عمران خان ۔۔۔ خوشامدیوں سے ہوشیار رہیں
03 اگست 2018 2018-08-03

حالیہ انتخابات کا سب سے بڑا سبق قرآن حکیم کے الفاظ میں یوں ہے ’’تلک الایام ندا ولیہا بین الناس‘‘ سورۃ آل عمران (3-40 ) ترجمہ یہ گردشِ ایام ہے جسے ہم لوگوں کے درمیان گھماتے رہتے ہیں، یعنی وقت ایک سا نہیں رہتا۔ آج ایک حکمران ہے تو کل اس کی جگہ کوئی اور ہو گا یہ ایک سچائی ہے جس کی حقیقتوں پر ایمان رکھنا ہمارے دین کا حصہ ہے کل کے حاکم آج کے محکوم ہیں۔ یہاں ہی بس نہیں بلکہ قوم کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے آج پس زنداں ہیں جہاں وہ اپنی تقدیر پر بھی قدرت نہیں رکھتے اس میں غور فکر کرنے والوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔
ان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف پہلی بار اختیار اور اقتدار کا پھل چکھنے جا رہی ہے۔ عمران خان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا اور ہر لحظہ یاد رکھنا ہو گا کہ وہ 22 سال پہلے سیاست کے میدان میں کیا مقاصد لے کر آیا تھا۔ اس کے مخالفین تو یہاں تک کہتے ہیں۔ کہ ہسپتال چلانا اور حکومت چلانا ایک ہی بات نہیں ہے لہٰذا اب پتہ چل جائے گا کہ جس تبدیلی کے نعرے کے بل بوتے پر وہ منتخب ہوئے ہیں اسے حقیقت میں کیسے بدلیں گے۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہسپتال اور حکومت دونوں میں بنیادی بات پسے ہوئے بے آواز طبقوں کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔ انتظامی حد تک کام کرنے کے طریقہ ہائے کار جدا جدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن خدمت کا جذبہ اگر سچا ہے تو انہیں اس میں ذرا دقت نہیں ہو گی۔
اس سلسلے میں ایک اہم نقطہ جو اس وقت عمران خان کو سب امور سے زیادہ گہرائی سے دیکھنا ہو گا وہ ان کی ٹیم کا انتخاب ہے کہ کن کن لوگوں کو عہدے دینے ہیں اس میں سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ انہیں اپنے حلقہ اقتدار میں خوشامدی لوگوں سے دور رہنا ہو گا ۔ جس میں سیاستدان وزراء دانشور صحافی اور مشیران سب شامل ہیں ہماری قومی صفوں میں اسیے بہت سے اہل فکرو دانش موجود ہیں جن کے لیے یہ تبدیلی قبلہ کا وقت ہے جو ہر حکومت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں جس طرح سیاستدان اقتدار کے دوام کی خاطر پارٹیاں بدلتے ہیں اسی طرح دیگر شعبوں کے یہ کھلاڑی ریس کے گھوڑوں کی طرح جو رقم لگاتا ہے اس کے لیے دوڑ پڑنے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ خوشامد ایک نفسیاتی مسئلہ ہے قدرتی طور پر ہر انسان کو اپنی تعریف اور ستائش اچھی لگتی ہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر لوگ ہمیشہ طاقت اور اختیار کے مراکز کے قریب ہوتے ہیں اور اپنے لیے مراعات حاصل کرتے ہیں۔ عمران خان کو پارٹی کے اندر اور قومی سطح پر اس طرح کے لوگوں سے ہوشیار رہنا ہو گا۔ اگر غور کریں تو اس طرح کے طبقے نے ہی میاں نواز شریف کے قریب رہ کر ان سے ایسی ایسی غلطیاں کروائی ہیں جو ان کے زوال کا باعث بنی۔
عمران خان مدینے کی جس ریاست کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اس کے پہلے خلیفہ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پہلے خطبہ میں کہا تھا کہ میرا ساتھ اس وقت تک دیں جب تک میں حق پر قائم رہوں ورنہ میرا ساتھ چھوڑ دینا اس پر آپ کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ جب آپ حق سے روگرانی کریں گے تو ہم آپ کو تیر کی طرح حق پر سیدھا رکھیں گے یعنی آپ کو بھٹکنے نہیں دیں گے۔
اس وقت پاکستان کا معاشی ڈھانچہ تباہی کے دھانے پر ہے بھاری قرضوں کی وجہ سے صورت حال یہ ہے کہ پرانا قرضہ اتارنے کے لیے نیا قرضہ درکار ہے اور عالمی ادارے سیاسی وجوہات کی بناء پر قرض دینے کے لیے تیار نہیں۔ امریکہ نے کہہ دیا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ نہ دے کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا کے ان کا پیسہ چائنا کے قرضے اتارنے میں استعمال کر کے وہ چائنہ کو مضبوط کرے۔ اگر عمران خان آئی ایم ایف کے شکنجے سے پاکستان کو نکال لیتے ہیں جس طرح ملائشیا کو مہاتیر محمد اور ترکی کو طیب اردوان نے نجات دی ہے تو وہ قائد اعظم کے بعد پہلے لیڈر ہوں گے جن کا نام احترام و عزت سے لیا جائے گا۔ بظاہر اس کا فوری امکان نظر نہیں آتا کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی جادو نہیں ہے مگراگر وہ پاکستان کو ایک معاشی پلان بنا کر اس پر عمل کر کے ملک کو بیل آؤٹ کر دیں تو 2023 ء میں بھی ان کو حکومت بن سکتی ہے لیکن اس کے لیے محض نعرے بازی نہیں چلے گی کام کرنا پڑے گا۔ اب ان کے پاس کوئی حجت کوئی جواز کوئی بہانہ باقی نہیں ہو گا حکومت کرنے اور اپوزیشن میں بیٹھنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
