پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں حکومت سازی کے معاملات طے پا گئے

03 اگست 2018 (19:55)

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان وفاق میں حکومت سازی کے لیے معاملات طے پاگئے ہیں،تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ ہمارا تحریری ایم او یو سائن ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم پاکستان کی بلدیاتی حکومت کو سپورٹ کریں گے۔ کراچی میں پانی سیوریج اور ٹرانسپورٹ سسٹم کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔

ہم کراچی کو خصوصی مالیاتی پیکج دیں گے، کراچی کے عوام نے ہمیں سپورٹ کیا ہے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے اور پی ٹی آئی کے درمیان جو طے پایا ہے وہ آئینی تقاضا بھی ہے ا ور ملک کی ضرورت بھی۔ ہم نے ذاتی مفادات سے زیادہ پاکستان کی ضروریات اور جمہوریت کو پیش نظر رکھا ہے، کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، ہم خود مختار بلدیاتی نظام کےلئے مل کر جدوجہد کریں گے، مردم شماری کے معاملے پر پی ٹی آئی نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، پورے پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بننے چاہیئں۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو قومی موومنٹ کے وفد نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی، ایم کیوایم کے وفد میں عامرخان، فیصل سبزواری، وسیم اختر اور کنور نوید جمیل شامل تھے۔عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جہانگیر ترین نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سے مکمل طور پر اتحاد اور تحریری معاہدہ ہوگیا ہے، ہمارا منشور موثر بلدیاتی نظام کو اہمیت دیتا ہے ایسا نظام جو نام نہاد نہ ہو، ہم ایم کیو ایم کی عدالت میں بلدیاتی نظام پر اختیارات کے حوالے سے جو پٹیشن ہے اس کا بھی مکمل ساتھ دیں گے۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ کراچی کی عوام نے بھرپور طریقے سے نکل کر ہمیں اور ایم کیو ایم کو ووٹ دئیے تاہم ماضی میں کراچی کو نظر انداز کیا گیا اور مسائل پر توجہ نہیں دی گئی، کراچی کو خصوصی مالیاتی پیکج دیا جائے گا جس پر من و عن عمل ہوگا۔ ، ہمیں ایم کیو ایم پاکستان کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ تحریک انصاف ایم کیو ایم کی بلدیاتی حکومت کو سپورٹ کرے گی۔ ہم کراچی کے مسائل پر توجہ دیں گے اور خصوصی مالیاتی پیکج دیں گے، حیدرآباد میں یونیوسٹی قائم ہونی چاہیئے ۔ یہ حیدر آباد کا حق ہے ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ یونیورسٹیاں قائم ہوں۔

ماضی میں کراچی پر توجہ نہیں دی گئی۔ کراچی میں پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ سسٹم روز بروز تباہ ہوتا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے پی کے کی طرح سندھ پولیس میں بھی اصلاحات کرے گی، پولیس میں بھرتیاں میرٹ پر ہونی چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءمیں ہم نے4حلقے کھولنے کا کہا مگر نہیں کھولے گئے بعد میں چاروں حلقوں میں دھاندلی ثابت ہوئی۔ ہم (ن) لیگ کی طرح4حلقے کھولنے کے لئے 3سال نہیں لگائیں گے بلکہ ہم تمام حلقے کھولنے کے لئے تیا رہیں۔ ہم ایم کیو ایم پاکستان کے تمام شبہات دور کرنے کو تیار ہیں۔ 9آزاد ایم این ایز تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں ۔

اس موقع پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے درمیان جوکچھ طے پایا ہے وہ آئینی تقاضا اور ملک کی ضرورت ہے، کراچی میں مردم شماری کے حوالے سے جو درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی ہے اس پر پی ٹی آئی نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، اس کے علاوہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی سے بات چیت کی گئی جب کہ کراچی آپریشن کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور اس کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، ، ہم نے ذاتی مفادات سے زیادہ پاکستان کی ضروریات اور جمہوریت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھا ہے۔ سندھ کے شہری علاقے پورے پاکستان کے ریونیو کا 65سے70فیصد تک دیتے ہیں۔ مردم شماری کے معاملے پر ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کی دعوت پر بنی گالہ آئے تھے ۔

عمران خان نے جمہوریت کو آگے لے کر چلنے کا کہا تھا یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ ہم مضبوط مالیاتی نظام ، بلدیاتی نظام اور سیاسی خودمختاری کے لئے جدو جہد کریں گے۔ آج کراچی میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں کا مینڈیٹ ہے ۔ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا جہاں حق تلفی ہوئی ہے اس کا بھی مداوا کیا جائے گا۔ ہمارے اور پی ٹی آئی میں کچھ چیزیں طے ہونا باقی ہیں ۔ وہ بھی طے ہو جائیں گی، مردم شماری کے معاملے پر پی ٹی آئی نے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ ہے ہمارے مینڈیٹ کا بھی احترام کی اجائے ۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا معاہدہ آئینی تقاضا ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پورے پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بننے چاہیں۔

ہم مرکز میں تحریک انصاف کی حمایت کریں گے۔ پی ٹی آئی انتخابات پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات رد کرے گی۔ دریں اثناء ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف میں ہونے والے معاہدہ کے متین کے مطابق کراچی کی مردم شماری کے حوالے سے قومی اسمبلی سے منظور شدہ قرارداد اور مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کرایا جائے گا، سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے سپریم کورٹ دائر کردہ پٹیشن میں تحریک انصاف ایم کیو ایم کی حمایت کرے گی۔

متن کے مطابق کراچی آپریشن پر نظر ثانی اور تمام شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی، اس کے علاوہ تمام عہدوں پر تعیناتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی اور حیدرآباد میں بین الاقوامی طرز کی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ معاہدہ کے مطابق سندھ کے شہری علاقوں کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان اور خصوصاً پانی کے مسائل کے لیے اسپیشل پیکج دیا جائے گا جب کہ خیبر پختونخوا کے طرز پر پولیس اصلاحات لائی جائیں گی، پولیس میں غیر سیاسی اور میرٹ پر تعیناتیاں کی جائیں گی۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے الیکشن پر تحفظات دور کیے جائیں گے اور ایم کیو ایم کو جن حلقوں پر تحفظات ہوں گے ان حلقوں کا آڈٹ کروایا جائے گا۔

مزیدخبریں