Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
03 اپریل 2021 (11:29) 2021-04-03

18 مارچ کی صبح جناب گلزار بھائی کا فون آیا کہ کسی سے پتہ کرو ڈاکٹر صاحب کے اکلوتے بیٹے کے حوالے سے کچھ بری خبر ہے۔ میں نے پوچھا کون ڈاکٹر صاحب وہ بولے قبلہ جناب ڈاکٹر شہریار احمد شیخ (مسیحائے شہر) میں نے کہا اللہ نہ کرے،پھر ان کے سیکرٹری عبدالباسط کو فون کیا کہ ڈاکٹر صاحب کلینک کر رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا ڈاکٹر صاحب کے بیٹے ڈاکٹر مبین صاحب دنیا میں نہیں رہے بس پھر کہنے سننے کو کچھ باقی نہ رہا۔ ڈاکٹرمبین شہید امریکہ میں رہتے تھے۔ آرکیٹیکٹ بننے کا شوق تھا ۔دل کے لاجواب ڈاکٹر بن گئے اپنے بچوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کیریبین گئے ہوئے تھے۔ رافٹنگ کے دوران سمندر کی قاتل لہر نے انہیں اور ان کے 16 سالہ بڑے بیٹے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بیٹاتو بچ گیا مگر ڈاکٹر مبین شہیدؒ ہو گئے۔ ڈاکٹر جناب شہر یا راحمد شیخ کو میں نے بہت دیکھا ملا اتنے معصوم، انسان دوست، نرم خو، خوش اخلاق، متقی ، صاحب کشف و تصوف اور روحانی شخصیت کہ میری کسی اور ایسے عاشق رسول سے ملاقات نہ ہوئی۔ مزاج کہ پھول کی پنکھڑی اور تتلی کے پر سے بھی زیادہ نازک ، ایسے حلیم اور عاجز انسان کہ بیان کرنا ناممکن ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان گنت لوگوں کا مفت علاج کیا اور دوائیوں کا بندوبست بھی اور یوں نظر نیچی کر کے جیسے ڈاکٹر صاحب کی وہ مدد کر رہے ہیں میں نے کسی شخص کو ڈاکٹر صاحب کے متعلق منفی بات کرتے سنا اور نہ ہی کسی مریض کے معاملہ میں کبھی کوئی غفلت کی بات سنی۔ ڈاکٹر صاحب امریکہ سے پڑھ کر آئے اور لاہور میں دل کے ڈاکٹروں میں نمبر 1 قرار پائے۔ آج بھی وہی مقام ہے۔میں سوچتا ہوں جس ناقابل بیان صدمہ میں مسیحائے شہر مبتلا ہو گئے اب مسیحا کی مسیحائی کون کرے گا یقینا اللہ رب العالمین جس نے بتا دیا تھا کہ ’’دنیا میں جو بھی شے ہے اس کو فنا ہونا ہے‘‘۔ کوئی نہیں جانتاکہ اگلے لمحے وہ کیا کمائی کرنے والا ہے یا کیا نقصان اٹھانے والا ہے‘‘۔ ’’کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا ‘‘ جنت البقیع ،جنت معلی، بدر، احد اور کربلا کے پہلو میں قیام فرما لوگ صبر کی تلقین کرتے ہیں ابواء کے مقام پر میرے آقاؐ کی والدہ ماجدہ کا قیام دنیا فانی کی نوید سناتا ہے۔ ہمارے اجداد کے قبر ستان اور قبر ستانوں کے باہر تیار ہوتے ہوئے قبر وں کے نئے کتبے پکار رہے ہیں کہ ’’ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ‘‘۔ قرآن عظیم نے دنیا کی زندگی کو کھلا دھوکہ قراردیا ہے۔ تمام انبیاء کرام 

ؑاخروی زندگی کی تیاری بتانے کے لیے آئے تھے جس اسی زندگی میں کرنا ہے جو ڈاکٹر صاحب کے بیٹے جناب ڈاکٹر مبین احمد شیخ شہید ؒنے خوب کر رکھی تھی۔ اللہ کریم ان کی شہادت کو قبول فرمائے۔ سکت نہ تھی میں سوچتا رہا کہ ڈاکٹر صاحب کا سامنا کیسے کروں گا ، کیسے اظہار ہو گا اور وہ کیسے ہوں گے۔ دل کو سنبھالا دیا ۔ڈاکٹر صاحب کے گھر تیسری مرتبہ جانے پر زیارت ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب سفید چادر پڑی دو میزوں کے دوسری طرف تھے ۔ کورونا ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے غمگساروں کا پرسا لے رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کھڑے ہوکر سب کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ آنے والوں میں وزراء ، سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے ججز، اعلیٰ بیورو کریٹ، لکھاری، صحافی، صنعتکار، میڈیا پرسنز، ڈاکٹرز گویا زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ یہ سلسلہ شہید کی میت آنے اور تدفین تک رہا۔ ان مراحل کے دوران ڈاکٹر صاحب پر جو گزری، ہر لمحہ وہ جانتے ہیں یا پھر اللہ۔ 

