اصل چوراورڈاکوہم تونہیں…؟
03 اگست 2020 (22:52) 2020-08-03

’’آپ،اس،وہ،اور، تم، جیسے الفاظ پرہماری زبانیں اورقلم توہمیشہ تیرکی طرح چلتے ہیں لیکن بات جب ’’ہم‘‘پریا،ہم ،جیسے کسی دوسرے پیارے لفظ کی تقدس اورحرمت کی آتی ہے تواس وقت پھرہماری یہی زبانیں گونگے کی طرح بنداورقلم سوکھی لکڑی کی طرح خشک ہوجاتے ہیں۔دوسروں کوایک منٹ میں سرسے پائوں تک ننگاکرکے دھونا تو ہمارے بائیں ہاتھ کھیل لیکن معذرت کے ساتھ بات جب ،،ہم،، پرآئے توپھراس وقت ہمیں عزت اوروقارکابرسوں سے بھولا ہوا سبق اچانک یادآجاتاہے۔دوسروں کو چور اور ڈاکو تو ہم سب کہتے ہیں لیکن اپنے بارے میں اس طرح کے توہین آمیزاورگھٹیاالفاظ ہمیں ذرہ بھی پسندنہیں حالانکہ پوری دنیا کو پتہ ہے۔اس سرسبز وشاداب چمن کواجاڑنے میں ہاتھ و کردار ہمارا بھی کچھ کم نہیں۔ صرف حکمران چورہوتے یاصرف سیاستدان لٹیرے بنتے۔پھربھی کوئی بات نہیں تھی لیکن یہاں توآوے کاآواہی بگڑا ہوا ہے۔ ہمار ے سمیت اس ملک میں کونساشخص یاکونسی شخصیت ایسی ہے جولوٹ مار،چوری چکاری،بددیانتی ،کرپشن اور کمیشن کے گناہ سے پاک ہو۔اورتواور۔ہمارے وہ چھوٹے چھوٹے بچے جن پرشرعی اورقانونی حدوں کا اطلاق بھی ابھی نہیں ہوتا۔ کمیشن کے چکروں، فکر اور خیالوں سے تووہ بھی آزادنہیں۔کسی نے ٹھیک کہا۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ حقیقت میں ہم جوکچھ کررہے ہیں۔ آخرت تو دور۔ اس دنیامیں ہی اس کوبھررہے ہیں۔ ہم چورنہ ہوتے۔ ہم ڈاکونہ ہوتے۔ تو کیا۔؟ ہمارا چوروں اور ڈاکوئوں سے اس طرح روز روز واسطہ اورناطہ پڑتا۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواء کی۔ افسوس کا پہلو تو یہ ہے کہ مرض توبڑھتاگیاپر ہم نے اپناعلاج بھی تونہیں کرایا۔ کاش ہم لوٹ مار، چوری، ڈاکہ، راہزنی، بددیانتی، غیبت ،جھوٹ، فریب، دھوکہ ، بغض، حسد، کرپشن اورکمیشن کوایک باربھی کروناکادرجہ دے دیتے توآج ہماری یہ حالت نہ ہوتی۔ لوٹ مار، چوری، ڈاکہ،راہزنی سمیت ان دیگر جن بیماریوں اوروبائوں میں ہم مبتلا ہیں۔ درحقیقت یہ ساری کرونا کیا۔؟ کروناکے باپ اورداداسے بھی زیادہ حدسے بھی زیادہ خطرناک ہیں مگرہمیں اس کاعلم اوراندازہ نہیں۔ کرونا کی بیماری سے زیادہ سے زیادہ ایک جان جاتی ہے لیکن ہمیں لگی ان بیماریوں سے جان اور اس جہان کے ساتھ آخرت بھی ہاتھ سے جانے کا سوفیصد خطرہ ہے۔ حکمرانوں ،سیاستدانوں اور بیوروکریٹ کو چور چور اور ڈاکوڈاکوکہہ کرگالیاں

