شاخ کے پہلو سے جو شاخ نکل آئی ہے
03 اگست 2020 (22:53) 2020-08-03

دیہاتی بڑے سادہ لوح ہوتے ہیںاور نیت کے بڑے صاف ہوتے ہیں۔ چور چوری کرنے کے لیے ایک دیہات میں جاپہنچا اور ایک ایسے گھر کو نشانہ بنایا جہاں ایک بوڑھا اور ایک بڑھیا رہتی تھی۔ رات کا وقت تھا چور نے پہلے تو خود ایک کمرے پر مشتمل گھر کی تلاشی لی جب کچھ نہ ملا تو دونوں میاں بیوی کو اٹھا کر دھمکی دی کہ جو کچھ ہے وہ مجھے دے دو ورنہ دونوں کو مار دونگا۔ بوڑھے نے ادھر اُدھر دیکھ کر باوجود گھر میں کچھ نہ ہونے کے بڑھیا کو آواز دی۔ میری ہیرے والی انگوٹھی کہاں رکھی ہے۔ بڑھیا بھی اشارہ سمجھ کر گویا ہوئی کہ آلے میں پڑی ہے۔ (آلہ) دیہات میں بکس اور لاکر کے رواج سے پہلے دیوار میں چھت سے تھوڑا نیچے ایک ایک گول شکل میں روشن دان بنایا جاتا تھا جس میں قیمتی اشیا رکھی جاتی تھی۔چور نے جلدی سے چارپائی روشن دان کے قریب لگائی اور اندھیرے میں روشن دان میں انگوٹھی دیکھنے لگا جب کوئی چیز نہ ملی تو ہاتھ کو پورے روشن دان میں گھمایا۔ جب ہاتھ اوپر والی سائیڈ پرلگا جہاں سردیوں کے موسم میں بِھڑوں (کاٹنے والے حشرات) نے خوب پرورش پا کر ایک اچھی خاصی فوج تیار کر رکھی تھی۔ اندھیرے میں خطرہ محسوس کر تے ہوئے چور پر بھر پور حملہ کیا سراپا چمٹ گئیں۔ چور چیختے ہوئے سرپٹ بھاگ رہا تھا۔

موجودہ صورت حال ایسی گھمبیر ہو چکی ہے کہ کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ کس طرف دیکھیں، کس طرف سوچیں، کس طرف جائیں اور کس کو مسیحا جانیں؟ کس کو کہیں کہ

ہماری جلتی ہوئی پیشانی پر ہاتھ رکھے؟ میں نے اپنی حیات میں پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ ہر روز کا نیا قانون اور قاعدہ ہے ۔ ہر روز کا بھاؤ ہے، ہر روز منڈی اور دکاندار اپنا بھاؤ مقرر کرتے ہیں۔ ہر روز غریب کو لوٹنے کی نئی تراکیب سوچی جاتی ہیں۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور کوئی سننے اور دیکھنے والا نہیں ہے۔ جب گندم اپنا مطلوبہ ہدف پورا کر چکی ہے تو آٹا مہنگا کیوں ہے؟ آخر وزیر خوراک کس مرض کی دوا ہے؟ چینی مافیا بے نقاب ہو چکا ہے توچینی مہنگی کیوں ہے؟ ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کیوں نہیں ہے۔ محکمہ شاہراہ کس مرض کی دوا ہے؟ موجودہ سڑکوں کو مرمت کیوں نہیں کیا جاتا؟ پنجابی زبان کا ایک اکھان ہے۔ جب صورت حال ہی کنٹرول سے باہر ہو جائے تو ہر شخص لاقانونیت ہی بہتی ہوئی گنگنا میں اپنے ہاتھ دھونے لگتاہے۔

میں ایک بات عرض کرتا چلوں، عمران خان کی ہمت اور ایمانداری میں کوئی شک نہیں ہے۔ وہ باہمت اور ایماندار شخص ہے مگر عمران خان سیاست دان اور سیاسی باصلاحیت شخص نہیں ہے۔ عمران نے کنٹینر پر جو نعرے لگائے اس کا مقصد صرف عوام کو چکما دینا اور عوام کی ہمدردی حاصل کرنا تھا۔ اگر عمران خان عوام کی امیدوں کے چراغ نہ جلاتا، اندھیروں میں روشنی کا تصور نہ دیتا، کٹھن مرحلوں میں منزل کا تعین نہ کرتا، ہمت اور حوصلے کی تلقین (گھبرانا نہیں) نہ کرتا تو عمران خان کبھی فتح یاب نہ ہوتا۔ عمران نے جیتنے کے لیے یہی حربہ استعمال کیا اور عوام کے جذبات کی وکٹ اڑا کر اپنی کامیابی کا چھکا لگا دیا۔ عمران خان نے عوام کی دکھتی ہوئی رگ کو بھانپ کر سچائی کا عمل اپنے تجربے میں ڈالنا شروع کر دیا۔ کیونکہ 20 کروڑ عوام کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ 20 کروڑ عوام ایک ہی کرب سے گزر رہی تھی۔ اٹھارہ کروڑ عوام ایک ہی دکھ کو گلے لگائے ہوئے تھے۔ اس طرح خان اس عوام کو اپنی ڈھب میں چڑھانے پر کامیاب ہو گیا اور اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں کامیاب ہو گیا۔ عمران خان کے ساتھی جو دراصل پچھلی حکومتوں کے ’’تجربہ کار‘‘ اور نامی گرامی لٹیرے تھے، اس حکومت میں بھی اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب ہو گئے اور بقول مسعود احمد

خود کو صادق امین سمجھا ہے

اس قدر ہم نے دین سمجھا ہے

اتنا جغرافیے سے واقف ہیں

روس کو ہم نے چین سمجھا ہے

مگر ایک بات دوام صرف اللہ کی ذات کو ہے۔ اور مستقل حکومت اللہ کی ہے۔ اس چار روزہ زندگی میں صرف دو دن آرزو کے ہیں اور دو دن انتظار کے ہیں۔ بدنصیبی کی حالت یہ ہوتی ہے کہ بادشاہ بھی اس قدر گڑ گڑا کر دعا مانگتے ہوئے نظر آئے کہ اسے دفن کے لیے اپنے دیار میں جگہ مل جائے۔ ایک دن یہ آنا ہے کہ انہوں نے انگوٹھی چوری کرنے کے لیے آلے میں ہاتھ ڈالنا ہے کہ قدرت کے ’’حشرارت الارض‘‘ نے ان کے ہاتھوں کو ڈس لینا ہے۔

شاخ کے پہلو سے شاخ نکل آئی ہے

ہو بہو ویسی ہی گستاخ نکل آئی ہے


ای پیپر