03 اگست 2018 2018-08-03

آج مصر میں اخوان المسلمون جس شدید ابتلا و آزمائش سے گزر رہی ہے، یہ اس عظیم تحریک کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ ان کی تو پوری تاریخ آزمائش اور عزیمت کا حسین امتزاج ہے۔ مرد ہی نہیں خواتین نے بھی مشکل ترین حالات میں ظلم و جبریت کا یوں مقابلہ کیا ہے کہ دورِ اول کی تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ انہی خواتین میں ایک عظیم نام محترمہ زینب الغزالی کا ہے۔ ۱۳ سال قبل ۳؍اگست ۲۰۰۵ء کو یہ دختر اسلام اپنی منزل سے ہمکنار ہو گئیں۔
زینب الغزالی مصر کے ایک گاؤں ’’میت عمر‘‘ میں ایک کاشتکار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد بہت نیک نہاد مسلمان اور تاریخِ اسلام سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ زینب الغزالی کا شجرۂ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف سے بہت عظیم ہے۔ ان کے والد حضرت عمر بن خطابؓ کی اولاد میں سے تھے اور والدہ کا شجرۂ نسب حضرت حسن بن علیؓ سے ملتا ہے۔ یوں وہ حقیقی معنوں میں نجیب الطرفین تھیں۔ زینب الغزالی کی زندگی میں نظام استبداد کے مقابلے پر سیدنا عمر بن خطابؓ جیسی صلابت اور مضبوطی نظر آتی ہے جبکہ زندگی کے عام معاملات میں موصوفہ حضرت حسن بن علیؓ جیسی نرم خو اور محبت کرنے والی شخصیت بن کر ابھرتی ہیں۔ وہ ہر میدان میں اگلی صفوں میں کام کرتی تھیں۔ بچپن ہی سے زینب کے سامنے تاریخِ اسلام اور سیرتِ صحابیاتؓ کے زریں واقعات کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ انھوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجاہد صفت صحابیہ نُسَیْبَہ بنت کعبؓ کو ان کے جہادی کارناموں کی وجہ سے اپنا آئیدیل بنا لیا تھا۔ مرحومہ اس صحابیہ کی طرح بہادر اور ہمیشہ پرعزم رہیں۔ شکست اور ہار کا لفظ ان کی لغت ہی میں نہ تھا۔ ان کی آپ بیتی اور اسیری کی داستان ’’روداد قفس‘‘ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
زینب الغزالی کی ابتدائی تعلیم مقامی مدارس اور سکولوں میں ہوئی۔ ان کے والد دس سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کی والدہ بڑی عظیم اور صاحب عزیمت خاتون تھیں۔ خاوند کی وفات پر وہ اپنے بچوں سمیت گاؤں سے اٹھ کر قاہرہ آگئیں اور بڑی محنت مشقت سے اپنے یتیم بچوں کو تعلیم دلائی۔ عصری تعلیم کے بعد زینب الغزالی مرحومہ نے جامعہ الازہر میں کبار علما سے تفسیر، حدیث اور فقہ کے علوم کی تکمیل کی۔ ان کے اساتذہ میں شیوخ ازہر میں سے بہت سے مشہور اور جید علما کے نام سامنے آتے ہیں۔ زینب الغزالیؒ کے عنفوانِ شباب میں مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ جس زمانے میں اخوان کی تاسیس ہوئی کم و بیش اسی زمانے میں زینب الغزالی نے خواتین کی اسلامی تنظیم کی بنیاد رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی۔ وہ اس وقت ابھی سکول کے ابتدائی سالوں میں تھیں اور ان کی عمر بمشکل گیاہ بارہ سال تھی۔ عملاً انھوں نے انیس بیس سال کی عمر میں اپنے اس خاکے میں رنگ بھر دیا اور ۱۹۳۶ء میں ان
