صنعت لوٹا گردی اور دانشوران عظیم
03 اگست 2019 2019-08-03

کچھ ارباب فہم و دانش اور صاحبان قلم نے سوال اُٹھایا ہے کیا کوئی رکن اسمبلی یا سینیٹر پارٹی قیادت اور اس کے مسلط کردہ ڈسپلن کا اتنا غلام ہو سکتا ہے کہ فیصلہ سازی کے ہر موقع اور ووٹ ڈالنے کے ہر مرحلے پر روبوٹ بن کر حرکت کرتاہوا ان کے حکم کے مطابق مہر لگا دے…اسے آزادی کے ساتھ حق رائے دہی کا موقع نہ ملے اور ضمیر کو کچل کر رکھ دے… اگر مسلم لیگ (ن) ،پیپلزپارٹی اور ایک دو دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 14 سینیٹرز نے اپنی اپنی جماعت کی قیادت کے فیصلوں کے برعکس خفیہ رائے شماری کے ذریعے آزادی کے ساتھ ووٹ ڈال دیا ہے تو کونسا قومی جرم کیا ہے… انہیں بکاؤ مال کیوں کہا جا رہا ہے اور ضمیر فروشی کا طعنہ کس لیے دیا جا رہا ہے… اس سوال کی تہہ کے پیچھے جو جذبہ یا خیال کارفرما ہے، اس سے قطع نظر معروضی لحاظ سے بھی جانچ پرکھ کی جائے تو پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان سینیٹروں کو اگر اپنی قیادت کے فیصلے سے اتنا ہی اختلاف تھا تو اس کا کھل کر اظہار کیوں نہ کیا… انہوں نے کس بنا پر پارٹی کے حق میں ووٹ نہ دینے کے ارادے کو چھپا کر رکھا… اگر جواب یہ ہے کہ خفیہ رائے شماری ہوتی ہی اس لیے ہے کہ ووٹر اپنے دل کے ارادے کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دے تو پھر جب ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے آدھ گھنٹہ پہلے باقاعدہ اجلاس کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ قرار داد عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینا چاہتے ہیں تو وہ پوری جماعت اراکین کے ساتھ مل کر کیوں کھڑے ہو گئے اور کھلے عام پیغام دیا کہ وہ قیادت کے فیصلے کی پابندی کرتے ہوئے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف ووٹ ڈالیں گے… اگر ان کا ضمیر اتنا ہی بیدار تھا اور آزادانہ فیصلے کی تمنا اتنی بیتاب تھی تو اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی… ملک کے سب سے زیادہ باوقار اور وفاق کی علامت جیسے محترم اور منتخب ادارے کے اندر ببانگ دہل ایک اعلان کیا… پوری قوم نے اسے سنا مگر بیلٹ بکس کے پاس جا کر اور ووٹ کی پرچی ہاتھ میں لے کر اس کے برعکس رائے دے دی… کیا کسی روشن ضمیر اور سچے آدمی کا یہی وتیرہ ہوتا ہے دھوکہ دہی کی واردات کرے… تمام ساتھی سینٹروں کی موجودگی میں اور سیٹ پر باقاعدہ کھڑے ہو کر روبوٹ بن جائے… تنہائی میں مہر لگانے کا موقع ملا تو آزادیٔ فکر و عمل سے حاصل ہونے والی روشنی طبع کی بدولت مخالف جماعت کی کامیابی کی راہ ہموار کر ڈالے … اب جو الزام لگائے جا رہے ہیں کہ کروڑ ہا رویوں میں بک گئے یا اتنے سخت دباؤ میں آ گئے تھے کہ طاقتوروں کے حکم کے آگے جھک گئے کم از کم اپنے اوپر اتنی بڑی تہمت تو نہ لگنے دیتے… ’’شفاف‘‘ کردار کو داغدار تو نہ ہونے دیتے… لازم ہے کھل کر سامنے آئیں، سینہ تان کر اہل وطن کو بتائیں کہ انہیں پارٹی کے مجموعی فیصلے کے خلاف سخت اختلاف تھا لہٰذا اپنی پارٹی کو شکست فاش اور شرمندگی سے دوچار کرنے میں عار محسوس نہ کی… ان کے نزدیک صادق سنجرانی صاحب کو جنہیں کوئی سوا ڈیڑھ سال پہلے ’’اوپر‘‘ والوں نے ایوان بالا کا چیئرمین بنوایا تھا عہدے سے فارغ کرنا اسٹیبلشمنٹ کی مہر والے ’قومی مفاد‘ کی خلاف ورزی تھی… یوں انہوں نے اپنی آزاد خیالی اور روشن ضمیری کا حق ادا کرتے ہوئے اس جماعتی قیادت سے جس نے انہیں سینیٹر بنوایا تھا بغاوت کا راستہ چنا اور وہ ان کی سرکشی کی بدولت

