خان آمد: چمن میں آتش گل کے نکھارکاموسم؟
03 اگست 2018 2018-08-03

انتخابی نتائج میں خان کا جادوسرچڑھ کربولاہے جب تک وہ آئیڈیالسٹ تھاٹھٹھہ اورمذاق مقدررہاجب اس نے ابن خلدون کے تجزیے کے مطابق تاریخی عوامل (Matrieux of History) سے سمبندھ کیاتوزینہ اقتدارکو محوانتظارپایا۔تاریخی عوامل کی اہمیت اس قدرمسلمہ ہے کہ انبیاء بھی حتی الوسع انہیں نظراندازنہیں کرسکتے۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ جتنے بھی غیرمسلح انبیاء تھے تاریخ پروہ نقش نہ چھوڑسکے جو مسلح انبیاء نے چھوڑا۔ تاہم اصول واخلاقیات کی قوس عظیم سے جڑے رہ کرشارٹ کٹ کا شکارنہ ہونا،طویل مسافت سے منزل تک پہنچنا انبیاء ہی کا وطیرہ رہاہے یا ایسی شاذمثالیں ابراہم لنکن، قائداعظم محمدعلی جناح اور نیلسن منڈیلاوغیرہ میں دیکھنے کو ملتی ہیں، جنہوں نے اصولوں پرسمجھوتہ کیے بغیرمنزل پائی۔عمران خان نے شایداپنے چہرے کی جھریاں دیکھ کرفیصلہ کیا ہوکہ "اب یاپھرکبھی نہیں"کی منزل ہے عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے ۔ سروقدلیڈران کا حال ماضی جانتے ہوئے کلاہ کج جو نہ کرتا تو لالہ کیا کرتا!
تاہم عمران خان ظفراللہ جمالی یاچودھری شجاعت نہیں ہے اس نے فصیل شہرمیں درپیداکیا ہے۔سب سے بہترین خراج تحسین اور نصیحت جمائماکی طرف سے ہے۔"۲۲ سالہ مشکلات، مشقت، محنت ،لگن اورقربانیوں نے میرے بچوں کے باپ کو وزیراعظم بنادیاہے، یہ مستقل مزاجی، ایمان اور شکست کو ردکرنے کی ناقابل یقین داستان ہے، تاہم اب سب سے بڑا چیلنج اس امرکویادکرنا ہے کہ اولیں ترجیحات کیا تھیں جنہیں طے کرکے خان صاحب نے خارزارسیاست میں قدم رکھا تھا، مبارخاں خان صاحب!۔ خان صاحب قومی اوربین الاقوامی سطح پرکئی بارکہہ چکے ہیں کہ انہیں دنیا کی ہرنعمت میسرتھی چاہتے توآسائش بھری زندگی گزارتے مگرقوم کا دردانہیں سیاست میں لے آیا۔انتہائی ادب سے ازلی وابدی حقیقت خان صاحب کے گوش گزارکرتاچلوں ،Paradise Lostکے مصنف جان ملٹن نے کہا تھا کہ انسان اپنی خواہشات کی انتہاؤں پراقتدارچاہتا ہے چاہے وہ جہنم ہی کا کیوں نہ ہو۔برطانیہ اورفرانس نے ایشیاء اورافریقہ کے ریگزاروں اورصحراؤں سمیت 85فیصددنیاکوWhite Man's Burdenاور Mission Civilizationکے نام پرباجگزاربنایا۔تمام امپائرزکی تاریخ یہی ہے، افرادہوں یاقومیں دوسروں پرتسلط یاحکمرانی بنی آدم کی فطری کمزوری ہے جو کرہ ارضی پرکسی اورمخلوق میں نہیں پائی جاتی۔تاہم تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ہیں کہ کچھ افرادنے بزریعہ اقتدارمظلوم انسانیت کی خدمت کی ہے۔ جناح، گاندھی اور منڈیلا وغیرہ
کاکرداربتاتا ہے کہ قومی یا انسانی خدمت کاسیاست سے بہترکوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا۔افلاطون نے کہا تھا جو سیاست سے گریزکرتاہے اس کی قیمت اسے ادنیٰ لوگوں کا حق حکمرانی تسلیم کرکے چکانا پڑتی ہے۔ قوم کو میدان سیاست میں سرگرم کرنے کا کریڈٹ خان صاحب کو جاتاہے۔تاہم بمطابق جمائما حقیقی چیلنج خان صاحب کیلئے اب ترجیحات کا تعین ہے۔
