ترکی کے انتخابات اور طیب اردوان کا مستقبل
03 اپریل 2019 2019-04-03

اتوار 31مارچ کو جمہوریہ ترکی کے اندر ہونے والے وہاں کے نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے جہاں یہ ثابت کر دیا ہے کہ صدر طیب اردوان عوام کے مسلمہ ، منتخب اور جمہوری رہنما ہیں۔۔۔ ان کی قیادت کو وہاں کے دور دراز علاقوں تک عام آدمی کا اعتماد حاصل ہے ، وہیں یہ حقیقت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے کہ جمہوریت کا اپنا ہی رنگ اور مزاج ہوتا ہے۔۔۔ وہ کسی کے گھر کی لونڈی بن کر نہیں رہ سکتی۔۔۔ اس نظام کے تحت اگر پوری طرح رو بہ عمل ہو تو مقبول سے مقبول عوامی لیڈر کے پاؤں تلے زمین کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔۔۔ اتوار کے روز منعقد ہونے والے عوامی ریفرنڈم نے صدر طیب اردوان کو 52.5 فیصد کی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔۔۔ مگر اس کے ساتھ ہی ان کی حکمران جماعت ڈویلپمنٹ اینڈ جسٹس پارٹی ملک کے دو سب سے بڑے شہروں، دارالحکومت انقرہ اور اقتصادی تجارتی و تاریخی اہمیت رکھنے والے عظیم شہر استنبول سے میئروں کا الیکشن ہار گئی ہے۔۔۔ یہ فی الواقع جناب اردوان کی مضبوط سیاسی شخصیت اور موصوف کے 17 سالہ دورِ حکمرانی کے لیے دھچکے کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ طیب اردوان صاحب کو چیلنجوں کا مقابلہ کرنا خوب آتا ہے۔۔۔ جولائی 2016ء میں انہوں نے اپنے خلاف برپا ہونے والی فوجی بغاوت کو جس پامردی اور عوام کی زبردست تائید و حمایت کے ساتھ کچل کر رکھ دیا مسلم دنیا کی حالیہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔۔۔ مگر جو ترک عوام اتنے بڑے لیڈر کے حق میں مظاہرہ کرتے ہوئے فوجی ٹینکوں کے سامنے لیٹ جانے اور بغاوت کا رخ موڑ کر رکھ دینے کی جرأت دکھا سکتے ہیں، وہی عوام ایسے قائد سے اپنی اقتصادی پریشانیوں اور معاشی محرومیوں کو دور کر کے رکھ دینے کی بھی بھرپور توقع رکھتے ہیں۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ طیب اردوان کے سولہ سترہ سالہ دور میں ترکی اور اس کے لوگوں نے غیر معمولی ترقی کے راستوں کو عبور کیا ہے۔۔۔ ترکی تیزی کے ساتھ مسلم نہیں پوری تیسری دنیا کے لیے ماڈل کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا تھا مگر حالیہ مہینوں میں لیرا جس تنزل کا شکار ہوا، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور بیروزگاری بڑھنے لگی۔۔۔ گزشتہ ہفتے کے بلدیاتی انتخاب کے نتائج میں اس کے اثرات سامنے آ گئے۔۔۔ اپوزیشن کی جماعتوں نے جو مسلسل انتخابی پسپائی کا سامنا کرتی چلی آ رہی تھیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور استنبول اور انقرہ کی میئر شپ چھین کر اپنی جھولی میں ڈال لی۔۔۔ بظاہر یہ بڑی شکست نہیں ہے لیکن جمہوریہ ترکی اور خاص طور پر جناب طیب اردوان کے لیے اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ یوں کہیے کہ دارالحکومت انقرہ کی کنجی ان کے ہاتھوں سے نیچے آن گری ہے۔۔۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ استنبول جس کا آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے شہر اور صنعت و تجارت کا مرکز ہونے کے ساتھ غیر معمولی تاریخی اہمیت کا حامل ہونا تو اپنی جگہ مسلم ہے۔۔۔ یہ وہ مقام بھی ہے جہاں سے انجینئر نجم الدین اربکان کی قیادت میں طیب اردوان صاحب نے سیاسی اٹھان لی تھی۔۔۔ میئر منتخب ہوئے تھے۔۔۔ روٹیوں اور کھانے کی سستے داموں فروخت کا ایسا نظام وضع کیا کہ ہر غریب آدمی کے منہ کو نوالہ مل گیا اور یہ کسی سوشلسٹ رہنما کا نعرہ اور پروگرام نہیں تھا۔۔۔ نہ اتاترک کی سیاسی وراثت کا تسلسل تھا۔۔۔ بلکہ ترکی میں اسلامی تہذیب اور اعلیٰ دینی اقدار کے احیاء کی لہر چل پڑی تھی۔۔۔ جمہوری عمل شانہ بشانہ تھا ۔۔۔ سب سے بڑے اور مرکزی حیثیت رکھنے والے شہر کے میئر کی حیثیت سے طیب اردوان صاحب اس لہر کے شہ سواروں میں سے ایک تھے۔۔۔ انہیں وہ پذیرائی حاصل ہوئی جو 2003ء میں تمام رکاٹوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بطور منتخب وزیراعظم ان کی کامیابی پر منتج ہوئی۔

