قومی اسمبلی کے 2 حلقوں میں پولنگ کا عمل، اس کے نتائج کالعدم قرار دینے کا فیصلہ
03 اگست 2018 (14:31) 2018-08-03

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 2 حلقوں میں پولنگ کا عمل اور اس کے نتائج کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 

شانگلہ کے حلقہ این اے-10 میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 74 ہزار 3 سو 43، اور اس میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 12 ہزار 2 سو 94 ہے، جس میں سے ایک لاکھ 15 ہزار 6 سو39 مرد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ یعنی تقریباً 54 فیصد مردوں نے ووٹ ڈالا جبکہ ایک لاکھ 62 ہزار 49 خواتین ووٹرز میں سے صرف 12 ہزار 6 سو 63 نے رائے شماری میں حصہ لیا۔ مذکورہ حلقے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عنایت اللہ 34 ہزار 70 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، جبکہ ان کے حریف عوامی نیشنل پارٹی کے سعیدالرحمٰن نے 32 ہزار 6 سو 65 ووٹ حاصل کیے۔

شانگلہ کا یہ حلقہ ان 44 حلقوں میں سے ایک ہے جہاں مسترد کیے جانے والے ووٹوں کی تعداد کامیابی کے تناسب سے بھی زیادہ ہے۔ دوسری جانب شمالی وزیرستان کے حلقہ این اے-48 میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 74 ہزار 2 سو5 ہے جس میں ایک لاکھ 96 ہزار 6 سو 68 مرد ووٹرز میں سے 57 ہزار 600 نے رائے شماری میں حصہ لیا۔ اس طرح تقریباً 29 فیصد مردوں نے ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ 77 ہزار 5 سو 37 خواتین ووٹرز میں سے صرف 8 فیصد یعنی 6 ہزار 3 سو 64 نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

یاد رہے کہ اس حلقے سے آزاد امیدوار محسن جاوید 16 ہزار 4 سو 96 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جن کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے اورنگزیب خان نے 10 ہزار 3 سو 69 ووٹ حاصل کیے تھے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ملک کے کئی دیگر حلقوں میں بھی خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی ، تاہم الیکشن کمیشن کی قائم کردہ حد 10 فیصد سے زائد ہونے کے سبب ان کے نتائج تسلیم کرلیے گئے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق کسی حلقے میں مرد اور خواتین ووٹرز کی کل تعداد میں اگر خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح 10 فیصد سے کم ہوگی تو اس حلقے کے نتائج تسلیم نہیں کیے جائیں گے اور پولنگ کا عمل کالعدم قرار پائے گا۔

 

 

 

 


ای پیپر