اداکار
03 اگست 2020 (22:55) 2020-08-03

ایرانی انقلاب سے پہلے کی بات ہے ایک مولانا عمامہ جبہ پہنے ’’اس بازار‘‘ میں گئے تب حالات امریکہ کی 42 سٹریٹ سے بھی کھلے تھے ۔ شو کیس میں نیم سی پوشاک مخصوص کیے ہوئی بازار میں بیٹھی عورت کو سر سے پاؤں تک دیکھ رہے تھے ان کی الٹراساؤنڈ کیا ایم آر آئی کرتی ہوئی نگاہیں دیکھ کر بازار میں کھڑی خاتون گویا ہوئی ’’مولانا قبلہ کیا دیکھ رہے ہیں، میں وہی ہوں جو نظر آ رہی ہوں مگر آپ وہ نہیں ہیں جو نظر آ رہے ہیں‘‘ یہ بہروپیہ پن اور اداکار کردار آج کی معاشرت کا المیہ ہی ہے۔

اداکار وہ ہوتا ہے جو وہ نہیں ہوتا مگر ہونے کی اداکاری کرتا ہے ہماری معاشرت کی تنزلی اور انحطاط کی نہ جانے کونسی سطح حد کہلائے گی ہم سبھی اداکار ہیں اور علی ظفر، نصیر الدین شاہ بلکہ دلیپ کمار سے بڑھ کر! بزدل بہادر کی، خائن دیانت دار، پرفارمر، عالم دین، سیاست دان محب عوام کی، کئی محب وطن کی، گفتگو فروش دانشور ، احسان فرماموش مہربان کی، بدطینت انسانیت کے علمبردار کی ، فاتر العقل عقل کل کی، سلیکٹڈ الیکٹڈ کی ڈاکو ڈاکٹر اور ڈانسر کاروباری ، مسیحا اور فنکاروں کی، مزدور مظلوم کی، ظالم منصف ، ویلاآوارہ نکھٹو خاندانی ہونے کی، منتقم محتسب کی، متکبر عاجز کی، عبادت فروش صوفی کی، خاوند کے حقوق سلب کرنے والی حقوق نسواں کی رہنما ہونے کی، برابری کا درجہ نہ دینے والے عورتوں کے حقوق کے وکیل ہونے، بخیل سخی اور نہ جانے کون ہے کیا ہونے کی اداکاری کو پیشہ اور پہچان بنائے ہوئے ہے یہ مصروفیت اس کا روزگار بھی ہے لیکن عام رویوں اور رشتوں میں بھی ہم بہت بڑے اداکار ہیں اور بعض نو بیاہتا لڑکیاں میکے میں جا کر سسرال کے ہاں بہت خوش رہنے کی اداکاری کرتی ہیں گو کہ ہماری معاشرت میں خاندان کو اکائی کی حیثیت حاصل ہے جبکہ یورپ میں فرد اکائی ہے لہٰذا ہماری معاشرت کی اساس اور مضبوطی اس کی اکائی یعنی خاندان کی مضبوطی میں نہاں ہے مگر یہ مضبوطی بہت سے لوگوں بلکہ یوں کہہ لیجیے کے ہر خاندان میں ہر فرد اپنے آپ پر زیادتی محسوس کرتا ہے اور اس حالت میں بھی جبکہ اس کا رویہ سرار زیادتی کرنے والے کا ہو ۔ بہو ساس سے کہیں خوش رہنے اور ساس زیادہ تر بہو سے خوش ہونے کی اداکاری کرتی ہیں کہ بھرم رہ جائے اور دیکھا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی غیب اور عیب جوئی محبوب مشغلہ ہے مگر جب ملاقات ہو تو رویہ برعکس بعض کنجوس یا غریب والدین کا بھرم رکھنے کے لیے لڑکیاں والدہ کو اس کے سسرال آ کر گفٹ دینے کے لیے خود گفٹ اور پیسے دیتی ہیں اور بعض جگہ پر یہی صورت حال مرد کی ہے۔ دوستی، بھائی چارہ، محبتیں سب کاروبار نہ بھی ہوں تو اداکاری میں ضرور بدل چکی ہیں اور اداکاری عیاری، مکاری، منافقت کی کوئی اگلی قسم ہے جس نے ہمارے معاشرے میں رواج اور ثقافت کا روپ دھار لیا ہے۔ خود ستائشی ، خوشامد پسندی تو پہلے ہی معاشرتی قدروں کو نگل چکی ہے اب بدخواہی الزام تراشی ، عیب جوئی ہمارے رویوں میں بطور پالیسی کی جگہ پا چکی ہے۔ کرپشن، بددیانتی ، بدکاری ، جعلسازی تو ماضی کا ایسا حصہ بنے جسے ہم بطور ثقافت قبول کر چکے ہیں اور اس پر سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں شاید لوگ ہماری اداکاری کو حقیقت سمجھتے ہیں۔ چلیں اداکاری لوگوں کی حد تک یقین دلانے تک رہے تو چند دن ، مہینے، سال گزر سکتے ہیں لیکن جب بندہ اپنی اداکاری کا خود شکار ہو جائے اور سمجھے میں جو اداکاری کر رہا ہوں میں حقیقی بھی ہوں تب اس کے expose ہونے اور ذلت کے دن اسے بہالے جاتے ہیں اور وہ وجہ تلاش کرتا رہتا ہے کہ اشرافیہ ظالم