اسی شہر استنبول میں جو اپنے تمام تر اوصاف کے ساتھ مشرق و مغرب کا سنگم بھی ہےَ ایا صوفیاء جیسی عبادت گاہ اور صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مرجع خلائق مزار کا مستقر ہونے کے علاوہ اس کے چپے چپے پر عالمی سیاحوں کی دلچسپی کے مقامات پائے جاتے ہیں۔۔۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے۔۔۔ ترکی کی تجارتی و صنعتی گاڑی کا انجن بھی استنبول کو سمجھا جاتا

ہے۔۔۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ شہر بے مثال میں لاہور اور کراچی کی تمام صفات یکجا ہو گئی ہیں۔۔۔ طیب اردوان نے اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز سے لے کر اب تک اسی کو اپنی چاہتوں اور محبتوں کا مرکز بنایا ہے۔۔۔ وہ یہاں سے عوامی طاقت کا جذبہ حاصل کرتے تھے اور پورے ملک پر چھا جاتے تھے۔۔۔ اتوار کے روز ہونے والے بلدیاتی چناؤ میں اپنے نامزد امید وار کے لیے میئر کی نشست ہار جانا کسی اور کے نزدیک اہمیت کا حامل ہو یا نہ ہو طیب اردوان کو یقیناًاس سے دھچکا پہنچنا ہے۔۔۔ اگرچہ ووٹوں کے تناسب سے شکست اتنی بڑی نہیں ہے۔۔۔ مخالف ری پبلیکن پارٹی (CHP) کے اتحاد کے امیدوار اکرم امامو گلو کو 48.8فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ جناب اردوان کی جماعت کے امیدوار ڈویلپمنٹ اینڈ جسٹس پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر بن علی یلدرم نے 48.5 کے فرق کے ساتھ شکست کھائی ہے۔۔۔ لیکن اس معمولی ہار میں بھی مخالف جماعتوں کے حوصلوں کو نئی زندگی اور حوصلہ دیا ہے۔۔۔ اس واقعہ کو صرف ایک مقامی سیاسی رجحان کے طور پر نہیں لینا چاہیے اگر ایسا ہوتا تو زیادہ قابل توجہ بات نہ ہوتی۔۔۔ مگر طیب اردوان کی اپوزیشن کو ملکی فوج کے طاقتور سیکولر عناصر کے ساتھ امریکہ اور یورپ کی اسلام مخالف پالیسیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔۔۔ لہٰذا بظاہر معمولی درجے کی یہ شکست ایک بڑا عالمی واقعہ بن کر دیکھی اور سمجھی جا رہی ہے۔۔۔ طیب اردوان جیسی تجربہ کار اور ملکی و عالمی سیاسیات کی سردو گرم چشیدہ شخصیت کو شکست کے اسباب کا بھرپور طریقے سے جائزہ لینا ہو گا۔ استنبول اور انقرہ کے نتائج سامنے آنے کے بعد اپنے اولین ردعمل میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ ڈالے گئے اور باہر آنے والے ووٹوں کے تناسب میں زیادہ فرق تو نہیں۔۔۔ دوسرے الفاظ میں انہیں دھاندلی کا شبہ ہے مگر معاملہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر ہے۔۔۔ یہ جمہوریت ہے اس نظام کے کئی اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ آزادانہ چناؤ کے اندر لوگوں کو ہاتھ پکڑ کر اپنے حق میں ووٹ نہیں ڈلوا سکتے۔۔۔ طیب اردوان صاحب اگر اس پسپائی سے حقیقی سبق سیکھتے ہوئے بدلتی ہوا کا صحیح رخ پہچاننے کی کوشش کریں گے تو ان کے اور ترکی دونوں کے حق میں کہیں بہتر ہو گا۔۔۔ ان انتخابات نے انہیں اپنی غلطیوں کا بھرپور معروضی طریقے سے جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔۔۔ موصوف سے صرف ترک عوام نہیں عالم اسلام کے لوگ بھی بے شمار توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔۔۔ انہیں پوری مسلم دنیا کے اندر اپنے خیر خواہوں کو مایوس نہیں کرنا چاہیے۔

