ایک منٹ کی خاموشی سے کیا کشمیر آزاد ہوگا؟
03 اگست 2020 (22:54) 2020-08-03

آج بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی صورتحال گذشتہ ادوار کی طرح روایتی نہیں، وہاں کسی بھی وقت بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، گو کہ جنگ کسی طور پر خطہ کے مفاد میں نہیں تاہم پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر اپنی روایتی پالیسی اور روش کو بدلنا ہوگا، حکمرانوں کو رٹی رٹائی تقریروں سے نکلنا ہوگا۔ ہم 1947 سے کشمیریوں کیساتھ کھڑے ہیں، لاکھوں کشمیری شہید ہوگئے، ہم ساتھ کھڑے ہیں، ہزاروں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لٹ گئیں، ہم ساتھ کھڑے ہیں، ہزاروں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے، ہم ساتھ کھڑے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ زندہ کھڑے ہیں یا مردہ۔؟کیا اس طرح کی تقریروں سے کشمیر آزادہوجائے گا؟ سوچنے کی بات ہے کہ ہم جو کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہتے ہیں کیا وہ اس طرح اپنی شہ رگ دشمن کے ہاتھ میں دیکر زندگی گزار سکتے ہیں؟ کیا کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ اس لیے لگایا جاتا رہا ہے؟ کشمیری مائیں بہنیں کیا اس دن کے لیے پاکستان کو اپنا ملک سمجھ رہی تھیں؟کیا بوڑھا ضعیف و نزار سید علی گیلانی اس قسم کی ہمدردی کے لیے جوانی جیلوں میں گزارتا رہا؟

آج سے ایک سال قبل 5اگست کو بھارتی حکومت نے کشمیر پرغاصبانہ قبضہ کیا۔ اس قبضہ کو کشمیریوں نے تسلیم نہ کیا اورنہ ہی کبھی تسلیم کریں گے۔ بھارت نے تمام عالمی کنونشن اورمعاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کیا۔ اس حوالے سے پاکستان میں 5اگست کو یوم استحصال منانے کا فیصلہ کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 5 اگست کو یوم استحصال منانے کا اعلان

کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تحریک آزادی کیلئے کشمیری لیڈ کریں ہم پیچھے کھڑے ہیں کشمیریوں کی ترجمانی اور آواز دنیا بھر میں اٹھائینگے ، ہماری منزل سری نگر، ہماری نظر سری نگر پر ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام آبادمیں کشمیر ہائی وے کا نام 5 اگست سے سرینگر ہائی وے کردیاجائے گا.یہ شاہراہ ہمیں سرینگر تک لے کر جائے گی‘ نہ کشمیری جھکیں گے اور نہ پاکستانی افواج پیچھے ہٹیں گی‘سری نگر کی جس جامع مسجد میں تالے پڑے ہیں اس میں ملکر نماز شکرانہ ادا کریں گے ۔صبح 10 بجے ملک بھر اور آزاد کشمیر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اورسائرن بجائے جائیں گے ۔

اس حقیقت سے انکار نہیں پوری پاکستانی قوم حق خود ارادیت کے حصول کیلئے کشمیریوں کے ساتھ جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دھڑے بندیوں کے باوجود پوری قوم اور سیاسی جماعتیں کشمیر کے معاملے پر متحد ہیں،پاکستانی سیاسی جماعتوں میںتفرقہ پیدا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوئیں۔ پاکستانی عوام دل و جان سے کشمیریوں کے ساتھ ہے اور ساتھ رہے گی۔

5فروری کی طرح 5اگست کو بھی پاکستانی عوام پورے مذہبی اور انسانی جذبے کے ساتھ کشمیری عوام کا ساتھ دینے کے لیے سڑکوں پر نکلے گی مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس طرح ریلیاںنکالنے ، سیمنار کرانے اور نعرے لگانے سے کشمیر آزادہوجائے گا؟ کیا ایک منٹ خاموش رہنے سے انڈیا کشمیر چھوڑ کر بھاگ جائے گا؟ انڈیا تو چاہے گا کہ پاکستانی عوام و حکمران ایک منٹ کی بجائے سارے منٹ خاموش ہی رہے تاکہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے کہ انڈیا کشمیر میں کیا گُل کھلا رہا ہے۔

کشمیری عوام پاکستان کو اپنی آزادی کے لیے محمد بن قاسم سمجھتی ہے مگر افسو س یہ ہے کہ ہم کشمیریوں کے لیے زبانی کلامی خرچ کرتے ہیں لیکن عملی کام میں بہت دور ہیں۔اگر ہمیں اپنی شہ رگ آزاد کرانی ہے تو پھر بولڈ فیصلے کرنا ہونگے جیسے چین نے لداخ میں کیا۔ دنیا نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ریاستی دہشت گردی کرنے والا اگر کوئی ملک ہے تو وہ ہندوستان ہے۔ ہندوستان نے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔عالمی طاقتوں کو سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود کشمیر کے نام پر سب خاموش ہیں کیونکہ وہ مسلمان ہیںاور مسلمان ہونے کی سزا کشمیریوں کو دی جارہی ہے۔ اگر ایسا کچھ اسلامی ممالک میں ہوتا تو پھر امریکہ جیسے ملک اسلامی ممالک میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں جس کی مثال عراق، کویت اور افغانستان کی ہے۔

کشمیریوں کی آزادی کے لیے کوئی نہیں قدم اٹھائے گا اس کے لیے پاکستان کو ہی قدم اٹھا ناپڑے گا آج اٹھالے یا چند سال بعد کیونکہ بھارت مرمت کے بغیر ہماری شہ رگ نہیں چھوڑے گا۔امت مسلمہ کو چاہیے کہ سب ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوکر اپنے اچھے برے کی پہچان کریں ورنہ ہم مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر کافر فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

5اگست کو یوم استحصال منا کر ہم دنیا کو تو پیغام دے سکتے ہیں کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں مگر کشمیری بھائیوں کو مطمئن نہیں کرسکتے کیونکہ ایک سال گزرنے کے باوجود ہم کشمیر ی عوام کے لیے کچھ نہ کرسکے۔بس دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ ہماری کشمیری بھائیوں کی غیبی مدد کردے۔


ای پیپر