اخلاقی محاذ پرپاکستان کی فتح پر حسب روایت بھارت تو نہایت خائف ہے جبکہ پوری دنیاپاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کی ستائش میں مصروف ہے۔ حالانکہ اس وقت تک صورتحال یہ تھی کہ بھارت کے سکھ یاتریوں کو ویزے کے عمل سے گزرنے کے بعد واہگہ کے راستے پہلے لاہور اور پھر 130 کلومیٹر کاسفر ناروال تک طے کرنا پڑتا تھا۔

اب اس راہداری کی تعمیر کے بعد ویزے کی جگہ پرمٹ لے لے گا اور انتہائی طویل فاصلہ چند کلومیٹر کا رہ جائے گا۔ بھارت سے آئی وزیر خوراک ہرسمرت کور اور وزیر ہاو¿سنگ ہردیپ ایس پوری پر مشتمل جو وفد صوبہ پنجاب کے وزیرنوجوت سنگھ سدھو کی قیادت میں پاکستان آیا ان سب کا اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہوئے یہ کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ان کی جھولیاں خوشیوں سے بھردی ہیں۔ اور یہ دن دنیا بھر میں بسنے والے بارہ کروڑ کی سکھ برادری کے لیے کسی عید سے کم نہیں ہے۔یہاں تک کہ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ عمران خان کہ اس احسن اقدام پر میں انہیں سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔

لیکن حسب توقع رعونت کے بھوت کو دماغ پر سوار رکھے ہوئے ہٹ دھرم بھارت نے پاکستان کے اس اقدام کو کشمیر اور خالصتان تحریک سے جوڑنے کے لیے زمین آسمان کے قلابے آپس میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اور تو اور سارک اجلاس میں شرکت کی دعوت کو بھی ٹھکرا دیا ہے۔ یہاں تک کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے تمام اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے بھارتی میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ کرتار پور راہداری کھلنے کا مطلب یہ نہیں کہ دو طرفہ مذاکرات شروع ہوجائیں۔اپنی ہزیمت مٹانے کے لیے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اس تاریخی اقدام کو بھارت کا مطالبہ بھی قرار دیتی رہیں۔

ایک طرف پاکستان کے آرمی چیف ایک جپھی کے بدلے کوریڈور کی درخواست پر اس طرح عمل پیرا نظر آئے کہ اس تاریخی دن کو مزید یادگار بنانے کے لیے 28نومبر کو مہمان نوازی میں پیش پیش دکھائی دے رہے تھے۔ لیکن دور بیٹھابھارت کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا۔ تب ہی تو کوریڈور کے افتتاح کے اگلے روز29 نومبر کو انڈین آرمی چیف بپن راوت نے کوریڈور کو علیحدہ مسئلے کے طورپر دیکھنے کی بات کی اور بے پر کی اڑاتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان میںڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔حالانکہ کرتارپور راہداری پر کام کے رسمی آغاز کے بعد پاکستان اور بھارت میں تعلقات میں قدرِ بہتری اور عوامی رابطوں کی صورت میں باہمی تعاون بننے کی کافی امید پیدا ہورہی تھی۔ ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی سوچ کا پالیسی اعلان الیکشن 2018 کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنی پہلی تقریر میں کرچکے تھے۔ اس میں دوستی کاہاتھ بڑھانے اور مذاکرات کی دعوت شامل تھی۔لیکن اجڈ بھارتی سیاستدان عوام کی فلاح نہیں پارٹی سیاست کو زیادہ فوقیت دیتے ہیں۔ تب ہی تو گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے بڑے اٹھائے جانے والے اس اقدام کو اپنی منفی انتخابی پراپیگنڈے کی نذر کیا جارہا ہے۔ کیونکہ ہمسایہ ملک میں پاکستان کے بارے میں منافرت پھیلانے کو انتخابات میںکامیابی کی کلید سمجھا جاتا ہے۔

بھارت میں 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے لیے جہاں زور و شور سے ریلیاں، جلسے اور بیٹھکیں جاری ہیں۔ وہیں بی جے پی اور کانگریس سمیت دیگرجماعتیں اپنے بدنیت ووٹرز کو قائل کرنے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ایسی ہی کوشش میں مودی جی نے بھی تنگ نظری کا بھرپور انداز اپنایا اوراپنی قوم کو ایک بار پھر ہمسائیوں سے نفرت کی بھرپور تلقین کرتے ہوئے نظرآئے۔ راجستھان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے نہ صرف پاکستان کے خلاف زہر اگلا بلکہ نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا راگ الاپتے رہے اور پاکستان دشمنی میں ووٹ کی بھیگ مانگتے رہے۔لیکن پاکستان کو کسی طور پر بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔ یقین جانیے یہ سب کچھ کرکے ایک طرف تو پاکستان نے دنیا بھر میں موجود کروڑوںکی سکھ برادری کے دل جیت لیے ہیں دوسری طرف ہر لحاظ سے سفارتی اور اخلاقی فتح بھی حاصل کرلی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی مجبوراً بھارتی قیادت کومذاکرات کی ٹیبل پر آنا ہی ہوگا۔

کرتارپور صاحب کی سکھوں کے لیے وہی اہمیت ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مدینہ، عیسائیوں کے لیے ویٹی کن، یہودیوں کے لیے یروشلم ہے۔پاکستان کرتارپور صاحب کی دیکھ بھال کرکے اس عظیم مذہبی مقام پر ٹورِزم کو فروغ دے کر مزید مذہبی ہم آہنگی کی راہ ہموار کرسکتا ہے یقیناً جس کی کوشش کا آغاز ہوگیا ہے۔پاکستان کی حکومت ہو یا سیاستدان یا پھر صف اول کا میڈیا ہمیشہ امن کی امید کے لیے شمع جلاتے رہے ہیں اور رہیں گے۔ موقع چاہے کتنا ہی معمول کاہو، امید چاہے 1 فیصد ہی کیوں نہ ہو، پاکستان نے ہمیشہ دلِ مہرباں کی طرح اپنے ہمسائے کو مسکراتے ہوئے ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی ہے اور دیتے رہیںگے۔


ای پیپر