آج کی ایم کیو ایم ہمارے لئے قابل قبول ہے ۔۔۔؟؟
03 اگست 2018 2018-08-03

آج PTI کے سینئر راہنماء کراچی سے عارف علوی صاحب کا بیان اخبارات کے فرنٹ پیج پر چھپا کہ ’’ آج کی MQM ہمارے لئے قابل قبول ہے ‘‘ یہ بیان پڑھنے پر مجھے آب بیتی یاد آ گئی ۔۔۔
’’میں ہسپتال کے مین گیٹ سے داخل ہوا ۔۔۔ تو وہ سامنے کھڑی تھی ۔۔۔ اُس نے مجھے نہایت غور سے دیکھا (تقریباً گھورتے ہوئے) ۔۔۔ میں نے نظریں چرانے کی کوشش کی ۔۔۔ تو وہ آگے بڑھ کے ۔۔۔ مسکرانے لگی ۔۔۔ وہ بڑی اپنائیت کے ساتھ مجھے Shakehand کر کے Welcome کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ ’’شاید‘‘۔۔۔!!
کہ میری بیوی جو چند قدم کے فاصلے پر تھی میرے بالکل قریب آ گئی اور بلند آواز میں بولی ۔۔۔ ’’محسنؔ میں ادھر ہوں ۔۔۔ کہاں جا رہے ہو؟‘‘ ۔۔۔ اُس کے چہرے پر غصہ نمایاں تھا ۔۔۔ حالانکہ وہ اُس وقت تکلیف میں تھی۔
میں نے اُسے بُری طرح Ignore کیا اور بیوی کے ساتھ ہو کر اُس کا ہاتھ پکڑ کر مین گیٹ کی آخری سیڑھی سے اوپر لے آیا ۔۔۔ میرے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ ’’گھبراہٹ‘‘ میں تبدیل ہو گئی ۔۔۔ (یہ منظر بھی صرف دیکھنے لائق ہوتا ہے بیان نہیں کیا جا سکتا؟ ۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں ناں) ۔۔۔
وہ پھر بھی نہ رُ کی اور اُس نے آگے آ کے میرا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔ یہ منظر میری بیوی نے نہیں دیکھا ۔۔۔ ( میں نے اُس کا پتھریلا ہاتھ جھٹکا تو نہیں لیکن ۔۔۔ بے مروتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۔۔۔ ایک طرف ہو گیا) ۔۔۔
’’یہ روزینہ ہے ۔۔۔ میری بیوی‘‘ ۔۔۔؟
’’ہائیں‘‘ ۔۔۔ وہ گھبرا سی گئی ۔۔۔
بیس سال پہلے ۔۔۔ والی گفتگو یاد ہے ۔۔۔؟
وہ بولی ۔۔۔ ’’جی ۔۔۔ جی ۔۔۔ یاد ہے حرف بحرف‘‘ ۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔
جب میں نے کہا تھا کہ مجھ سے شادی کر لو ۔۔۔ تو تم نے کورا جواب دیا تھا ۔۔۔ اور وضاحت بھی کر دی تھی۔
’’میں تو پہلے سے شادی شدہ ہوں‘‘ ۔۔۔؟
میں نے کہا تھا ۔۔۔ ’’مجھ سے بھی کر لو‘‘ ۔۔۔
تو تم نے جواب دیا تھا ۔۔۔ ’’میں دوسری شادی کے حق میں ہی نہیں ہوں‘‘ ۔۔۔
’’ہاں ہاں ۔۔۔ یاد ہے ۔۔۔ میں نے کہا تھا‘‘ ۔۔۔
’’تو یہ سب ‘‘ ۔۔۔؟ (اس دوران اُس کی نظروں میں مجھے ایک وحشت سی دکھائی دی) ۔۔۔
