عمران صاحب ، ڈیم کا افتتاح چیف جسٹس سے کرا لیں
03 اگست 2018 2018-08-03

میں لکھنا تو یہ چاہتا تھا، کہ پاکستان کو آئی، ایم ، ایف کے مالک سیٹھ ٹرمپ کی جانب سے عمران خان کا جھکاﺅ چین کی جانب جُھکتا دیکھ کر فوراً اپنے وزیر خارجہ کی زبان سے تنبہہ کی گئی ، کہ آئی، ایم ، ایف سے لی ہوئی امداد سے ہم چین کے قرضے اتارنے کی اِجازت نہیں دیں گے، مگر سورة النسا میں ارشاد ہے کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے چھوٹے گناہ معاف کر دے گا۔
اِس خوشخبری اور نوید کے بعد اُمید ہے کہ تحریک انصاف قرضوں سے چھٹکارے اور کا کاسئہ گدائی توڑنے کے بعد سُود کے ” حق “ میں سپریم کورٹ نہیں جائے گی بلکہ اِس کو فوراً ختم کرنے کا عملی قدم اُٹھائے گی، کیونکہ کوئی مومن اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کا تصور نہیں کر سکتا۔
اللہ تعالیٰ اگر توفیق دے تو عمران خان یہ ضرور سُوچیں، کہ ” یوٹرن“ کا القاب جو جنرل پرویز مشرف کے نام کے ساتھ منسوب تھا، قوم نے اب عمران خان کے نام کے ساتھ کیوں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے؟
خود آپ کو یاد ہوگا کہ کراچی سے دھاندلی کی تمام تر شکایات کے باوجود، اگر ہم سید مصطفےٰ کمال کے پر سوز بیانات، فاروق ستار وغیرہ کے احتجاج، اور فہمیدہ مرزا صاحبہ، جیسی پاکستان کی قومی اسمبلی جیسے مقتدر ادارے کی باوقار سپیکر کی جگہ جگہ ” دُہائیوں“ سے درگذر کرتے ہوئے تحریک انصاف کی کراچی میں جیت کو آپ کے ہی اُس عمل پہ رائے زنی کریں، جس کی وجہ سے آپ کو یہ جیت نصیب ہوئی، اور آپ نے پانچوں سیٹوں سے جیت کر پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے جیتنے کے ریکارڈ کو بھی توڑ دیا، کیونکہ وہ چار سیٹوں سے انتخاب لڑے تھے، اور ایک سیٹ ہار گئے تھے، آپ پانچ سیٹوں سے لڑے، اور پانچوں جیت گئے، اُس وقت عوام کو ذوالفقار علی بھٹو سے روٹی کپڑااور مکان کی اُمیدیں تھیں، یہی اُمیدیں اب آپ نے عوام کو دی ہیں کہ ایک کروڑ افراد کو رُوزگار اور ملازمتیں دیں گے، اور پچاس ہزار گھر بنا کر دیں گے، ایسا کرنا اگرچہ ناممکن تو نہیں تاہم یہ کام کسی اَحد چیمہ جیسے ” کاریگر“ اور ٹھیکے دار سے نہ کرایا جائے تو،
کراچی کی جیت کے پیچھے آپ کی اُس ” للکار “ کا ہاتھ ہے کہ آپ نے متحدہ کی بھاری بھرکم شخصیت الطاف حسین کو چیلنج دیا تھا، کہ میں تجھے چھوڑوں گا نہیں، میں گھسیٹ کر تمہیں پاکستان لاﺅں گا، تم مجھ سے بچ نہیں سکتے، میں لندن آﺅں گا، اور سکاٹ لینڈ یارڈ سے تمہاری تحقیقات ، اور تفتیش کرواﺅں گا، آپ اِس کارروائی کے لئے لندن بھی گئے ، مگر تاحال اُس تحقیقات کا فیصلہ آپ نے ” محفوظ “ کیا ہوا ہے، کیا آپ اور فوج قوم سے کئے گئے وعدے پر قائم ہیں؟ یا مقتول نے قاتل کو معاف کر دیا ہے۔
میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ لندن جانا آپ کا ” بے ثمر “ نہیں ہوتا، آپ خوشگوار یادیں تازہ کر کے ” دل پشوری“ تو کر ہی لیتے ہوں گے، ہماری طرح اگر مولانا طارق جمیل کو ڈیڑھ سو فون ایک شخص کے آسکتے ہیں، کہ میری فلم کی کامیابی کے لئے دُعا کریں، تو میرا ، عائشہ گل لالئی، قندیل بلوچ وغیرہ کے فون بھی تو اپنا دِل ” تڑوانے “ کے لئے آسکتے ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی میں بے نظیر بھٹو کے کلاس فیلو اطہر طاہر آپ بھی وہیں پڑھتے رہے ہیں، بے نظیر صاحبہ نے وہاں یونین لیڈر کا انتخاب لڑا تھا، اُنہوں نے جس طرح اپنی مہم کا آغاز کیا تھا، اور اُن کی شروعات اور طریق کار سے آپ بھی آگاہ ہوں گے.... میں جنرل ضیاءالحق کا اِس لئے مداح خواں ہوں، کہ وہ اخلاقی قدروں سے آشنا تھے، میں جنرل ایوب خان کا بھی بے حد قدردان ہوں، کہ پاکستان کو ترقی کے بام عروج پہ پہچانے والی وہ محب، وطن، خود دار اور باوقار شخصیت آپ کے بیانات کے مطابق ، آپ کی بھی اِس حوالے سے ” آئیڈئل“ شخصیت تھی، کہ غیر ملکی دوروں میں اُن کے ہم منصب حکمران، استقبال کرنے اور الوداع کرنے ایئر پورٹ خود آتے، اور وہ صدر جانسن، صدر کینڈی، ملکہ الزیبتھ، فرانس کے صدر ڈیگال کے ساتھ اِس طرح معانقے کرتے ، یوں محسوس ہوتا، پاکستان بہت بڑی عالمی طاقت ہے، اور امریکہ برطانیہ ہمارے خراج گزار ہیں.... جنرل ایوب خان نے بھارت کے مقابلے میں روپے کی قدر نہیں گرنے دی تھی، اور دنیا میں پاکستان کی قدر و قیمت میں بھی کمی نہیں آنے دی تھی، اور کہتے تھے کہ میں بھارت کے مقابلے میں اپنے روپے کی قیمت کم نہیں ہونے دونگا۔ ہم اِس بات کے منتظر ہیں بلکہ ہماری آنکھیں ترس گئی ہیں.... کہ پاکستان کے حکمرانوں، کو بھی آفیسر مہمان داری اور ڈپٹی سیکرٹری جیسے عہدیدار کی بجائے، اُس ملک کے ہم منصب حکمران، الوداع اور استقبال کریں، روپے کی قدر و قیمت ، کیوں گھٹتی بڑھتی ہے، حالانکہ روپے کی قدر سے ہی مُلک کی ”قدر و قیمت “ وابستہ ہوتی ہے،
پاکستان میں جب نگران حکومت کا کنٹرول ہوا تھا، تو عوام کو بڑنے وثوق سے کہا گیا تھا کہ نگران حکومت ، حالات کو جوں کا توں رکھے گی، اور کِسی قسم کا فیصلہ کرنیکی مجاز نہیں ہوگی یہ خبر سُن کر حصص میں زبردست تیزی آگئی تھی، اور انڈکس میں 965 پوائنٹس اضافہ ، اور سرمایہ 143 ارب بڑھ گیا تھا،
مگر نگران حکومت کی وفاقی وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی ادارے کے حُکام سے معنی خیز ملاقات کے بعد اُن کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور مفتاح اسماعیل کی ڈگریاں، ایگزٹ کی ڈگریاں ثابت ہوئیں اور ڈالر کی قدر میں اضافہ کر دیا گیا، اور روپے کی قدر میں 55 فیصد تاریخی کمی کر دی گئی، اور سرکاری شرح سُود میں بھی ایک فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ تا کہ آئی ایم ، ایف سے قرضہ لینے کی راہ ہموار کی جاسکے، جس کی پہلی کڑی شرط ہی یہ ہوتی ہے، کہ گیس، تیل وغیرہ کی قیمتیں بڑھا دی جائیں۔ اور پاکستان کی سابقہ ہر حکومت نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر زر مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بچگانہ حرکت کی، جس سے قیمتوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہوا اور مہنگائی کا طوفان آگیا۔ ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کہتے ہیں ، کہ اِس کا ایک ہی حل ہے، کہ اب مہنگائی کے طوفان کو کم کرنیکے لئے ، ملک میں زر مبادلہ کا ” طوفان “ لایا جائے بیرون ملک رہنے والے پاکستانی بلا شعبہ صحیح محب وطن ہیں، تحریک انصاف کی جیت پر بیرون ملک امریکہ میں مقیم میرے بھائیوں نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ چیف جسٹس کیسے ہیں، اور عمران خان کا پانی کی قلت دُور کرنے کیلئے کیا اعلانات، اور منصوبہ جات ہیں اور ہماری بھیجی ہوئی رقوم کی گارنٹی کیو ہوگی، کیا واقعی یہ ڈیم بنانے کیلئے استعمال ہوگی؟ میں نے اُ سے بتایا کہ یہ پیسہ سٹیٹ بنک میں جمع ہوگا، کیونکہ ثاقب نثار صاحب ، قسم کھا کر کہتے ہیں، کہ ہم اپنی آئیندہ آنیوالی نسلوں کیلئے یہ کام چاہتے ہیں۔
اِس حوالے سے میری چیف جسٹس سُپریم کورٹ، اور عمران خان صاحب سے یہ گذارش ہے کہ کسی ایک ڈیم کا سنگ بنیاد وہ چیف جسٹس صاحب سے رکھوالیں، بیرون اور اندرون مُلک پاکستانیوں پر اس بہت زیادہ مثبت رد عمل ہوگا۔ اپنے بھائی کو میں نے بتایا ، کہ موجودہ چیف جسٹس شاید اِسی مہینے ریٹائر ہو رہے ہیں اور آئندہ آنے والے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے، میں نے ڈیرہ غازی خان فون کر کے معلومات لیں ، تو پتہ چلا کہ اُن کے نیک نام والد محترم فیض کھوسہ صاحب ، اور موصوف کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، اور یہ دونوں ماضی میں اس پارٹی کے سرگرم کارکن رہے ہیں۔ میں نے بھائی کو بتایا کہ جہاں تک عمران خان ، نواز خان، اور جناب ثاقب نثار صاحب کا تعلق ہے، ہم تینوں جذباتی ہیں، کیونکہ ہم انسان ہیں ہمارے ماضی ، حال اور مستقبل کو اِسی تناطر میں دیکھیں ۔
قارئین، میری جذباتیت کا اندازہ اِس بات سے لگائیں کہ میں نے بات تو شروع کی تھی کہ عمران خان نے الطاف حسین ، اور پاک فوج نے بھی اعلان کیا تھا، کہ الطاف حسین کو واپس لا کر اُس پر غداری کے مقدمات چلائے جائیں گے، مگر اب جہانگیر ترین ، بدترین کردار ادا کرتے ہوئے، ایم کیو ایم کے در پہ امیر ہونیکے باوجود بھیک مانگ رہے ہیں، شاید اس لئے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی میں سیاست سے ریٹائر ہو جاﺅنگا۔
بھائیوں نے مجھ سے پوچھا ، کہ کیا انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ میں نے کہا مولانا فضل الرحمن کو چھوڑ دیں، مولانا سراج الحق، مصطفیٰ کمال ، پیر پگاڑہ، خورشید شاہ ، سعد رفیق ، یوسف رضا گیلانی ، شہباز شریف ، وغیرہ کوئی ایک تو سچ کہتا ہوگا، مگر یہ بھی حقیقت ہے، کہ تاندلیانوالہ فیصل آباد سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے والا امیدوار، خود کشی کر گیا۔ اور اپنی کیبنٹی پر پستول کی گولی مار لی۔ کیونکہ اس کے بیٹوں نے کہا تھا کہ ہم نے ووٹ آپ کو نہیں، عمران خان کو دینا ہے۔ جہاں تک بلاول کی بڑھک کا تعلق ہے ، کہ ہم بتائیں گے کہ اپوزیشن کیسی ہوتی ہے، اِس نو عمر کو صرف تصویر ہی دکھا دی جائے، تو اِس خاندان سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں، عمران خان کو اور کیا چاہئے؟ عوام کو تو ملک کا استحکام عزیز ہے۔ تحریک انصاف کی کامیابی کا سن کر تو ڈالر منہ کے بل گر پڑا ہے، خدارا اِ سے اٹھانے کی کوشش نہ کریں گرا ہی رہنے دیں۔ آپ کی رائے 0300-4383224


ای پیپر