موبائل بکرامنڈیاں
03 اگست 2018 2018-08-03

عید الاضحی کا چاند ابھی دکھائی نہیں دیا مگر ہر طرف قربانی کے جانور دکھائی دینے لگے ہیں ۔ ہر برس دوسرے شہروں سے بیوپاری قربانی کے جانور ٹرکوں میں بھر کر لاہور آ بیٹھتے ہیں سو یہاں کی روایتی منڈیوں کے علاوہ بھی جانوروں کی منڈیاں وجود میں آ جاتی ہیں ، ہر سڑک اورچوراہے پر بکرے دنبے دکھائی دیتے ہیں ، جس سے ٹریفک کا سارا نظام چوپٹ ہو جاتا ہے ۔ گزشتہ روز تو ٹھوکر نیازبیگ سے موہلنوال تک قربانی کے جانوروں کی آمد کے سبب ٹریفک بری طرح جام رہا ، دوسرے شہروں سے آنے والے ٹرک ،لو ڈر اور منی ٹرک ،سڑک پر ٹریفک کو سست بنا ئے ہو ئے تھے ، ایسے مناظر ہر سال دیکھنے میں آتے ہیں مگر ہم شہروں میں ٹریفک کا نظام بہتر کر نے پر کو ئی توجہ نہیں دیتے ۔ بسوں کی چھتوں پر بھی قربانی کے جانور سفر کرتے نظر آ تے ہیں، شہر میں ، کیری ڈبوں اور رکشوں میں بھی بکرے دکھائی دیتے ہیں ٹریفک ہی کے سبب اگلے روز ہم یونیورسٹی میں قدرے تا خیر سے پہنچے تو ہمارے ایک پروفیسر صاحب فرمانے لگے : لگتا ہے آپ بھی ٹریفک کے سبب لیٹ ہوئے ہیں، ہم نے کہا آ پ درست کہتے ہیں ، ابھی عید کو کافی دن پڑے ہیں مگر قربانی کے جانو ر شہر میں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں ، پروفیسر صاحب فرمانے لگے عید الفطر پر تو کپڑو ں کی شاپنگ ہو تی ہے مگر بڑی عید پر بچے بھی قربانی کا جانور خریدنے کی ضد کر نے لگتے ہیں، ہمارے پڑوس میں شیخ صاحب نے ابھی سے بکرا باندھ لیا ہے ، پہلے روز تو اس نے خوب وا ویلا کیا ،اس کے شور سے رات پر سونا دشوار ہو گیا تھا ، اب شیخ صاحب کے بچے بکرا لے کر نکلتے ہیں تو ہمارے بچوں نے بھی ضد کرنا شروع کر دی ہے کہ اپنا بکرا بھی لایا جا ئے ، پروفیسر صاحب بتانے لگے کہ قریبی منڈی گیا تو بکروں اور چھتروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں ۔ مہنگا ئی کے اس دور میں بکرا خریدنا آسان نہیں رہا، بچے کی خاطر ٹیڈی بکرا خریدنا پڑا اور قربانی کے لئے گا ئے میں حصہ ڈال دیا ۔ کیا کریں دوسروں کے گھر سے گو شت آنے کا انتظار کو ن کر ے ؟ اب تو قربانی بھی ایک سٹیٹس کی علامت بن گئی ہے ،نہ کریں تو طرح طرح کے سوال کیے جاتے ہیں ۔پھراپنے بکرے کی بڑھ چڑھ کر قیمتیں بیان کیجاتی ہیں ، پچھلے سال تو بکروں کا سستا با زار بھی لگا تھا مگر وہا ں بھی اتوار بازاروں کی طرح دو نمبر مال موجو د تھا ، سنا ہے چوری کے بکرے بھی ایسے با زاروں میں فروخت ہو تے ہیں ۔ ہم نے کولیگز کو بتایا کہ اب تو آن لائن بکرے بھی دستیاب ہیں، لوگ اپنا وقت بچاتے ہیں اور عید سے ایک روز پہلے اپنا بکرا منگوا لیتے ہیں ۔ پروفیسر صاحب بولے : سر پچھلے سال یہ بھی کر کے دیکھا تھا، مگر تصویر میں جو بکرا نظر آتا ہے وہ ڈیلوری کے وقت بلی دکھائی دینے لگتا ہے۔