طیب اردوان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد عالمی قد کاٹھ کی وہ سر بر آوردہ اور حکمران شخصیتیں ہیں جنہوں نے اپنے اپنے طویل عرصۂ اقتدار کے دوران ترکی اور ملائیشیا کو دنیا کے ممتاز اور خاصی حد تک کامیاب ملکوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔۔۔ زبان عمل اور زبان قول دونوں کے ذریعے استعماری طاقتوں کے ساتھ آنکھیں بھی چار کی ہیں۔۔۔ طیب اردوان نے عرب حکمرانوں سے کہیں بڑھ کر فلسطینی عوامی کے حقوق کی بازیابی کے لیے آوازیں بلند کی ہیں۔۔۔ سینہ تان کر کھڑے ہو گئے ہیں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دیتے چلے آ رہے ہیں۔۔۔ ان کے اپنے ملک کو در پیش موجود معاشی بحران سے قطع نظر اپنی ریاست کو مسلم دنیا کے اندر ترقی اور کامیابی کا ماڈل بنا کر پیش کیا ہے۔۔۔ اسی طرح ملائیشیا کے مہاتیر محمد نے اپنے ملک کو پسماندگی کے گرداب سے نکال کو معاشی خوشحالی اور ترقی کی مثال بنا کر پیش کیا ہے۔۔۔ عام لوگوں کے ساتھ ثقہ عالمی مبصرین بھی ان کامیابیوں کے پیچھے پنہاں اصل راز کی حقیقت کو وہاں بھانپنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔ دونوں جگہ بہتر منصوبہ بندی اور نتائج کے اہداف کو سامنے رکھ کر مسلسل آگے بڑھتے رہنے کے عمل نے اپنا رنگ جمایا ہے۔۔۔ ایک امر جو طیب اردوان اور مہاتیر محمد دونوں کے درمیان مشترک نظرآتا ہے وہ یہ ہے کہ ان لیڈروں کو اپنے اپنے ملک اور عوام کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے دو چار یا پانچ سال نہیں پندرہ اور بیس بیس سال کے لمبے عرصے تک محنت اور تگ و تاز کرناپڑی۔۔۔ انہوں نے اپنے آپ کو کسی اسلحے یا فوجی طاقت کے بل بوتے پر لوگوں پر مسلط نہیں کیا نہ ہونے دیا۔۔۔ بار بار انتخابی اکھاڑے میں اترتے تھے۔۔۔ عوام کے سامنے اپنی کارکردگی رکھتے تھے اور بیلٹ بکس پر ان کی تائید اور نصرت حاصل کرکے از سر نو اپنے مشن پر گامزن ہو جاتے تھے۔۔۔ فوج کو اس کے اصل مشن یعنی سرحدوں کی حفاظت تک مامور رہنے پر مجبور کیا۔۔۔ اس لحاظ سے ترکی کی مثال منفرد اہمیت کی حامل ہے۔۔۔ وہاں کی فوج اپنے آپ کو جدید ترکی کے بانیوں میں شمار کرتی ہے۔۔۔ اپنے ادارے کو اتاترک کا اصل وارث گردانتی ہے۔۔۔ اور امور سیاست میں مداخلت کو ادارہ جاتی حق سمجھتی ہے ۔۔۔ اتاترک کے خیالات و نظریات کا اتباع کرتے ہوئے سیکولرازم کے عقیدے کو اس نے حرز جان بنایا ہوا ہے۔۔۔ لیکن اسی سیکولر ترکی کے اندر جس کی بنیاد بلاشبہ اتاترک جیسے عظیم قومی لیڈر نے رکھی تھی، 1960ء میں عدنان مندریس مرحوم جیسے دینی مزاج رکھنے والے صدر مملکت کی پھانسی کے المناک واقعہ سے لے کر 1990ء کی دہائی میں انجینئر نجم الدین اربکان کے وزیراعظم منتخب ہو جانے اور ان کے لگائے ہوئے گلشن میں طیب اردوان کے ایک سایہ دار اور ثمر بار شجر بن کر چھا جانے کے طویل عمل نے ثابت کر دیا ہے کہ ترکی کے لوگ کسی سیکولر قوم پرست کی خالصتاً غیر اسلامی حکومت کو پسند کرتے ہیں نہ اپنے ملک میں کٹھ ملاؤں کا راج دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی امور مملکت پر فوج کی بالادستی تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔۔۔ وہ بیچ کا راستہ جو مسلم تہذیب کے نشان ہائے منزل سے آراستہ ہے اور جمہوری رویوں کی کہکشاں سے مزین ہے اپنانا چاہتے ہیں۔۔۔ یہ صراط مستقیم ہے۔۔۔ طیب اردوان کے اقتدار کو زلزلے کا جو ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوا ہے وہ انہیں باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ اپنی غلطیوں پر ہر وقت نگاہ رکھنا اور کمزوریوں کو بھانپ کر انہیں دور کرتے رہنے کے عمل پیہم میں ہی کامیابی کا راز پایا جاتا ہے۔


ای پیپر