’’اب میں دوسری شادی کے حق میں ہوں‘‘ ۔۔۔ میں نے آہستہ سے کہا اور وہ مسکراتی ہوئی ۔۔۔ میری بیوی کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے بڑے سے دفتر میں لے گئی ۔۔۔ میں باہر کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔ اور دل ہی دل میں ’’تھوڑا خوفزدہ‘‘ بھی تھا ۔۔۔
کہ نرس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ ’’بڑی میڈیم‘‘ بلا رہی ہیں ۔۔۔
’’وہ تو مریض چیک کر رہی تھیں‘‘ ۔۔۔ میں نے حیرت سے کہا ۔۔۔
’’اُنہوں نے مریض چھوٹی ڈاکٹر رافعہ کے کمرے میں بھیج دئیے ہیں اور اپنے کمرے کے باہر ’’لال بلب‘‘ جلانے کا حکم دے دیا ہے ‘‘ ۔۔۔
اس کا مطلب ہے ۔۔۔"Visitors not allowed" ۔۔۔
’’جی‘‘ ۔۔۔ نرس ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔ بڑے افسر کو لال بلب، لال قلم، لال آنکھیں دکھانے کی بھی کیا خوب سہولت ہے ۔۔۔؟ (اور غریب کی آنکھیں اُس کے دکھ، اُس کے دکھ سے بہنے والے آنسوؤں سے لال ہو جاتی ہیں) ۔۔۔
میں شرماتا شرماتا ۔۔۔ کمرے میں داخل ہوا تو دونوں ہنس رہی تھیں ۔۔۔ قہقہے لگا رہی تھیں ۔۔۔
’’آ جاؤ ۔۔۔ چالاک آدمی‘‘ ۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔
’’میرا خیال تھا میں روزینہ بھابھی کو تمہارے خلاف اکساؤں گی لیکن تم نے تو یہ ساری کہانی پہلے سے اُن کو سنا رکھی ہے ‘‘ ۔۔۔؟ ڈاکٹر صائمہ نے مجھے ’’محبت سے گھورتے‘‘ ہوئے کہا ۔۔۔ میں مسلسل شرمائے جا رہا تھا۔۔۔
’’سنائیں آجکل بھی ڈرامے دیکھتی ہیں یا نہیں‘‘ ۔۔۔؟ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔۔۔
’’نہیں ۔۔۔ محسن ۔۔۔ ہماری قسمت میں ایسی سہولتیں کہاں‘‘ ۔۔۔؟ وہ سنجیدہ ہو گئی ۔۔۔ ہمارا پروفیشن تو خدمت ہے ۔۔۔ خدمت ’’پروفیشن‘‘ میں نے ہنسی بڑی مشکل سے کنٹرول کی ۔۔۔ (اکثر ڈاکٹر دوست مجھ سے ’’خدمت‘‘ کی بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں ۔۔۔ مال کمانا بھی تو ویسے خدمت ہی ہے ؟) ۔۔۔
یہ اُس دور کا واقعہ ہے جب PTV پر ’’وارث‘‘ ڈرامہ چلتا تھا، بازاروں کی رونقیں ختم ہو جاتی تھیں، لوگ امجد اسلام امجد کے ڈرامے ’’وارث‘‘ کی ایک بھی قسط "Miss" نہیں کرتے تھے ۔۔۔ایک عجیب طلسماتی کہانی تھی اور عوام تھے ۔۔۔ شام کے وقت جس دن ’’وارث‘‘ ڈرامہ لگتا تھا لوگ مغرب کے بعد دوکانیں / کاروبار بند کر کے گھروں میں جا پہنچتے ۔۔۔ اور تو کوئی چینل نہ تھا ۔۔۔بس PTV اور وہاں ڈرامہ ’’وارث‘‘ کا راج تھا ۔۔۔