کی تنظیم ’’السیدات المسلمات‘‘ وجود میں آگئی۔ اس دور میں امام حسن البنا کی دعوت کا پورے ملک میں چرچا تھا۔ نوجوان زینب نے اپنی تنظیم کی افادیت کے باوجود امام حسن البنا کی دعوت کو اپنے دل کی آواز جانا اور غیررسمی طور پر اس دعوت کا حصہ بن گئیں۔ امام حسن البنا سے اپنے بھائی کی معیت میں ملاقات کی اور انھی کی ہدایت پر ۱۹۴۸ء میں خواتین کو منظم کرنے کا کام جاری رکھا جو امام البنا سے ملاقات سے قبل بھی وہ کر رہی تھیں۔ مردوں میں امام البنا نے تحریک کی بنیاد رکھی تو خواتین میں یہ کارنامہ زینب الغزالی کے حصے میں آیا۔
زینب الغزالی نے خود جو تنظیم قائم کی تھی اس کا نام السیدات المسلمات تھا، جب کہ اخوان کا حلقہ خواتین اخوات مسلمات کے نام سے کام کر رہا تھا۔ السیدات المسلمات ۱۹۳۶ء میں قائم کی گئی۔ کچھ حکمتوں اور مصالح کی وجہ سے انھوں نے امام حسن البنا کے ساتھ مشاورت کے بعد اپنی تنظیم کو ختم کرنے یا اخوات میں ضم کرنے کے بجائے اسی نام سے کام جاری رکھا مگر اخوان سے بھرپور تعاون بھی کرتی رہیں۔ یہ اخوان کی تاریخ کا دل چسپ واقعہ ہے کہ جب امام حسن البناؒ نے سیدہ زینب ؒ کو اخوات میں شامل ہونے کی دعوت دی تو انھوں نے دلائل کے ساتھ انھیں قائل کیا کہ الگ تنظیم کے بھی کچھ فوائد ہیں۔ جب ۱۹۴۸ء میں سیدہ زینب نے اخوان پر نازل ہونے والے ابتلا کو دیکھا تو امام البنا کو پیش کش کی کہ وہ اپنی تنظیم کو اخوان میں ضم کرکے اخوات میں شامل ہونے پر آمادہ ہیں۔ اس موقع پر امام نے ان کو ہدایت کی اور قائل کیا کہ وہ اس تنظیم کو علی حالہا قائم رکھیں۔ یہ دونوں فیصلے اپنے اپنے وقت پر حالات کے تقاضوں کے عین مطابق تھے۔
مرحومہ کو انقلابی سوچ کے نتیجے ہی میں جیل اور ابتلا سے گزرنا پڑا۔ جیل میں ان پر بڑا سخت وقت گزرا مگر اللہ نے انھیں ایسی عزیمت عطا فرمائی کہ وہ کبھی متزلزل نہ ہوئیں۔ ان کے ابتلا کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ جمال عبدالناصر نے انھیں ملاقات کے لیے صدارتی محل میں مدعو کیا مگر انھوں نے صدارتی قاصد کو دو ٹوک انداز میں کہا کہ جس شخص کے ہاتھ عبدالقادر عودہ شہیدؒ [اور ان کے ساتھیوں] کے خون سے رنگے ہوئے ہوں، میں اس سے ہرگز ملاقات نہیں کرنا چاہتی۔ یہ جواب سن کر جدید مصر کا یہ فرعون سیخ پا ہوگیا۔ بس پھر کیا تھا، ابتلا و آزمائش کا ایک طویل دور شروع ہوگیا۔ زینب الغزالی نے اپنی رودادِ ابتلا میں ایسے ایسے واقعات بیان کیے ہیں کہ رونگٹے کھڑے اور آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔
زینب الغزالی کو گرفتاری کے ساتھ ہی بدترین سزائیں دی گئیں۔ ساتھ ہی جعلی عدالتوں میں مقدمہ بھی چلتا رہا۔ ڈھونگ عدالت کی طرف سے انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی مگر ناصر کی موت کے بعد سادات نے اخوانی زندانیوں کو رہا کرنا شروع کیا تو ۹؍ اگست ۱۹۷۱ء کو سیدہ زینب کی بھی باری آگئی اور ان کی رہائی کا پروانہ جاری ہوگیا۔ اس وقت جیل میں ان کے ساتھ سید قطب کی عظیم بہن محترمہ حمیدہ قطب بھی مقید تھیں۔ زینب الغزالی نے حمیدہ قطب کو جیل میں چھوڑ کر رہا ہونے سے انکار کر دیا مگر کارندوں نے انھیں زبردستی جیل سے نکال باہر کیا اور عظیم سید قطب کی عظیم بہن نے بھی انھیں تسلی دی کہ وہ اطمینان سے جائیں، حمیدہ کے حوصلے اللہ کی توفیق سے پست نہ ہوں گے۔‘‘ (ایضاً، ص ۳۰۲۔۳۰۳)
زینب الغزالی کو بیت اللہ اور حرم نبوی سے بے پناہ محبت تھی۔ راقم کو محترمہ زینب الغزالی سے دو مرتبہ ملاقات اور گفت گو کا شرف حاصل ہوا۔ وہ بہت مشفق بزرگ خاتون تھیں۔ ایک مرتبہ پاکستان میں ملاقات ہوئی اور ایک مرتبہ مکہ معظمہ میں۔ وہ بہت عمر رسیدہ ہو چکی تھیں اور جسم بھی قدرے بھاری تھا۔ حرم مکی میں ان کی عظیم دعوتی و جہادی خدمات پر میں نے ان کی تحسین کی اور ان سے دعا کی درخواست، ابھی کرناہی چاہتا تھا کہ اس سے قبل ہی مرحومہ دعائیں دینے لگیں۔ ان کی آنکھوں میں چمک بھی تھی مگر وہ آنسوؤں سے بھیگی ہوئی بھی تھیں۔ انھوں نے انتالیس حج کیے اور سو سے زیادہ مرتبہ عمرے کی سعادت حاصل کی۔ میں نے زندگی میں اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے بے شمار داعیانِ حق سے ملاقات کی ہے اور ان کے افکارِ عالیہ سے استفادہ کی سعادت حاصل کی ہے۔ ملاقات میں فرمایا ’’سب سے زیادہ جس شخصیت نے مجھے اپنے کردار اور اخلاص سے متاثر کیا، وہ حسن البنا شہید اور ان کے بعد حسن الہضیبیؒ تھے۔‘‘
زینب الغزالی کو آنحضورؐ کے ساتھ ایسی محبت تھی کہ وہ ہر مشکل وقت میں آنحضورؐ کی حیات طیبہ اور ان پر گزرنے والے مصائب کو یاد کرتیں اور حوصلہ پاتیں۔ محترمہ زینب الغزالی کو چار مرتبہ خواب میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ جیل میں آنحضورؐ نے ان کو ان کے پیدائشی نام سے تین مرتبہ پکارا۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا نام زینب غزالی رکھا گیا تھا، الغزالی بعد میں معروف ہوگیا۔ آنحضورؐ نے زینب غزالی ہی کہہ کر پکارا اور تسلی دی کہ وہ آنحضورؐ کے نقش قدم پر چل رہی ہیں (ایضاً، ص ۷۸۔۷۹)۔ یہ عظیم ترین اعزاز ہے۔
مرحومہ کی وفات پر تمام معروف عالمی شخصیات نے تعزیتی بیانات جاری کیے تھے۔ استاد محمد مہدی عاکف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اخوان اپنی صابرہ و شاکرہ بہن اور انتہائی مشفق ماں کی سرپرستی سے محروم ہوگئے ہیں۔ منظوم خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے عرب شعرا کی ایک بڑی تعداد نے سینۂ قرطاس پر موتی بکھیرے۔ مشہور شاعر جابر قمیحہ نے اپنے مرثیے کا عنوان رکھا ’’دمعہ علی ام الصابرین زینب الغزالی‘‘ یعنی ام الصابرین زینب الغزالی کے حضور اشک ہائے عقیدت۔ وہ واقعی صابرہ ہی نہیں ام الصابرین تھیں۔ اللہ اپنی اس عابدہ و صابرہ بندی کے درجات بلند فرمائے۔


ای پیپر