توہم روزدیتے ہیں لیکن اپنے اندرچھپے چوروں اورڈاکوئوں کی ہم نے کبھی ایک باربھی کوئی خیرخبرنہیں لی۔ماناکہ حکمرانوں اورسیاستدانوں جتنے بڑے چوراورڈاکوتوہم نہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت کہ اپنے سائے اورقدسے بڑے چوراورڈاکوہم سب ضرور ہیں۔سچ تویہ ہے کہ یہاں جس کا جتنا وس اوربس چلتاہے ۔وہ اتناہی ہاتھ مارتاہے۔یہ اقتداراورقومی خزانے کی رکھوالی اگرہمیں مل جائے توآپ یقین مانے لوٹ ماراورچوری چکاری میں ہم ان حکمرانوں اورسیاستدانوں کوبھی پیچھے چھوڑدیں گے۔کوئی بے شک اپنے آپ کوحاجی صاحب کہے۔ کوئی عابد، متقی اور بڑا پرہیزگار۔ سچ بس یہی ہے کہ معاف کرنے والے ہم بھی نہیں۔لوگ ماتھے پرمحراب بناتے ہیں آخرت سنوارنے کے لئے اورہم ماتھے رگڑتے ہیں لوگوں کولوٹنے اور دنیاکمانے کے لئے۔جہاں نیچے سے اوپرتک سسٹم ہی ڈنگ مارنے کاہو۔وہاں پھرنہ کوئی ولی ہوتاہے اورنہ ہی کوئی والی۔سب اردلی بن کر کاٹنے اورچاٹنے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔ جہاں آستینوں میں بھی سانپ اور قدم قدم پر راہزن بیٹھے ہوں وہاں پھرکسی سے گلہ،شکوہ اور شکایت کیا۔۔؟ چنددن پہلے ایک دوست ملے۔کہنے لگے جوزوی صاحب ہم سمجھتے تھے صرف اوپر چور اور ڈاکو بیٹھے ہیں لیکن یہاں توآوے کاآوا ہی بگڑاہوا ہے۔ اوپر کیا۔؟یہاں تونیچے بھی چوروں اورڈاکوئوں کے استادنت نئے ریکارڈبنانے میںلگے ہوئے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والاایک واقعہ بیان کیا۔ کہنے لگے کچھ دن پہلے گھرکے تزئین وآرائش کے لئے رنگ وروغن کاکام لگا ہوا تھا۔ کام کرنے والے پینٹرز کو پینٹ بنانے کے لئے ترپین کی ضرورت تھی۔ترپین ڈھونڈنے سے بھی نہ ملنے پرایک جگہ سے مٹی کاتیل لینے کافیصلہ کیا۔تیل لینے کے لئے جب ورکشاپ یادکان پر پہنچا تو دکان والے نے کہاکہ شاپرمیں تیل لے جانارسک ہوگا۔قریب کباڑکی دکان ہے آپ وہاں سے چارپانچ لیٹرکی کوئی بوتل لیکرآئیں ۔اس میں لے جانا۔کہتے ہیں میں کباڑیئے کے پاس گیا۔بوتل کاپوچھا۔پانی کی وہ بوتل جوکباڑیئے گلی ،محلوں اورگھروں سے بچوں کودوتین روپے دے کرلیتے ہیں ۔اس کاشکرانہ اس کباڑیئے نے ڈیڑھ سوروپے بتایا۔میں نے کہا۔میں نے اس میں بس ایک تیل ہی لیکرجاناہے،اس کے بعدپھینک دیناہے۔ کوئی بیکاراورسستی بوتل ہوتووہ دیں۔کباڑیئے نے آگے سے کہا۔آپ اس میں تیل لیکرجائیں یاشہد۔؟وہ آپ کی مرضی۔میرے پاس یہی بوتل ہے اورکوئی نہیں ۔کہتے ہیں خیرمیں کباڑیئے کواس بوتل کے سوروپے دیکروہاں سے تیل والی دکان پرپہنچا۔