آ لودہ پانی کا بحران اور عام شہری
03 اگست 2018 2018-08-03



قدرت نے انتہائی فیاضی اور دریادلی کے ساتھ انسانوں کو صاف اور پینے کے لائق پانی فراہم کیا ہے۔ یہ الگ بات کہ انسانوں نے اس عظیم نعمت کو بھی مختلف صنعتی فضلہ جات اور کیمیائی اجزاء کی آمیزش سے آلودہ کر دیا ہے۔ پانی کی آلودگی ایک سنگین عالمگیر مسئلہ ہے، اس کی جانب فوری توجہ کی اشدضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ارباب حکومت شہریوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانے کے بجائے ’’دیگر سرگرمیوں‘‘ میں مصروف رہتے ہیں۔کون نہیں جانتا کہ پانی انسان کی اہم ترین بنیادی ضرورت ہے۔ مہذب، ترقی یافتہ، فلاحی اور جمہوری معاشروں اور مملکتوں میں ارباب حکومت اپنے شہریوں کو بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ وہ ممکنہ ذرائع و وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں تاکہ شہریوں کی زندگیوں میں آسودگی اور آسائش کے احساس کو قوی اور تواناتر کر سکیں۔ وہ معاشرے اور مملکتیں جہاں ارباب حکومت اپنے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو بھی یقینی نہیں بنا سکتے، ان کی حکومتوں کی اعتباریت ہمیشہ موضوع بحث بنی رہتی ہے۔ جب کسی حکومت کی اعتباریت موضوع بحث بن جائے تو اس کے وجود کا معرض خطر میں پڑ جانا یقینی ہو جاتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے کسی علاقے میں بھی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پینے کا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا، بلکہ لاہور کے تمام شہری زہر آلود اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ شہر کے مختلف زونوں سے لیبارٹری تجزیہ کیلئے پینے کے پانی کے نمونے حاصل کئے گئے۔ جب لیبارٹری میں ان کا تجزیہ کیا گیا تو نتائج انتہائی لرزہ خیز اور حیران کن تھے۔ طبی ماہرین کے مطابق تجزیہ کے بعد پینے کے پانی میں جن اجزاء کی آمیزش سامنے آئی، اسے دیکھتے ہوئے بآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس پانی کو استعمال کرنے والے بدنصیب شہریوں کا ہیپاٹائٹس اور کینسر ایسے موذی اور جان لیوا عوارض میں مبتلا ہو جانا معمول کی بات ہے۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی شہری حلقوں میں تشویش و اضطراب کی لہر کا دوڑ جانا ایک فطری امر ہے۔ اس تشویش و اضطراب سے وطن عزیز کے شہری پہلی بار دوچار نہیں ہوئے۔
اس قسم کی چونکا دینے والی رپورٹس پہلے بھی کئی بار اخبارات کی جلی سرخیوں کی رونق بنتی رہی ہیں۔ جب اس قسم کی رپورٹس سامنے آتی ہیں تو بیان بازی اور سخن طرازی کی حد تک ارباب حکومت اور ارباب سیاست سرگرم عمل ہو جاتے ہیں لیکن جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ نان ایشوز کو اس شد و مد کے ساتھ اچھالتے ہیں کہ حقیقی ایشوز دب کر رہ جاتے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ وطن عزیز کی ایک بھی حزب اختلاف نے کبھی کسی دور میں عوامی مسائل کے حل اور حکومتوں پر دباؤ بڑھانے کیلئے منظم تحریک کا آغاز نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ پیش پا افتادہ مفادات و مسائل کیلئے حکومتوں سے الجھتی رہی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لاہور ایسے بڑے شہر میں شہریوں کو پینے کے لئے صاف پانی نہیں مل رہا تو دوسرے چھوٹے شہروں، قصبوں اوردیہاتوں میں شہری اس نعمت سے کس حد تک محروم ہوں گے؟ آلودہ پانی کے اس بحران کا سامنے صرف لاہور کے شہری ہی نہیں کررہے بلکہ کراچی، کوئٹہ، پشاور اور راولپنڈی ایسے اہم شہروں کے شہری بھی اس مسئلہ سے دوچار ہیں۔ بڑے شہروں میں پانی کی آلودگی کا ایک بڑا سبب واٹر سپلائی کا سالخوردہ نظام ہے۔ بعض چھوٹے شہروں اور قصبوں سے اس قسم کی شکایات بالعموم موصول ہوتی رہتی ہیں کہ صنعتی ایریاز میں کیمیائی فضلہ جات کے نکاس کا مناسب، موزوں اور محفوظ نظام سرے سے موجود نہیں۔ اس نظام کی تاسیس و تعمیر کیلئے نہ تو صنعتکاروں نے کبھی سوچا اور نہ ہی حکومتوں نے کوئی سلسلہ جنبانی کی۔ بعض صنعتی علاقوں میں کیمیائی اجزاء پر مشتمل مہلک پانی بدروؤں کی شکل میں آس پاس کی رہائشی بستیوں اور زرعی اراضی کیلئے پیام مرگ ثابت ہو رہا ہے۔
شہری حلقے، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹس کے ارباب بست و کشاد سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان سے مختلف ٹیکسزکس مد میں وصول کئے جاتے ہیں اور انہیں کن شعبوں کی تعمیر و ترقی پر صرف کیا جاتا ہے؟ اگر یہ ارباب اختیار انہیں صاف پانی کے چند قطروں کی فراہمی یقینی بنانے سے بھی قاصر ہیں تو کیا اس کے باوجود وہ اقتدار و اختیار کی شہ نشینوں پر متمکن رہنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں؟ صاف ظاہر ہے اس سوال کا جواب کوئی بھی ذی شعور شخص ’ہاں‘ میں دینے پر آمادہ نہیں ہوگا۔
سچ کہا تھا درویش شاعر ساغر صدیقی نے:
تشنگی تشنگی ارے توبہ!
قطرے قطرے کو ہم ترستے ہیں
اے خداوندِ کوثر و تسنیم
تیرے بادل کہاں برستے ہیں


ای پیپر