فیصلہ خان کے ہاتھ میں ہے
03 اگست 2018 2018-08-03

زاہد محمود ظفر کا شمار میرے ان چند سینئرزدوستوں میں ہوتا ہے جو سیاست کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور مسلم لیگ(ن) سے محبت اُن کی جبلت کا حصہ ہے ‘وہ ایک بہترین ماہرینِ تعلیم ہیں۔ماضی قریب میں جب بھی عمران خان نے دھرنا دیا یا کوئی بھی سیاسی و اخلاقی غلطی کی‘انہوں نے عمران خان کے خلاف دل کی خوب بھڑاس نکالی۔جن دنوں عمران خان کی دوسر ی شادی کے چرچے تھے‘یہ مجھے طنزیہ لہجے میں بولے کہ’’عمران خان کی ایسی غلطیاں اُسے لے ڈوبیں گی‘‘اور پھر وہی ہوا کہ ریحام خان سے علیحدگی ہوگئی اور آج ریحام ’’جیسی عورت‘‘ گلی گلی خان کے خلاف زہر اگل رہی ہے ۔میرے یہ دوست بھی سمجھتے ہیں کہ ’’تبدیلی آئی نہیں‘ تبدیلی لائی گئی‘‘۔میرے یہ دوست بھی اس بات پر مصر ہیں کہ وزارت عظمیٰ کی سیٹ کے لیے عمران خان اہل نہیں‘عمران خان انتہائی جذباتی اور جلد باز ہے لہٰذا یہ عہدہ خان سے نہیں سنبھالا جائے گا۔
دو روز قبل میری ان سے ملاقات ہوئی اورحسبِ معمول خان پر تفصیلی مکالمہ ہوا ۔مجھے یہ دوست کہنے لگے کہ ’’ضروری نہیں جو شخص کرکٹر اچھا ہو وہ سیاست دان بھی اچھا‘‘۔مجھے ان کی بات میں وزن لگا مگر میں نے عرض کیا کہ محترم ایک اچھے اور کامیاب سیاست دان کی بنیادی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ کتنا کمٹڈ ہے ‘وہ اپنے وعدوں پر کتنا قائم رہتا ہے ۔آپ کو پتا ہے اس نے سو سے زائد دن دھرنا دیااور تب تک دھرنا ختم نہیں کیاتھا جب تک اُس کے مطالبات نہیں مانے گئے تھے سو اس سے آپ اندازہ کر لیں کہ وہ کتنا پکا اور نڈر آدمی ہے ۔ وہ میری بات سن کر مسکرائے اور بولے’’آپ کو لگتا ہے کہ دھرنا عمران کی وجہ سے کامیاب ہوا؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے عرض کیا ’’ اس کی ہمت بھی تو دیکھیں‘وہ جھکا اور نہ ہی ڈرا بلکہ ڈٹ کے کھڑ ارہا‘‘۔انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا ’’دھرنا خان نہیں ‘ نواز شریف کی وجہ سے کامیاب ہوا‘یہ نواز شریف کی ہمت تھی کہ یہ اتنے دن وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے بیٹھے رہے‘اُسے چور چور اور بدترین القابات سے بلاتے رہے مگر اُس شخص نے اِن کو نہ صرف موقع دیا بلکہ اِن کی بد اخلاقی بھی برداشت کرتا رہا‘جناب اگر حکومت نہ چاہتی تو یہ دھرنا کبھی بھی نہیں ہو سکتا تھا‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ ’’جناب میں مانتا ہوں کہ نواز شریف نے اس دھرنا میں برداشت کی انتہا کر دی مگر اس کا کریڈٹ خان کو جاتا ہے ‘جس نے لوگوں کو شعور دیا اور لوگ گھروں سے نکلے‘‘۔وہ مسکرائے‘چائے کی چسکی لیتے ہوئے دوبارہ گویا ہوئے’’حضور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر کبھی ایسا وقت خان پہ آیا‘وہ دو دن نہیں برداشت کر سکے گا‘آپ اس کے جذباتی پن سے خوب واقف ہیں لہٰذا آپ فیصلہ کر لیں‘‘۔ میں نے ہنستے ہوئے اثبات میں سرہلایا۔وہ دوبارہ بولے’’آپ ذرا سوچیں کہ عمران خان کے گھر کے سامنے اپوزیشن جماعتیں دھرنا دیں‘اسے چور چور کہیں اور بد اخلاقی کی انتہا کر دیں‘کیا عمران خان اُن کو سو دن برداشت کر لیں گے؟۔نہیں کبھی نہیں کیونکہ خان کے پاس اتنا سٹیمنا ہی نہیں ۔ و ہ مزید بولے’’ میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں‘کسی بادشاہ کے طاقتورگھوڑے سے ایک مشیربہت حسد کرتا‘اس حسد میں مشیر نے گھوڑے کو تھوڑا تھورا زہر دینا شروع کر دیا‘یوں گھوڑا اندر سے ختم ہوتاگیا۔