دکاندارنے بوتل کودیکھتے ہوئے پوچھا۔کتنے کادیا۔؟میں نے کہاسوروپے کا۔؟اس نے اف توبہ کہتے ہوئے کانوں کوہاتھ لگائے۔کتناظلم ہے اس ملک میں۔یہ کہہ کراس نے کہامیرے پاس بوتل ہے میں اس میں تیل دے کرآپ کودے دیتاہوں ۔آپ جاتے ہوئے یہ کباڑیئے والی بوتل اس کوواپس کردیں ۔کہتے ہیں پانچ لیٹرتیل کے پیسے دیکرمیں وہاں سے نکلا۔راستے میں کباڑیئے کوبوتل واپس دیکرسوروپے بھی لے لئے۔ابھی میں گھرکے قریب پہنچاہی تھاکہ میری نظراچانک بوتل پرپڑی جس پر3لیٹرکالیبل لگاہواتھا۔تین لیٹروالی بوتل میں اس دکان والے نے مجھے پانچ لیٹرتیل کس طرح دیا۔۔؟میں کبھی بوتل کودیکھتااورکبھی دکان والے کی اس کرامت پر سوچتا۔ کباڑیئے نے توسوروپے کاچونالگایاتھامگراحسان تو نہیں جتلایاتھا۔اس دکان والے نے تو احسان جتلا کربھی ڈھائی سوروپے کاٹیکہ لگایا۔جوزوی صاحب۔ اب آپ خود سوچیں۔ جہاں اس طرح قدم قدم پرچوراورڈاکوبیٹھے ہوں وہاں پھراللہ کی رحمت اوربرکت کیسے آئے گی۔۔؟آج لوگ حکمرانوں اورسیاستدانوں کو چوراورڈاکوکہہ کرگالیاں تودیتے ہیں لیکن اپنے یہ سیاہ کرتوت، چوری اورچکاریاں کسی کو نظر نہیں آتیں۔ ہر شخص اپنی جگہ اپنے آپ کو بڑا ایماندار، دیانت دار اور فرشتہ سمجھتاہے لیکن اندر سے چندایک کے علاوہ کوئی ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔سچ پوچھیں تواس ملک میں صرف حکمران اور سیاستدان چوراورڈاکونہیں۔یہاں ہرشخص ایمانداری اور دیانت داری کے کپڑے پہن کر چور اور ڈاکو بنا پھرتا ہے۔ جس کے جتنے بڑے ہاتھ، جتنا اختیار۔ جتنی طاقت اورہمت ہے۔وہ اس قدرہی چوراوربے ایمان ہے۔ اگر کسی کے ماتھے پرلکھاہوتاکہ یہ چور اور ڈاکو ہے۔ توآپ یقین جانیئے۔ یہاں صرف حکمرانوں اور سیاستدانوں کے نہیں بلکہ بائیس کروڑمیں سے بیس کروڑ ان غریبوں کے ماتھے بھی آپ کوڈھونڈنے سے کبھی نہ ملتے۔ یہ سارے اپنے دکانوں، ہوٹلوں، شاپنگ سنٹرز، ملک شاپ، ورکشاپس ، ہاسپیٹلز، سکولز اور شورومزکی طرح آپریشن کے ذریعے اپنے ماتھوں پر بھی مکہ، مدینہ، حاجی، عابد، متقی اور نمازی کے بورڈ لگا دیتے۔ جہاں ایسے نمازیوں، ایمانداروں اور امانت داروں کی بہتات ہو۔ وہاں کے لوگوں کوپھرحکمران بھی ایسے ہی نمازی، ایماندار اور امانت دارملتے ہیں۔ حکمرانوں اورسیاستدانوں کو چور چور کہنے سے پہلے ہمارے جیسے ایمانداروں کوکم ازکم ایک بار اپنے گریبان میں بھی ضرور جھانکناچاہیے ۔کہیں اس ملک اورقوم کولوٹنے والے اصل چوراورڈاکوہم خود تو نہیں۔۔؟


ای پیپر