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا

آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

کی تصویر بنی بیٹھی ہے … اختلاف تو ہر کسی کو اپنی جماعت، حکومت یا قوم کے اجتماعی فیصلے سے ہو سکتا ہے لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اقوام متحدہ میں ہمارا نمائندہ کسی مسئلے پر خفیہ رائے شماری کے ذریعے مخالف کیمپ کی قرار داد کے حق میں ووٹ ڈال کر کہے چونکہ مجھے اپنی حکومت کے فیصلے سے اختلاف تھا اور روشن ضمیری تقاضا کرتی تھی کہ اس کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزادیٔ رائے کے ساتھ دوسری جانب ووٹ ڈال دوں… اگر کسی کو ضمیر کی خلش اتنا ہی تنگ کرتی ہے تو اس کے لیے مناسب اور باعزت طریق کار یہ ہے استعفیٰ دے کر پارٹی سے علیحدگی حاصل کر لے… اور اگر قواعد و ضوابط اجازت دیں تو آزاد رہ کر یا فلور

کراسنگ کر کے ووٹ کا حق استعمال کرتا رہے ورنہ سیٹ خالی کرے اور اس پر بنا انتخاب ہو… آخر امریکہ میں بھی تو سینیٹ اور ہاؤس آ ف ری پبلکنز کے اراکین پارٹی کے مجموعی فیصلے کے خلاف ووٹ دے ڈالتے ہیںلیکن وہ یہ کام کھلم کھلا اور علی اعلان کرتے ہیں… خوفزدہ ہو کر اور تنہائی میں جا کر نہیں لہٰذا کسی کو شکایت نہیں ہوتی کوئی ان پر تنقید نہیں کرتا… اگر پاکستان میں 1973ء کے متفق علیہ آئین کے تحت واقعی پارلیمانی طرز جمہوریت رائج ہے تو اس کا سیدھا سادہ اصول یہ ہے آپ پارٹی کے اجلاس کے اندر کھل کر اختلاف رائے کا اظہار کریں… اپنے دلائل کی قوت سے سب کو ہم خیال بنانے کی کوشش کریں… اگر کامیابی نہیں ملتی اور اراکین کی اکثریت کا فیصلہ آپ کی رائے کے برعکس سامنے آتا ہے تو اس کا اتباع کرنا اور اس کے مطابق ووٹ ڈالنا آپ کا فریضہ ہے… اس سے فرار کی راہ اختیار کریں گے تو لازما اس کا محرک آزادیٔ رائے یا نام نہاد روشن ضمیری کے علاوہ کچھ اور ہو گا… اور اب جو حقائق سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں تو ان میں ایک معتبر رپورٹ نامور تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کی شائع ہوئی ہے جس میں بروایت مشاہد حسین بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک رات قبل پیپلزپارٹی کے چوٹی کے لیڈر کو ایک مشہور کاروباری شخصیت کے ذریعے پیغام بھیجا گیا کہ صادق سنجرانی کو شکست سے بچاؤ ورنہ سندھ میں اپنی حکومت کی خیر مناؤ… علاوہ ازیں دوسری رعایات سے بھی ہاتھ اٹھا لیا جائے گااور سختیوں میں اضافہ ہو جائے گا… اس کے بعد ووٹنگ کا جو نتیجہ برآمد ہوا اس کا محرک مقتدر قوتوں کی طاقت کی کارفرمائی اور روپے پیسے کی ترغیب کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا… ایک دلیل یہ بھی بڑے کروفر کے ساتھ دی جا رہی ہے چونکہ فلاں وقت پر نواز شریف نے چھانگا مانگا میں اور بینظیر بھٹو نے مری میں لوٹوں کی حد سے زیادہ میزبانی کر کے ان کے ووٹ اپنے حق میں ڈلوانے کا اہتمام کیا تھا لہٰذا اب وہ کس منہ سے عمران خان حکومت کو دوش دیتے ہیں… پہلی بات یہ ہے اگر نواز شریف اور بینظیر نے کبھی کوئی غلط کام کیا تو عمران خان کے لیے کیسے جائز اور لازم ہو گیا ہے کہ اسی گندگی میں ہاتھ ڈالے… اور اپنے دامن پر ایک دو یا تین نہیں چودہ سیاہ دھبے لگا لے …کل کلاں کسی اور نے اسی جواز کا سہارا لے کر عمران خان کو چاروں شانے چت کر کے رکھ دیا تو کیا جواب دیں گے… انگریزی زبان کا مشہور محاورہ Two wrongs do no make one right اسی بات کی غمازی کرتا ہے کہ کسی ایک بھی غلطی کو جواز بنا کر دوسرے کے گناہ کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا مگر اصل مسئلہ نواز شریف، زرداری یا عمران کا نہیں، اس مملکت خداداد اور وطن عزیز کا ہے… جہاں آج کل مالی بدعنوانیوں کا تو بہت شور و غوغا ہے لیکن پرلے درجے کی لوٹا گردی کے ذریعے جو سیاسی کرپشن کی جاتی ہے اور اس کی سرپرستی ملاء اعلیٰ سے بھی ہو رہی ہے… وہ ملک و قوم کو کہاں لے جا کر کھڑا کر دے گی اس کی جانب سوچنے کی کوئی زحمت گوارا نہیں کرتا … سیاستدان تو ایک دوسرے کے ساتھ طعنہ بازی کرتے رہتے ہیں مگر حیرت ان دانشوران عظیم پر ہے جو اپنی روشنی طبع کا اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ ان کی قلم و بیانات تمام تر بے اصولیوں کے حق میں دلائل کا انبار لگاتے نہیں تھکتے…