شاہ صاحب بولے: ” ہمارے گھر کے قریب ہی بکرمنڈی ہے ، میں روزانہ وہاں ایک گھنٹہ گزارتا ہوں تا کہ بکروں کی قیمتوں کا پتہ چلتا رہے۔ اگلے روز ایک جگہ خاصا رش تھا، پتہ چلا کہ یہاں سیاسی بکرے بندھے ہوئے ہیں ، ایک بیوپاری نے بتا یا اس ٹینٹ میں نواز شریف سے لے کر زرداری اور فضل الرحمن تک نام کے بکرے پائے جاتے ہیں ، میرا اشتیاق بڑھا تو میں فضل نامی دُنبے کی طرف بڑھ گیا، اُ س کا مالک کہنے لگا ، بچپن میں تو اسے ہم جھارا پہلوان کہتے تھے مگر الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے محلے والوں نے اس کا نام ڈیزل رکھ دیا ، لہٰذا یہ نام بہت بابرکت ثابت ہوا ہے ۔ اس کے قریب لوگو ں کا رش بڑھتا جا رہا ہے۔ بکروں کی ایک جوڑی بٹ برادران کے نام سے بھی دیکھی گئی جس کی قیمت ایک لاکھ پچیس ہزار تھی ، ایک بکرا دو لاکھ روپے کا تھا ، اس کا مالک بتا نے لگا کہ میں نے اس بکرے کو بڑے شوق سے پالا ہے، دیسی گھی اور فروٹ تک اسے کھلاتا رہا ہوں، دو لاکھ روپے سے زیادہ تو اس پر خرچ ہو چکے ہیں اوپر سے منڈی والوں کے بھتے الگ ہیں ، ایک بہت سمارٹ اور چاق و چوبند بکرے کے پیچھے ایک بینر پہ لکھا ہوا تھا ”سونامی بکرا “ میں نے اس کے مالک سے پوچھا کہ کیا اتنے قیمتی بکرے لو گ خرید لیتے ہیں تو وہ مونچھوں پہ ہاتھ پھیرتے ہو ئے بتانے لگا کہ بھائی جی شوق دا کو ئی مُل نہیں۔ ایسے بکرے خریدنے والے شوقین بھی ہوتے ہیں ، چند بکرے ایک طرف بیٹھے جگالی کر رہے تھے ، میں نے پوچھا کہ یہ سب کیوں اونگھ رہے ہیں ، اور کچھ تو اداس نظر آتے ہیں، پاس کھڑے ایک نوجوان نے ہنس کر کہا : ” لگتا ہے یہ انتخابات ہا رے ہوئے بکرے ہیں ، پھر بولاسر جی لگتا ہے کہ منڈی ابھی پوری طرح شباب پر نہیں آئی لہٰذا خریداری کر نے کے لئے بہترین وقت عید سے ایک دو روز پہلے یا عید کی شام ہو تا ہے ،
آگے بڑھا تو دیکھا کہ کچھ بکرے اور دنبے بڑے سجے ہوئے پھر رہے تھے ، پتہ چلا کہ یہ جنوبی پنجاب کا کیمپ ہے ، میں نے یو نہی ایک شخص سے پو چھا کہ یہ بکرے یہاں سوکھی گھا س کھا کر کیسے ہشاش بشاش نظر آ تے ہیں تو اُس نے سرگوشی سے بتا یا کہ بعض بکروں کو بیسن والا پانی پلا کر لوگوں کو بکرا بنا یا جا تا ہے ۔
شاہ صاحب کی بات ختم ہوئی تو ہم نے کہا قربانی سنت ضرور ہے لیکن قربانی کے جانوروں کا کو ئی باقاعدہ ریٹ مقرر ہو نا چاہیے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہر چوراہے میں بکروں کی منڈیا ں قائم نہیں ہو نی چاہییں ، انتظامیہ کو اس سلسلے میں چستی دکھانی پڑے گی ورنہ جیسے جیسے عید قریب آئے گی ، شہر میں چلنا دوبھر ہو جا ئے گا۔سب نے کہا : بالکل یہ موبائل منڈیاں اِن دنوں میں وبال جان بن جاتی ہیں ۔اس کا کوئی تدارک ہونا چاہئےے۔


ای پیپر