میری نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔۔۔ میں اپنی بیوی کو لے کر ڈاکٹر صائمہ کے کلینک پر گیا تو وہ آرام آرام سے مریضوں کو چیک کر رہی تھیں ۔۔۔ میں نے آگے بڑھ کے ۔۔۔ درخواست کی ۔۔۔ ’’محترمہ ڈاکٹر صاحبہ ذرا میرا مریض پہلے دیکھ لیں میں نے جا کے ’’وارث‘‘ ڈرامہ دیکھنا ہے ‘‘ ۔۔۔ ڈاکٹر صائمہ نے غصے سے مجھے جھاڑ پلا دی ۔۔۔ میں اپنے کام میں دوسروں کی ’’مداخلت‘‘ برداشت نہیں کرتی ۔۔۔ میں باہر نکل آیا ۔۔۔ حالانکہ جس کام کی وہ اسپیشلسٹ ہے اُس میں میری ’’مداخلت‘‘ کہاں ۔۔۔؟
ڈاکٹر صائمہ عمر میں مجھ سے تقریباً بیس سال بڑی تھیں ۔۔۔ کچھ دن بعد میں بیوی کی رپورٹس چیک کروانے گیا ۔۔۔ تو مجھے پاس بٹھا لیا ۔۔۔ چائے پلائی اور محبت سے بولیں ۔۔۔ ’’محسن اُس دن میں نے آپ کو ڈانٹ دیا تھا ۔۔۔ آپ نے بُرا تو نہیں منایا تھا ناں‘‘ ۔۔۔؟ آپ جیسے ’’نائس بوائے‘‘ کو ڈانٹ کر میں دو دن پریشان رہی اور رات بھر سوئی نہیں ۔۔۔ ( یا اللہ خیر ۔۔۔ ؂ ۔۔۔ وہ جاگتے رہے رات بھر ہمارے لئے ؟) ۔۔۔
’’بُرا تو منایا تھا‘‘ ۔۔۔ میں نے کہا۔
’’کیوں‘‘ ۔۔۔ وہ بولیں ۔۔۔
’’دو باتوں کی وجہ سے ‘‘ ۔۔۔ میں نے کہا ۔۔۔ ’’ایک تو آپ نے مجھے ڈانٹا ۔۔۔ دوسرا یہ کہ آپ ’’وارث‘‘ ڈرامہ کیوں نہیں دیکھتیں‘‘ ۔۔۔؟
وہ ہنس دیں ۔۔۔ پھر پیار سے بولیں ۔۔۔ ’’یہ ہسپتال میری ملکیت ہے ، میرے پاس بہت سا پیسہ ہے ۔۔۔ ایک شوہر کی کمی ہے ‘‘ ۔۔۔؟
ڈاکٹر صائمہ نے ہمیں مسکراتے ہوئے رخصت کیا ۔۔۔ میں نے محسوس کیا ڈاکٹر صائمہ ’’بڑھاپے‘‘ کی دہلیز کراس کر چکی ہے ۔۔۔ میری بیوی نے بتایا کہ ’’اس کے پاس اربوں روپے کی پراپرٹی ہے ۔۔۔ کوئی بچہ وغیرہ نہیں ۔۔۔ بہت بڑے بنگلے میں نوکر چاکر ہیں اور یہ اکیلی ’’ٹھاٹھ‘‘ سے وہاں رہتی ہے ۔۔۔ ٹھاٹھ ۔۔۔ ٹھاٹھ‘‘ میں بڑبڑایا۔۔۔ (وہ بھی سنجیدہ ہو گئی اور آہستہ سے بولی ۔۔۔ ’’ٹھاٹھ‘‘ ) ۔۔۔
’’دولت کی ہوس نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔ یہ اس قدر مصروف ہے اور شاید اپنی دولت جائیداد سے محبت بھی کرنے لگی ہو گی ۔۔۔ اُس سے پوچھنا تھا کہ اب بھی وہ ’’پرائم ٹائم‘‘ Channels پر لگنے والے خوبصورت ڈرامے دیکھتی ہے یا نہیں‘‘ ۔۔۔
’’نہیں‘‘ ۔۔۔ میری بیوی نے مختصر سا جواب دیا ۔۔۔؟ اور مجھے محبت سے دیکھنے لگی ۔۔۔؟؂
گہرے نقوش چھوڑے ہیں تو نے خواب میں
دن بھر پڑے رہے ہیں محسنؔ عذاب میں


ای پیپر