…نامِ زنگی کافور
03 اگست 2019 2019-08-03

نجانے کیا مجبوری ہے کہ آئے دن شہ سرخیوں میں ’ریاست مدینہ‘ کا جھنڈا لہراتے وزیراعظم نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ’برعکس نہند نامِ زنگی کافور ‘ والا معاملہ ہے۔ حبشی سیاہ فام کو (چٹا سفید) کافور کا نام دینا۔ سپین کی فتوحات کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ فاتح مسلم فوج کا ایک سپاہی حبشی تھا جو سپینیوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ انہوں نے یہ سمجھ کر کہ یہ میلا کچیلا ہے (حبشی کبھی دیکھا نہ تھا) اسے صابن سے نہلا نہلا ہلکان ہوتے رہے۔ فرق نہ پڑا۔ یہاں بار بار ’ریاست مدینہ‘ کا چرچا کیا جانا ایسی صورت میں جب ڈھونڈے سے، خوردبین، دور بین، الیکٹرون مائیکرو سکوپ سے دیکھ مارئیے دور دور کوئی مماثلت ادنیٰ ترین درجے میں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ چہ معنی دارد؟ یہ بھی ایک ایجنڈہ ہے کہ اسلامی اصطلاحات کو رگڑا جائے کہ وہ اپنی وقعت کھو دیں۔ جیسے صادق، امین کی اصطلاح کو ارکان پارلیمنٹ کے سیرت و کردار پر رکھ کر میلا کیا گیا۔ وہ صفات جو سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب تھیں۔ عظمتِ کردار کی وہ علامت جس پر بدترین دشمن بھی گواہ تھے انہیں اخبار و رسائل، میڈیا میں گھسیٹا گیا۔ ہم اذیت کے چرکے سہتے رہے۔ اتنا چرچا ہوا کہ صادق، امین کے ذکر پر کرپشن کی داغداری اور سیاسی لوٹا پن بچے بچے کو ذہن نشین ہو جائے۔ اب باری ہے ریاست مدینہ کی۔ ریاستی سرکار کے ولی عہد، یہودی ننھیال کی گود میں پلیں اور یہ ریاست مدینہ ہو۔ اصلاً جس ریاست کے حکمران، سپہ سالار، مسجد نبوی کے امام، خود امام الانبیاء، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ (اس کا تو نام لیتے صاحب ایماں پر لرزا طاری ہو!) اور بعد ازاں عالی شان ایمان کے کوہ گراں خلفائے راشدین ہوئے؟ چہ نسبت…؟ وہاں تو حکمران ہی مرکزی مسجد کے امام ہوا کرتے تھے۔ یہاں تو عیدین پڑھتے بھی کبھی دیکھے نہ گئے۔ کسی بھی مسجد میں آمد کا تو تذکرہ ہی کیا وہاں اقامتِ صلوٰۃ، اتیائے زکوٰۃ، سود سے پاک معیشت ، قوانین الٰہی کا نفاذ، جہاد فی سبیل اللہ کے کم و بیش 67 مرتبہ لشکر کشی کرتے صحابہ، اختلاط سے پاک معاشرہ ، پردہ حجاب کی پاکیزگی سے معطر ماحول، اشاعتِ فحش جرم… غرض ’ریاستِ مدینہ‘ کیا تھی سرتا سر قرآن و سنت، شریعت مجسم برسرزمین تھی! رومن ایمپائر کے خلاف جنگ موتہ اور غزوہ تبوک تھا۔ (یہاں دورے کی خوشیاں!) کفار قریش، فتح مکہ سے زیر ہو چکے تھے۔ اگرچہ پیٹ پر فاقوں سے پتھر بندھے تھے مگر کفر سے دوستی، مدد طلبی، کشکول درازی کی جگہ باطل کا سر توڑا جا رہا تھا۔ یہاں جہاد، دہشت گردی ہے اور ہم عالمی کفری اتحاد کے شانہ بشانہ!سیرت سے نا بلد ہونے کی حد تو ہو! تاریخ اسلام، قرآن سے بے بہرہ ہونے کی کوئی انتہا تو ہو! وہ ریاست جو آئی ایم ایف کے ہاتھ گروی رکھ دی جائے عوام کے خون پسینے کے عوض۔ مہنگائی، بے روزگاری، خود کشیاں جس کی پہچان ہوں۔ قادیانی لا کر اہم ترین مناصب پر بٹھا دیئے جائیں۔ معیشت ان کی مٹھی میں ہو۔ (ریاست مدینہ کے خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی مشکل ترین حالات میں پہلی بڑی جنگ جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی۔ قیمتی ترین حافظ صحابہؓ نے جانیں قربان کیں!) یہاں جسے ریاست مدینہ کہا جا رہا ہے وہاں سلمان احمد جیسے گستاخ قرآن سیٹجوں پر ساز و آواز کے جادو جگائیں (تادیر پاکستان میں یہی ہوتا رہا۔ اب امریکہ دورے میں یہی مناظر دہرائے گئے) اور جوان لڑکیاں مخلوط اکٹھ میں بازو لہراتی نچھاور ہوتی رہیں۔ اسے ریاست مدینہ کہتے چلے جانا؟ اگر کالی سیاہ بھتنی کو حور بنا دکھایا جاتا رہے کہ جنت میں ایسی حوریں ملیں گی تو بہت سے جنت کی طلب والے دستبردار ہو جائیں گے۔ سو یہی کھیل ’ریاست مدینہ‘ کے نام کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ قرآن کے آئینے میں ہم آج کے معاشرے کی صورت دیکھیں تو وہ کچھ ایسی ہے کہ ’برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا‘۔ منکرات معروف بن چکے۔ معروف منکر ہو گیا۔ خیر پھیلانے والے، مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے سارے ٹرسٹ ، سارے فلاحی اداروںپر تالے۔ مشنری ادارے کھلے۔ معاشرے کے دبے پسے طبقے کے بچوں کو مفت تعلیم، رہائش، خوراک مہیا کرنے والے مدارس کی ہر وقت بہانے بہانے شامت۔ بکرے گائے کی کھال تک پر بندش کے پہرے، دینداروں کی کھالیں نوچ لینے کے درپے۔ ہم نے اللہ کو بھلا دیا۔ اللہ نے ہمیں بھلا کر IMF کے درکا بھکاری بنا دیا، سسکتا ہوا۔ بھارتی عفریت ہماری زمینوں کی زرخیزی کا پانی پی گیا۔ خونخوار امریکہ ہمیں ڈومور شکنجے میں جکڑ کر ڈکار گیا۔ بھارت کو (ہمارے چرچوں والے دورے کے بعد) زبردست جہازی پیکیج دیا۔ ہمیں صرف جہاز کے کل پرزوں پر ٹرخایا وہ بھی یوں کہ نگرانی کو امریکی حکومت کے کل پرزے ہمہ وقت پہرے داری کریں گے ہماری۔ اس امریکی دورے کا زبردست خمار پی ٹی آئی کو چڑھا ہوا تھا۔ اسی خمار میں بھاری حماقت کر بیٹھے۔ وہ مضحکہ خیز حرکت یہ تھی کہ 78 سالہ بزرگ صاحب علم قلمکار عرفان صدیقی کو من گھڑت (بلکہ راتوں رات گھڑت) قانون کرایہ داری کی خلاف ورزی پر گھسیٹتے، ہتھکڑیاں لگا کر آدھی رات کو بھاری چھاپہ مار انداز میں گرفتار کر کے لے گئے۔ بادی النظر میں اصل جرم، وجہ مخاصمت تو وہ قلم تھا جسے ہتھکڑی چڑھانا مقصود تھا، یعنی نواز شریف، مریم نواز کی تقاریر لکھنا۔ امریکہ میں وزیراعظم نے ملک میں آزادی اظہار دینے کا فخریہ تذکرہ فرمایا تھا۔ تحریر و تقریر کی بے مثل آزادی پاکستان میںمیسر ہے! اور واپس قدم رنجہ فرماتے ہی یہ حادثہ ہو گیا! نئی بات کے اشتہارات کی بندش اس پر مستزاد ہے! وہ تو سپیکر کے نوٹس لینے اور ڈانٹ ڈپٹ پر احکام واپس لیے گئے۔ ایسے آڑے وقتوں میں وزیراعظم اور معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان یکایک تجاہل عارفانہ سے کام لے کر اپنوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے معاملہ سدھارا کرتے ہیں۔ سو کرنا پڑا اور کیا۔ لیکن ان پر خوف اور تذلیل کا ہتھیار لے کر پل پڑنے اور مزا چکھانے کا ہتھیار عین وہی ہے جو 9/11سے آج تک ڈٹ کر استعمال ہوا۔ چادر چار دیواری کا تقدس پامال کر کے تہذیب، مروت، شرافت کی دھجیاں اتارنے کا یہ چلن ایک اور معزز انسان پر آزمایا گیا۔ منتقم مزاجی، درشتگی، بد اخلاقی بدکلامی تو یوں بھی کنٹینری اپوزیشن سے آج تک جوں کی توں ہے۔ حکومت مل جانے کے بعد اعلیٰ اخلاق، برداشت ، تحمل، رواداری، شائستگی کی توقع بجا طور پر کی جاتی ہے۔ یہ گلی محلوں میں شیشہ توڑ، بلب توڑ، گریبان پھاڑ کرکٹ تو نہیں، حکمرانی ہے۔ اور وہ بھی بقول ان کے ریاست مدینہ کی! قوم بہت صبر سے ساری پٹرول گیس بجلی بموں کی بمباریاں سہ رہی ہے۔ مہلت دے رہی ہے۔ ایسے واقعات حکومت ہی کا دامن داغدار کرتے ہیں۔ عمر، مقام اور قلم کی حرمت پامال کرنا حکومت کو مہنگا پڑا۔ ادھر امریکہ نے ہمیں طالبان راضی کرنے کا بھاری بھر کم کام تھما دیا ہے۔ جلدی کریں۔ امریکہ کی زیادہ خواری بدحالی سے پہلے اس کے باعزت انخلا کا راستہ ہموار کر دیں۔ افغان فوجی نے دو امریکی فوجی مار دیئے۔ چند کو زخمی کر دیا۔ سرکس کے شیر کا اپنے ٹرینر پر حملہ کر کے مارنے کی ایک خبر ہم پڑھ چکے تھے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے! شیر تو بہرحال شیر ہی ہوتا ہے خواہ سرکس کے لیے ہی سدھا کیوں نہ لیا جائے۔ ایسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے۔ امریکہ نے اپنے ’مثالی طریق زندگی‘ کے تحفظ کے لیے یہ صلیبی جنگ (بش کے اعلان کے مطابق شروع کی تھی۔ وہ مثالی طریق زندگی (جو پورے مغرب کا ہے، اسی لیے سبھی شریک جنگ تھے) بھی اپنی منطقی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ برلن میں بد لوگوں کی LBGT پریڈ میں (بحر مردار کی شہریت والے) 6لاکھ افراد نے شرکت کی۔ دوسری جانب ایک ماڈل الزبتھ نے 220مردوں سے شادی کے لیے ملاقاتوں کے بعد بالآخر ایک کتے سے شادی (حقیقی کتا) کے لیے کیتھولک چرچ میں درخواست دی ہے۔ دلہا دلہن کا اگرچہ عمر کا فرق بہت زیادہ ہے۔ دلہن 49 سالہ اور دلہا 6 سال کا ہے۔ پناہ بخدا۔ یہ عین وہی ہے جس کا تذکرہ مولانا ابو الحسن علی ندوی نے فرمایا تھا: ’مغرب ایک اخلاقی جذام میں مبتلا ہے۔ اب اس کی عفونت پورے ماحول (گلوب!) میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس مرض جذام کا سبب اس کی جنسی بے راہ روی اور اخلاقی انارکی ہے جو بہیمیت و حیوانیت کی حدوں تک پہنچ گئی ہے‘۔ المیہ تو یہ ہے کہ یہ جدیدیت ، ترقی پسندی، لبرلزم کے لبادے اوڑھے ہمارے نوجوانوں کو لپیٹ میں لینے لپکی چلی آ رہی ہے۔ حکومتی ترجیحات میں تہذیب و اخلاق کا سدھار دور دور کہیں موجود نہیں۔ بگاڑ کے سارے اسباب حاضر ہیں۔ عوام کو روٹی پانی پٹرول کے تھپیڑوں میں سرگرداں رکھ کر انہیں اقدار کے غم سے بیگانہ کر دیا ہے۔


ای پیپر