وہ کیا رہنما اصول تھے جنہیں زادراہ بناکرخان صاحب نے رخت سفرباندھا تھا۔یہی کہ انصاف کا حصول کیوں مشکل بنادیا گیاہے، قانون کی حکمرانی کیوں نہیں ہے؟، کرپشن کا باب بندکیوں نہیں ہوسکتا؟ میرٹ کا بول بالا کیوں نہیں ہے۔ نظام تعلیم ایک کیوں نہیں ہے؟ طبقاتی نظام کیوں ہے؟ سیاست پرجاگیرداروں، لٹیروں، نوابوں اورگدی نشینوں کا قبضہ کیوں ہے؟ تعلیم اور صحت کو نظراندازکیوں کیا جاتا ہے؟ پڑھا لکھا طبقہ دساورکیوں سدھارجاتا ہے؟ ایجنسیاں ملکی سیاست میں کیوں رخنہ اندازی کرتی ہیں؟ عدلیہ میں اصلاحات کیوں نہیں لائی جاتیں۔ادارے آئینی حدودسے کیوں تجاوزکرتے ہیں ؟ وسائل سے بھرپورملک کے عوام خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پرکیوں مجبورہیں ۔ایوب خان تک پاکستانی سربراہوں کی عالمی برادری میں کیوں وقعت تھی ؟آج کیوں نہیں ہے؟ ابوظہبی کے کسی بھی حکمران کو ایئرپورٹ سے ہمارا عام ڈی سی کیوں لینے چلا جاتا تھا آج ہم چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں کے استقبال کیلئے کیوں بچھے جاتے ہیں؟اس زاد راہ کا پچاس فیصد سے زائد خان صاحب غنیم کے ہاتھوں لٹوا کرزینہ اقتدارتک پہنچے ہیں ۔چور، ڈاکوؤں اورلٹیروں کا جم غفیرخان صاحب کیساتھ ہے اورجوازیہ ہے کہ قائداعظم نے بھی توکھوٹے سکوں کی مدد سے پاکستان بنایا تھا ، لہٰذا عملیت پسندی کا تقاضاہے کہ الیکٹیبلزکے ذریعے اقتدارتک پہنچ کربعدمیں گندصاف کرلیا جائے گا۔جس "اسٹیٹس کو" کو96سے 2011تک چیلنج کرتے رہے اسی سے سمجھوتہ کرلیا۔تاریخ کا یہ سبق ہے کہ" اسٹیٹس کو "کی قوتیں وقت آنے پرہرانقلاب سے سمجھوتہ کرلیا کرتی ہیں یہاں تک کہ انبیاء کے انقلابات سے بھی مگرموقع پانے پرانبیاء کی انقلابی تحریکوں کو بھی تاراج کرنے سے گریزنہیں کرتیں !
خان صاحب کے کریڈٹ پربہت کچھ ہے بائیس سالہ جہدمسلسل جوکئی ناکامیوں اورہزیمتوں سے بھرپورہے اگرتھڑدلی کا مظاہرہ کرتے تو تاریخ انہیں اصغر خان بناسکتی تھی۔یہ شکست تسلیم نہ کرنیکا جوہرتھاجوخان صاحب کو اقتدارتک لے آیا، یہ مثالیت پسندی اورعملیت پسندی کا امتزاج تھاجو خان صاحب کو یہاں تک لے آیا۔ریحام خان اور گلالئی جیسے میزائل بیک فائرہوئے۔ قوم کا سیاست پرایمان بحال ہوا، نہنگوں کے نشیمن تہہ وبالا ہوئے ہیں ۔قوم نے ثابت کیا کہ "زمیں میروسلطاں سے بیزارہے،،،، پرانی سیاست گری خوارہے" تاہم خان صاحب یادرکھئے !نوازشریف کی سیاست کا آغازجن سہاروں سے ہوا تھاآپ کی سیاست کا انجام ان پرہوا ہے، ستم ظریفی دیکھئے کہ آج نوازشریف اپنی سیاست کے انجام پرکسی عظیم اصول سے چپک کرکھڑاہوگیاہے، کل عہدمشرف میں جواڈیالہ جیل میں منرل واٹرکا خواستگارتھا آج جیل میں دواؤں کا تقاضابھی نہیں کررہا۔ خان صاحب آپ کوکوفہ مبارک انہیں دمشق!اگرآپ اب بھی آغازسفرکی متاع خیر(ابتدائی رہنما اصولوں کا ایجنڈا)کو اٹھا کرپاکستان کو بدلنے میں کامیاب ہوگئے تو"اسٹیٹس کو" کی قوتیں ہمیشہ کیلئے دفن ہوجائیں گی ورنہ ان قوتوں کا لوٹنا تاریخ کا محبوب ترین مشغلہ رہاہے۔"اسٹیٹس کو" کی قوتیں حضرت عیسیٰ کو سولی چڑھادیاکرتی ہیں، حضرت محمدؐ کوکتاب اللہ سمیت کعبہ سے رخصت کردیا کرتی ہیں ۔آپ نے ایک فلاحی اسلامی ریاست کا قوم کو مژدہ سنایا ہے ، خداکرے آپ ڈیلیورکرسکیں ۔ بقول ماؤزیرفلک عظیم افراتفری ہے اورصورت حال بہت دلکش ہے
مجھ کو ڈرہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری
اور عیار ہیں ’’کوفہ‘‘ کے شکر پارہ فروش


ای پیپر