ہے، مافیا ظالم ہے، ادارے درست نہیں، نظام خراب ہے، جب ایک نا اہل اپنے آپ کو اہل سمجھ بیٹھے جب احمق ، بخیل اور مفت بھر قوم کا نجات دہندہ بن بیٹھے اور وہ بھی ڈنڈے کے زور پر تو کیا وہ قوم آزاد قوم رہ جاتی ہے ہرگز نہیں وہ محض ترانوں نغموں میں آزاد نظر آئے گی۔ جو قومیں آزاد نہ ہوں وہ کبھی ترقی نہیں کر پاتیں۔ ہم فرد سے لے کر قوم تک آزادی کے ثمر سے واقف نہیں کیونکہ آزادی ملی نہیں ہم سرکاری نوکری ، رشوت، جعلی ایم پی اے، ایم این اے، قانون نافذ کرنے والے ادارے کے رکن بن کر سمجھتے ہیں ہم آزاد ہیں حالانکہ غور کریں خوشامد کی حدود کو شرم ناک حد تک پار کر کے اس مقام پر

اس نظام کے زیادہ تر افراد براجمان ہیں جہاں وہ نظر آتے ہیں۔ جو ایک جگہ عزت بنانے کے لیے سو جگہ بے عزت ہوتے ہیں۔ دوسری جانب شہرت کے پیکر ہر شعبے کے لوگ، حکمران طبقے ریاستی اداروں کے کرتے دھرتے پروٹوکول میں گھرے Icon کی علامتیں بنے لوگوں کی داخلی کیفیت حقیقی صورت حال آپ دیکھ لیں سمجھ لیں سن لیں جو ذاتی زندگی کے تمام رشتوں کو کھو چکے، داخلی جنگیں ہار چکے اور اندر سے شکست وریخت کا شاہکار بن گئے اور اس حد تک کہ اردو کا لفظ مبتلا ان کو اپنے معانی سمجھا گیا تو داتا دربار کے باہر مالش کرنے اور کرانے والا آپ کو خوش قسمت ترین جوڑا دکھائی دے گا اب اُن کی کہانی کیا عبرت رکھتی ہے یہ ایک نیا افسانہ ہو گا۔ مذہب، دانش ، عہدہ، گفتگو، تحریر حتیٰ کہ خاموشی بھی برائے فروخت ہے مگر اس اداکاری کے ساتھ لوگ اپنے آپ کو سچ سمجھ رہے ہیں۔ یہ فرد سے لے کر حاکم تک اور اصلی حاکم تک ایسا خناس ہے جس نے معاشرت کو برباد کر کے رکھ دیا نظام جو کہ معدوم ، منہدم بلکہ سرے سے موجود ہی نہ رہا اگر کوئی پہلو قائم ہے تو وہ صرف لوٹ مار کے ایسے عہدے جو اس آئین قانون نظام کے تحت حلف اٹھانے کے لیے ہوں، بس وہ قائمہیں۔ اگر نظام میں طاقت ہو تو اداکاری کا خاتمہ ہو گا جو ہماری انفرادی اور اجتماعی سوچ کو بدل دے گا زندگیاں آسان اور قومی تشخص اجاگر ہو گا۔ آزادی سے محظوظ ہوں گے اور ترقی بھی پائیں گے۔ اداکاری چھوڑئیے حقیقت میں جینا سیکھے اللہ مدد کرے گا راستے دکھائے گا۔لوگ کیا کہیں گے کہ چکر سے نکلیں۔المیہ یہ ہے کہ جس معاشرت میں بیٹیوں کو شادی کے بعد بھی بابل اور امبڑی (والدین) کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے بلکہ بیٹوں کو بھی وہاں مسلسل اداکار مسلط رہے اور ہیں جبکہ مہذب ممالک میں نظام اور حکومت وارث ہوا کرتی ہے۔


ای پیپر