تحریک انصاف کی کامیابی
03 اگست 2018 2018-08-03

ملک کے دوسرے صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں الیکشن کا انعقاد ہوا۔ملک میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھی کہ الیکشن کا انعقاد مشکل نظرآتا ہے ۔لیکن تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ۔الیکشن کا انعقاد وقت پر ہوا۔پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ 66کے قریب سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اور صوبائی حکومت کے قیام کے لیے خود کو یقینی بنایا۔خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلی کی ٹوٹل نشستیں124ہیں۔اور اکثریت حاصل کرنے کے لیے 63نشستیں درکار ہوتی ہیں۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف بغیر کسی سہارے کے حکومت قائم کر سکتی ہے۔صوبے میں ٹرن آوٹ 45.52%رہا۔ووٹوں کی تعداد کے حوالے سے دیکھا جائے توپاکستان تحریک انصاف 66نشستوں کے ساتھ ٹوٹل 2132364ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور مشترکہ مجلس عمل 10نشستوں کے ساتھ 1126445ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی عوامی نیشنل نے پارٹی 6نشستوں کے ساتھ 803895ووٹ لئے۔اسی طرح آزاد امیدوار کے حصے میں 5نشستوں کے ساتھ 931989 ووٹ آئے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی 5 نشستوں میں کامیابی حاصل کی اور 655391ووٹ حاصل کیے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے 4نشستیں حاصل کیں اورووٹوں کی تعداد604930کے لگ بھگ ہے۔اس لیے اس میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بھاری اکثریت حاصل کر کے خیبر پختونخوا میں تاریخ رقم کر دی۔ایک تو خیبر پختونخوا کے تار یخ کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت نے دوسری دفعہ حکومت قائم نہیں کی ۔یہ اعزاز بھی پاکستان تحریک انصاف کو جاتا ہے کہ بحثیت جماعت دوسری دفعہ حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔دوسرا سیاست کے پرانے کھلاڑیوں جن میں مولانا فضل الرحمان ،اسفندیار ولی،آفتاب شیرپاؤ،سراج الحق شامل ہیں۔ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مشترکہ مجلس عمل کی شکست کی بنیادی وجہ ان کے آپس کے اختلافات ہیں ۔بظاہر انہوں نے ایک اتحاد تو قائم کیا۔لیکن اتحاد دلوں سے قائم ہوتے ہیں۔یا پھر کسی ایجنڈا یا نظریے کی بنیاد پر اتحاد قائم ہوتے ہیں اور دیر پا رہتے ہیں لیکن ضرورت کے تحت قائم کئے گئے اتحاد ہمیشہ کمزور ہوتے ہیں ۔اگر جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام جماعتی بنیادوں پرالیکشن میں حصہ لیتے تو نتیجہ اس کے برعکس ہوتا۔مشترکہ مجلس عمل کے اندرونی اختلافات نے بہت نقصان پہنچایا۔اور پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کی اصل وجہ عمران خان کے نئے پاکستان کا خواب ہے۔ عمران خان کی حکمت عملی کی وجہ سے نئے پاکستان کا نعرہ عوام میں مقبول ہوا۔کیوں کہ پاکستان میں عوام نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں ۔ ایک ایساء نظام جو انصاف پر مبنی ہو ۔قانون سب کے لیے برابر ہوبے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ انصاف کا نظام اور بے روزگاری کا خاتمہ وقت کی اصل ضرورت ہے ۔ اگر ہم صوبائی حکومت کی کاردکردگی پر نظر دوڑائیں تو کوئی خاص نہیں تھی۔بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ نالائق ترین حکومت جو اپنا بجٹ مکمل طور پر استعمال میں نہ لا سکی۔تو اس سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ہاں البتہ عمران خان کے ویژن اور کوششوں کے بدولت اداروں میں بہتری ضرور آئی ہے ۔جیساء کہ پولیس کا ادارہ ہو گیا۔ لیکن روزگار کے حصول کے لیے اقدامات کرنے میں پچھلی حکومت نے غفلت سے کام لیا۔ اس لیے عوام نے صوبائی حکومت کے بجائے عمران خان کی شخصیت کو ووٹ کاسٹ کیا۔اور صوبے کے عوام نے ایک دفعہ پھر عمران خان پر اعتماد کر کے ووٹ کا سٹ کیا۔اب عمران خان پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے ۔کہ وہ اس صوبے کے عوام کو اس اعتماد کاکیا جواب دیتا ہے ۔اب کی بار کیا پاکستان تحریک انصاف صوبے کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔لیکن پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کو اب ٹیم بناتے ہوئے احتیاط سے کام لینا ہوگا ۔ایساء نہ ہو کہ کسی ایسے شخص کو ویزاعلیٰ منتخب کرے جو صرف عمران خان کی خوشامد کر سکے۔ اس وقت صوبے کو جن مسائل نے گھیرے میں لیا ہوا ہے ۔امن امان کے ساتھ روزگار اور صاف پانی کے وہ گھمبیر مسائل ہیں ۔جن کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔ یہ درست ہے کہ نظام کے ٹھیک ہونے سے انصاف کا نظا م قائم ہوتا ہے۔ مگر اس نظام کو چلا نے کے لیے آمدنی بھی درکار ہوتی ہے۔حکومت کی آمدنی عوام کے ٹیکس سے زریعے ممکن ہوتی ہے۔اگر عوام خوشحال ہونگے تو ٹیکس دینے میں دشواری محسوس نہیں کریں گے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرے۔انڈسٹری کی بحالی اور نئے میگا پروجیکٹ لگانے کے لیے اقدامات کرے۔سرمایہ کاروں کو وہ سہولیات مہیا کرے جو سرمایہ کاری کے راستے میں روکاوٹ کا سبب بنتی ہے۔سب سے بڑھ کر خیبر پختونخوا میں قدرتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہے جن سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔حکومت اس معاملے میں ہنگامی اقدامات کر ے۔دوسرا بنیادی مسئلہ صاف پانی کا ہے ۔جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے یہ مسئلہ صوبے کے ساتھ ملک پاکستان کا گھمبیر مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ہنگامی بنیادوں پراس مسئلے کو حل کرے۔حکومت مزے لینے کا کام نہیں بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے کا نام ہے۔پچھلے دور حکومت میں عوام کے پاس یہ آپشن موجود تھا کہ عمران خان خود حکومت کا حصہ نہیں اور وفاقی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔ اس لیے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کی نالائق حکومت ہونے کے باوجود عمران خان کے ویژن کو سپورٹ کیا۔لیکن اس دفعہ وفاق میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے جا رہی ہے۔اس لیے عمران خان کے پاس اپنے وعدے پورے کرنے کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں۔اگر تحریک انصاف کی حکومت نے وعدوں کی تکمیل میں غفلت دیکھائی توعوام اگلے الیکشن میں احتساب کر دے گی۔


ای پیپر