ایک بات انہوں نے الیکشن کے دوران بڑے تواتر کے ساتھ کہی تھی کہ وہ سالانہ ٹیکس کو 4000 ارب روپے سے بڑھا کر 8000 ارب کریں گے جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ یہ کیسے ہو گا تو وہ کہتے تھے کہ یہ میں آپ کو کر کے دکھاؤں گا۔ قوم اب کر کے دکھائے جانے کی منتظر ہے۔
اسی طرح ملکی زرمبادلہ کا سب سے زیادہ حصہ پٹرول کے امپورٹ بل میں چلا جاتا ہے جس میں کمی کرنے سے معیشت کساد بازاری کے نرغے میں آجاتی ہے البتہ اتنا کر سکتے ہیں کہ ملک میں ہائیڈرو پاور منصوبے شروع کر کے بجلی پیدا کرنے پر جو پٹرول خرچ ہوتا ہے وہ بچا لیں جس کے لیے نئے ڈیم بنانے ہوں گے۔ دوسرے نمبرپر نان آئیل امپورٹ کو کم کرنا ہو گا۔ عمران خان کی ایک بات خوش آئند ہے انہوں نے حکومتی اخراجات کم کرنے اور سادگی اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہنا چاہتے جس سے سالانہ 86 کروڑ روپے کی بچت ہو گی اگر ان کی پارٹی کا صدر پاکستان بھی یہ کرتا ہے تو 100 کروڑ مزید بچ جائیں گے اسی طرح انہوں نے پروٹوکول نہ لینے اور اپنے وزراء کو بھی اس کا پابند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے کافی بچت ہونے کے امکانات ہیں۔ ایف بی آر اور احتساب بیورو کو مضبوط بنا کر اربوں روپے سرکاری خزانے میں لائے جا سکتے ہیں۔
اوور سیز پاکستانی ہماری معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں جو سالانہ 20 ارب ڈالر کا زر مبادلہ بھیج سکتے ہیں۔ عمران خان کا اس طبقے کے ساتھ کام کرنے کا کافی پرانا تجربہ ہے اور اگر ان کی بچتوں کو ملک میں انسویسٹ کرنے کا کوئی منظم منصوبہ بنایا گیا تو اس کے انقلابی نتائج آئیں گے۔ اسی طرح زراعت اور صنعت و تجارت کو فروغ دے کر ملکی معیشت کو اندر سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح قومی خزانے کی حفاظت کے لیے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ملکی ترقیاتی منصوبوں میں لگائی جانے والی رقم آدھی سے زیادہ چوری ہو جاتی ہے یہ bleeding روکنی ہو گی۔
عمران خان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ملکی خزانے سے منی لانڈرنگ کے ذریعے جو پیسہ بیرون ملک منتقل ہوا ہے اسے کیسے بازیاب کیا جائے یہ اگر وہ واپس لانے میں کامیاب ہو جائیں تو پاکستان کے 70 سالوں کے قرضے ادا کرنے کے بعد بھی اربوں ڈالر بچ جائیں گے اور پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک ایساNRO کرنا ہو گا جس کے تحت کوئی ایک مخصوص شخص نہیں بلکہ بلا امتیاز ایسے تمام ذرائع سے باہر بھیجا ہوا پیسہ ملک میں واپس آ سکے۔ برطانیہ میں ہونے والی حالیہ قانون سازی اور اقوام متحدہ کے 9/11 کے بعد کے قوانین اس سلسلے میں پاکستان کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس سے پہلے کبھی آپ نے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اس قدر تنزلی نہیں سنی ہو گی اس سے قومی موڈکا اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے ۔ لہٰذا ان حالات میں بہترین ٹیم تشکیل دے کر خسارے میں چلنے والے اداروں بشمول پاکستان سٹیل۔ پی آئی اے اور ریلوے کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ عمران کو یاد رکھنا چاہیے کہ معاشی کارکردگی ہی ان کو عوام میں عزت و اعتماد دے سکتی ہے۔ نعرے بازی اور قصیدہ گوئی زیادہ دیر نہیں چلے گی۔
قومی امور کے ایک ادنیٰ سے تجزیہ نگار کی حیثیت سے میرا ذاتی Pledge ہے کہ ہر قسم کی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نئی حکومت کے مثبت اقدامات کو سپورٹ کرنا ہے مگر ان کی کوتاہیوں پر پہریدار کا کردار ادا کرنا ہے۔ ذاتی طور پر ہم عمران خان کے سپورٹر ضرور ہیں مگر نہ ان کے زر خرید ہیں اور نہ ہی ان کے cult member ہیں کہ ان کے سیاہ و سفید پر مہر تصدیق ثبت کریں ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا پاکستان ہے۔


ای پیپر