ڈاکٹر صاحب ہر ایک کی خیریت ، مزاج اور معاملات پوچھتے مگر میں جانتا ہوں آنکھوں کی اوقات کو یہ یکدم بھرم توڑ دیتی ہیں اور آنسوؤں کو نکال باہر کرتی ہیں۔ آنسوؤں کی جل تھل سے بھی واقف ہوں بہت جلدی خشک ہو جایا کرتے ہیں۔ دل کی کرگزرنیوںسے بھی آشنا ہوں یہ تڑپتا ہے، دھڑکتا ہے مگر ہر لمحے بدن کو خون کی سپلائی کرنے کی بجائے اپنی پیاس بجھانے لگتا ہے، مجھے پٹھوں کی قوت کا بھی علم ہے کہ ساقط ہو جایا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب یکدم چھلک پڑتے ہاتھوں سے سوالیہ نشان اور اشارہ کرتے کہ یہ کیا ہو گیا۔ ایقان کے پیکر ان ہستی کا استقلال دیدنی تھا شاید قدرت نے اسی اندوہناک سانحہ کے لیے اس قدر تقویٰ کی دولت عطا کر رکھی تھی۔ چاہنے والے سب  بے بس تھے کہ ان کے مسیحا تو دہائیوں سے اللہ کے فضل سے ان کے دلوں کو سنبھالا دیئے ہوئے ہے۔ آج ان کا دل کرچی کرچی ہے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ 

یقینا ان گنت جنموں کی شکتی اور پیغمبرانہ حوصلے درکار ہیں۔ ایسے سانحات ایک باپ اور خاندان کے لیے ایسے ہیں جن کے اظہار کے لیے قدرت نے کوئی زبان بنائی نہ الفاظ البتہ فرما دیا کہ 

’’کہو ، وہ اللہ ہے، اللہ بے نیاز ہے ،سب اس کے محتاج ہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے‘‘ لہٰذا میرے (اللہ) سامنے بیٹے ،والد ،بھائی بیٹی،خاوند،بیوی یا کسی رشتے کی پکار لے کہ مت آنا میں ان رشتوں سے بے نیاز ہوں ۔ نماز اور صبر سے ہمت اور مدد لو مگر یہ ایسے دکھ ہیں جو بچوں کو بوڑھا کر دیں ، جو قیامت کے خوف کی بجائے شوق پیدا کر دیں کہ جس دن بچھڑے ہوئے پھر ملیں گے۔ 

میں سوچ رہا تھا ڈاکٹر صاحب نے کبھی نماز حاجت اور ڈاکٹر مبین کی ولادت پر شکرانہ کی نماز پڑھی ہو گی۔ کبھی ان کے لیے لیڈی ڈاکٹر اور ہسپتال کا انتخاب کیا ہو گا کبھی ’’جھنڈ‘‘ پہلے بال اتارنے والے نائی کا پوچھا ہو گا اور اذان و گھٹی کے مرحلے ہوں گے۔ آج غسل دینے والے، آخری آرام گاہ کے لیے قبرستان کا اور نماز شکرانہ کی بجائے نماز جنازہ کے اہتمام کا بندوبست کرتے ہوئے دیکھ کر دل کی حالت ناقابل بیان تھی۔ ہر جاندار جس نے اس دنیا میں سانس لیا موت اس کا مقدر ٹھہری لیکن جب کسی پیارے کا وصال ہو جائے تو وہ خبر کئی قیامتوں کا آنا ہوتا ہے اور پھر تدفین تک کی گھڑیاں اللہ پناہ! ڈاکٹر صاحب کبھی سکول، کالج اور اب امریکہ سے بیٹے کی واپسی کا انتظار کرتے ہوں گے مگر آج یہ مسیحا کس کا انتظار کر رہے ہیں اور لوگ بھی کیسے کیسے ہیں کہ پوری تفصیل پوچھ رہے ہیں۔ بتانے والے صرف ڈاکٹر صاحب ہیں کیونکہ اور کوئی بیٹا بھی نہیں۔ یہ لمحہ لمحۂ موت ساعت ساعت جان کنی یقینا ایک انتہائی متقی ہستی ہی سامنا کر سکتی تھی۔ مگر اولاد کے معاملے میں تو بڑے مقبول و منتخب بندوں کے دل دہل جاتے ہیں انسان تو درکنار دیگر جاندار بھی اولاد کے لیے لازوال محبت اور احساس رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر مبین شہید ؒکی نماز جنازہ (جامعہ اشرفیہ) میں ہر شعبۂ زندگی کے افراد نے محبت کے ساتھ شرکت کی۔ آہوں اور سسکیوں کے ساتھ آخری آرام گاہ (شاہ جمال قبرستان) میں اتارا۔ ڈاکٹر صاحب کو شہید کی ایمبولینس میں قبرستان جاتے ہوئے سلام کیا تو چشم تصور شہیدؒ کی بارات والی کار پر چلی گئی مگر آج سفر آخرت ہے اور بغیر حساب کے جنت میں داخلہ ہو گا۔ شیخ الحدیث نے آقا کریمؐ کا حضرت معاذ بن جبلؓ کو بیٹے کی وفات پر لکھا گیا خط اور حدیث بیان فرمائی کہ پانی میں شہید ہونے والے خشکی کے دو شہدا کے برابر ہیں۔ اللہ کریم ڈاکٹر صاحب کو باقی آل اولاد کے سر پر قائم رکھے اور معجزانہ خوشیاں عطا فرمائے اور ان کے صدمے کو روحانی قوت میں بدلے اور صبر عطا کرے۔


ای پیپر