سیاسی، جمہوری اورآئینی جدوجہد کا مقصد: صرف استحکام وطن
03 اگست 2018 2018-08-03

یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹکراؤ کی سیاست ارباب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے لیے ہمیشہ نقصان کا موجب بنا کرتی ہے ۔ ٹکراؤ کے ماحول اور تناؤ کی فضا میں کوئی بھی معاشرہ اور مملکت ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا ۔خوشحالی اور ترقی کی عمارت کی بنیاد کی اینٹ ہمیشہ مفاہمت اور مصالحت کی فضا ہوا کرتی ہے۔ مصالحت اور مفاہمت کے ماحول میں شہریوں کو آسودگی محسوس ہوتی ہے اور وہ یکسوئی کے ساتھ روز مرہ کے معمولات بجا لاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب تصادم اور ٹکراؤ کی سیاست پروان چڑھتی ہے تو ارباب اقتدار ہوں یا حزب اختلاف کے زعماء، دونوں مثبت رویوں کو اپنانے کی بجائے منفی روش کو اپناتے ہیں اور ہاتھیوں کی اس جنگ میں ہمیشہ گھاس ہی کا نقصان ہوتا ہے۔ ارباب اقتدار ہوں یا حزب اختلاف کے لیڈرز دونوں معاشرے کے کھاتے پیتے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ان کی جماعتوں کے عام کارکن اور ووٹ بنک کا تعلق اکثر و بیشتر محروم طبقات سے ہوتا ہے۔ یہ دونوں جب حصول اقتداریا بقائے اقتدار کی جنگ کا الاؤ بھڑکاتے ہیں تو اس کا ایندھن عام طور پر عام آدمی ہی بنتا ہے ۔ احتجاجی، اشتعالی اور ہڑتالی سیاسی ماحول میں لیڈر عوام کو تو سڑکوں پر آنے کی دعوت دیتے ہیں لیکن کبھی وہ اپنے عزیز و اقارب اور اہل و عیال کو پبلک جلسوں تک میں ساتھ نہیں لاتے ۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ رائے دہندگان کی سیاسی وابستگیاں اور دریا ہر دور میں اپنے راستے بدلتے رہتے ہیں۔یہ ایک فطری عمل ہے۔ سیاست پر کبھی کسی کی اجارہ داری نہیں ہوتی۔جابر اور مستبد ترین قوتیں بھی ہوا، چاندنی، دھوپ اور رائے عامہ کو اپنی مرضی اور منشا کا تابع فرمان نہیں بنا سکتیں۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ رائے دہندگان کو بزورِ شمشیر کسی ایک مخصوص جماعت یا پریشر گروپ کے حق میں رائے کے استعمال پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی بھی گروپ یا سیاسی جماعت ایسا کرتی ہے تو اس کے اس اقدام کو بلا تامل منفی حربہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ منفی حربوں کے بل بوتے پر تا دیر عوام کو یر غمال نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ دباؤکے ذریعے رائے دہندگان کی رائے ہائی جیک تو کی جا سکتی ہے ،تبدیل نہیں کی جا سکتی ۔ جمہوری شعور کے غلبے کے اس دور
میں سیاسی جماعتوں اور پریشر گروپس کو یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ برچھی کے ذریعے پرچی کے تقدس کو پامال کرنے کا مذموم عمل رائے دہندگان کے سینوں میں نفرت کے ناقابلِ تسخیر جذبات کوپروان چڑھاتا ہے۔ سنگینوں کے سائے اور بندوقوں کی نالیوں کی چھاؤں میں کسی بھی آزاد مملکت کے آزاد رائے دہندگان کورائے کے آزادانہ اظہار سے نہیں روکا جا سکتا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وطن عزیز تاریخ کے ایک نازک، حساس اور اہم دور سے گزر رہا ہے۔حساس اور اہم ادوار کی نزاکتوں او ر مقتضیات سے صرف نظر کرنے والی اقوام استحکام اور سلامتی کی منازل سے کوسوں پیچھے رہ جایا کرتی ہیں۔کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کیلئے معاشی و سیاسی استحکام کا ہونا ازبس ضروری ہوتا ہے۔ معاشی و سیاسی استحکام لازم و ملزوم ہے۔ موجودہ جمہوری حکومت جس عسکری حکومت کی معاشی پالیسیوں کے تسلسل اور بقا کی علمبردار ہے، یہ ایک بڑا سچ ہے کہ اس حکومت نے پاکستانی معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے دور رس نتائج کی حامل معاشی پالیسیوں کی داغ بیل ڈالی ہے۔ یہ انہی پالیسیوں کا خوشگوار نتیجہ ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں لائق رشک اضافہ ہواہے۔ ایک ترقی پذیر ملک کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا واحد راستہ فول پروف معاشی پالیسیوں کو اپنانا ہے۔چونکہ یہ طے ہے کہ معیشت کی ترقی و استحکام کیلئے کسی بھی ملک میں داخلی سطح پر امن و امان کی صورتحال کابہتر ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرنے والی سیاسی قیادتیں اور جماعتیں ملکی معیشت کے استحکام کیلئے امن و امان کی صورتحال کو عدم توازن کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتیں۔ گزشتہ70برسوں میں میرا اور آپ کا وطن جن المیوں اور سانحات سے دوچار ہوا ہے، ان کے پیش نظر محب وطن حلقے یہ توقع رکھتے ہیں آئندہ را احتیاط کے مصداق ہماری قومی ، سیاسی جماعتیں اور قیادتیں اپنے فرائض حب الوطنی، فرض شناسی اور دیانتداری سے ادا کریں گی۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں دنیا بھر میں برسراقتدار جماعت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے وقت صرف اس ایک نکتے کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں کہ آیا برسراقتدار جماعت کی پالیسیاں ملک کے اصولی موقف اور معاشی استحکام کی پالیسیوں سے متصادم تو نہیں؟ برسراقتدار جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنا اپوزیشن کا جمہوری اورآئینی حق ہوا کرتا ہے۔لیکن ترقی یافتہ جمہوری مملکتوں اور معاشروں میں ’’اختلاف برائے اختلاف‘‘ اور ’’تنقید برائے تنقید‘‘ کی روش کو کسی بھی طور مثبت جمہوری اور مفید سیاسی روش تصور نہیں کیا جاتا۔ کسی ایک ملک میں موجود سیاسی جماعتوں کے اہداف مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نصب العین ایک ہی ہونا چاہئے کہ وہ ایسے سیاسی اعمال و افعال کو فروغ دیں جن کے باعث ملک کی ترقی، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس باب میں یقیناً دو رائیں نہیں ہو سکتیں کہ تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود ملکی سیاست میں کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے والی سیاسی قیادتوں اور جماعتوں کی تمام تر سیاسی، جمہوری اورآئینی جدوجہد کا مقصد صرف اور صرف تعمیر وطن اوراستحکام وطن ہونا چاہئے۔
وطن عزیز کی سیاسی جماعتوں نے مختلف ادوار میں جن اعمال و مظاہر کا مظاہرہ کیا ہے، ایک غیر جانبدار تجزیہ نگار جب ان کا تجزیہ و تحلیل کرتا ہے تو اسے یہ رائے قائم کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ مجموعی طور پر ان کی کارکردگی کو منفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سیاسی حوالے سے ہماری تاریخ کافی حد تک روشن نہیں ہے۔ مقام حیرت ہے کہ دنیاکا وہ ملک جس کی آزادی سیاسی عمل، جمہوریت
اور اس کے ثمرات کی مرہون منت ہے، اسی ملک میں سیاست اور جمہوریت کے بنیادی تقاضوں کو بروئے کار لانے میں ایک طویل مدت تک پس و پیش سے کام لیا جاتا رہا۔ یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ قیام پاکستان کا ’’ناممکن‘‘ کسی طویل گوریلا جنگ کے نتیجے میں ’’ممکن‘‘ کے روپ میں ڈھلا تھا۔ قیام پاکستان اور حصول پاکستان کی تمام تر جدوجہد نے سیاسی، جمہوری اور آئینی حدود کے اندر دور رس نتائج کے حامل فیصلہ کن اور تاریخ ساز اثرات مرتب کئے تھے۔ آزادی کے بعد اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے تھا کہ یہاں جمہوری روایات کو مزید مستحکم کیا جاتا۔ 7عشرے گزرنے کے بعد اب یہ بات بلامبالغہ جا سکتی ہے کہ اوائل ہی میں چند ایسی بڑی سیاسی لغزشیں ہوئیں جن کا خمیازہ اس ملک کے کروڑوں عوام کو عشروں تک بھگتنا پڑا۔ وطن عزیز کی سیاست کے المناک چیپٹرز پر ایک نظرڈالنے کے بعد اور تاریخ اور سیاست کا ایک عام سا طالب علم بھی سیاستدانوں اور سول و ملٹری بیو رو کریسی کے اعمال و کردار کا ناقد بننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ 7عشروں سے ہماری آزادی کو انہی طبقات نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ معیشت کی ترقی و استحکام کیلئے کسی بھی ملک میں داخلی سطح پر امن و امان کی صورتحال کابہتر ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ نظریات اور اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرنے والی محب وطن سیاسی قیادتیں اور جماعتیں ملکی معیشت کے استحکام کیلئے امن و امان کی صورتحال کو عدم توازن کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے کبھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتیں۔گزشتہ 70 سالوں میں وطن عزیز جن المیوں اور سانحوں سے دوچار ہوا ہے، ان کے پیش نظر محب وطن ارباب بصیرت اور صائب الرائے حلقے یہ توقع رکھتے ہیں آئندہ رااحتیاط کے مصداق ہماری قومی ، سیاسی جماعتیں اور قیادتیں اپنے فرائض حب الوطنی، فرض شناسی اور دیانتداری سے ادا کریں گی۔ کسی ایک ملک میں موجود سیاسی جماعتوں کے اہداف مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کا نصب العین ایک ہی ہونا چاہئے کہ وہ ایسے سیاسی اعمال و افعال اور افکار و اقدار کو ترویج دیں جن کے باعث ملک کی معاشی ترقی، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔


ای پیپر