مگر یہ آج کی کہانی تھوڑی ہے… 1937ء میں جب 1935ء کے رمزے میکڈونلڈ ایکٹ کے تحت ہونے والے انتخابات ہوئے جسے سعادت حسن منٹو نے اپنے ایک افسانے ’’نیا قانون‘‘ کا سر عنوان دے کر ادبی شہریت دوام دے دی تو متحدہ ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی کے انتخاب میں کانگریس کے مقابلے میں قائداعظمؒ کی زیر صدارت آل انڈیا مسلم لیگ کو صرف دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی… اُن میں سے ایک رکن ڈاکٹر محمد عالم نے اسی طرح کی روشن ضمیری اور آزادیٔ رائے کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاداری تبدیل کر لی… ان کے دم قدم سے ہی سیاسی لوٹے کی اصطلاح وضع ہوئی اور موصوف ڈاکٹر عالم لوٹا کہلوائے… تب پنجاب میں وقت کی انگریز اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں قائم ہونے والی یونینسٹ پارٹی کی حکمرانی تھی… اسی جماعت کے لیڈر سر سکندر حیات متحدہ پنجاب کے وزیراعظم اور سلطنت انگلشیہ کے پروردہ مسلمانوں اور ہندوؤں سکھوں کے درمیان متحرک سیاسی شخصیت تھے… ہمارے عظیم صوبے میں انگریزی راج کے تحت ان کی شخصیت کے اثرو رسوخ کایہ عالم تھا ایک مرتبہ قائداعظم لاہور آئے… خوف کے مارے کوئی انہیں اپنے گھر ٹھہرانے کے لیے تیار نہ تھا … ایک رات قیام کی خاطر ہوٹل میں کمرہ حاصل کرنا پڑا… سر سکندر حیات اور ان کی یونینسٹ پارٹی نے یہاں کی سرزمین پر لوٹا گردی کا جو بیج بویا اس کی فصل ہماری اسٹیبلشمنٹ اور طاقتور حکمرانوں نے قیام پاکستان کے بعد کئی بار کاٹی ہے… میجر جنرل سکندر مرزا کی ری پبلیکن پارٹی یونینسٹوں کا نیا روپ تھا… جنہوںنے آگے چل کر پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایوب خان کی کنونشن لیگ کی صورت میں اس روایت کو بہت پروان چڑھایا… پھر ضیاء الحق اور مشرف جیسے ڈکٹیٹروں نے اپنی اپنی مسلم لیگیں قائم کر کے اسی کا پھل کھایا… 2018ء کے انتخابات کے موقع پر سیاسی لوٹوں کی اگلی نسل کو نئی خلعت فاخرہ پہنائی گئی اور انہیں Electables کے نام سے مزین کیا گیا… مشرف کے وابستگان، پیپلزپارٹی کے کیمپ سے دوڑیں لگانے والے اور نواز شریف سے وفاداری کا رسہ توڑنے والے سب کو عمران خان نے اپنے دامن میں بٹھا کر بظاہر نئے دور کا آغاز کیا ہے اوپر ان کے مگر سایہ عاطفت کسی اور کا تھا… جس کی وجہ سے بہت راحت محسوس کرتے تھے… اب جو یکم اگست کو متحدہ اپوزیشن نے سینیٹ کے چیئرمین جناب صادق سنجرانی کے خلاف قرار داد عدم اعتماد پیش کرنے اور ایوان سے منظوری حاصل کرنے کا بیڑہ اٹھایا تو لوٹوں نے پھر اپنا رنگ جمایا… 64 کی اکثریت کو 36کے مقابلے میں ذلیل و خوار کرایا… تحریک انصاف تو اس پر فطری طور پر شاداں نظر آتی ہے مگر ہمارے کچھ دانشوروں کا ضمیر اس کار عظیم کے حق میں اس طرح جاگ اُٹھا ہے… ان کے رشحات قلم اور زبان و بیان کی نادر صلاحیتوں نے روشنی طبع کے وہ گل کھلائے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ارادوں کو نئی تقویت اور عزائم کو مہمیز ملتی معلوم ہو رہی ہے…


ای پیپر