ایک دن بادشاہ خوش تھا‘اس نے وہ گھوڑا اسی مشیر کودے دیامگر مشیر اب زیادہ پریشان ہو گیا کیونکہ گھوڑا اندر سے مکمل طور پر مر چکا تھا اور مارا بھی اسی مشیر نے تھا۔اب مشیر اس لاغر اور کمزور گھوڑے پر نہ تو سواری کر سکتا تھا اور نہ ہی بادشاہ کو واپس کر سکتا تھا‘‘۔یہ کہانی سنانے کے بعد کہنے لگے’’آغرؔ بھائی اصل میں عمران خان نے وزرتِ عظمیٰ کی کرسی کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس حاسد مشیر نے گھوڑے کے ساتھ کیا تھا‘لہٰذا آج یہ گھوڑا عمران خان کو مل توگیا مگر سواری کے قابل نہیں رہا‘ خان نے اس عہدے اور اس کرسی کو اتنا بدنام کیا‘اس کے خلاف اتنا پروپیگنڈا کیا کہ اب خان سے خود یہ کرسی سنبھالنا مشکل ہو گا‘‘۔ میں نے ان کی اس کہانی پر سر ہلایا‘سلام کیا اوراُن کے دفتر سے باہر نکل آیا۔
لیکن میں مسلسل اس بات پہ سوچ رہا ہوں‘کیا عمران خان اس کمزور گھوڑے کو دوبارہ سواری کے قابل بنائیں گے‘کیا عمران خان اس لاغر اور کمزور گھوڑے کو واپس کر دیں گے یا پھر اس کرسی کو مضبوط بنائیں گے۔کیونکہ عمران خان نے دھرنوں کی سیاست شروع کر کے نئی اپوزیشن کو راستہ دکھا یا۔ کیا خان صاحب اپنی دفعہ یہ سب فیس کر سکیں گے‘کیا وہ کچھ ڈلیور کر سکیں گے‘کیا وہ ان تما وعدوں کو پورا کر سکیں گے‘کیا عمران خان اب سنجیدہ ہو گئے( جیسا کہ ان کی وکٹری اسپیچ سے لگ رہا تھا)‘یا عمران خان اپنے مخالفین سے اتحاد برقرار رکھ سکیں
گے‘کیا چودھری برادران سے کی گئی کمٹمنٹ پوری ہوگی۔وہ ایم کیو ایم جسے خان ساری سیاسی زندگی گالیوں اور نفرت دیتارہا کیا اس کے ساتھ یہ چل پائیں گے۔کیا یہ طاہر القادری سے کیے وعدے پورے کریں گے‘ایک اطلاع کے مطابق خان نے قادری صاحب سے وزیر اعظم بنتے ہی ’’ماڈل ٹاؤن کیس‘‘ کے مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا بھی وعدہ کیا تھا‘تو کیا عمران خان یہ وعدہ پورا کریں گئے۔کیونکہ عوامی تحریک نے اسی بنیاد پر تحریک انصاف کو سپورٹ کیاتھا مگران دنوں فواد چودھری کی قادری صاحب کے خلاف بیان بازی سوچ سے باہر ہے ۔عمران خان اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں‘ان کی جیت تو ہو گئی مگر یہ ایسی جیت ہے جس کا پہیہ کسی وقت بھی جام ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے مقابلے میں سخت اپوزیشن بھی موجود ہے سواگر کسی بھی وقت خان نے ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا تو’’ تبدیلی لانے والے‘‘ پھر سے تبدیلی لا سکتے ہیں‘یعنی گیم چند سیکنڈوں میں بدل سکتی ہے اور اس کا انداز شاید عمران خان کو بھی ہو چکا ہے ۔اب فیصلہ عمران خان سوچ لیں کیونکہ بھٹو کی طرح خان کو شہرت بھی ملی اور نوجوانوں اور غریبوں کی سپورٹ بھی مگر کیا عمران خان بھٹو کی طرح سیاسی غلطیاں
دہرائیں گے یا عوام الناس کی آواز بنیں گے‘ فیصلہ خان کے ہاتھ میں ہے ۔کیونکہ میرے سمیت عمران خان سے محبت کرنے والے تمام لوگ جانتے ہیں کہ عمران خان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور اس کے لیے جذباتی ہو کر نہیں بلکہ ٹھنڈے دماغ سے سوچنا پڑے گا۔
قارئین دوروز قبل طالب علم نے کال کر کے گزارش کی کہ یونیورسٹی آف سرگودھا (منڈی بہاؤالدین کیمپس)کی یتیم طالبہ کو اپنے بی بی اے کے آخری سمیسٹر کی فیس درکار ہے ‘وہ اس وقت شدید ذہنی اذیت میں ہے ۔ جتنا بھی ممکن ہو سکے تمام دوست اس کی مدد کریں کیونکہ یہ ایسی’’ انویسٹ منٹ‘‘ ہے جو ضائع نہیں جاتی بلکہ دوگنی واپس ملتی ہے ‘اس طالبہ کی ڈگری مکمل ہو جائے گی اور اس کا کریڈٹ آپ احباب کو ہی جائے گا۔برائے رابطہ:0332-4259109


ای پیپر