ذوالفقار علی بھٹو: زمیں کے زخم تجھے آج بھی پکارتے ہیں!
03 اپریل 2019 2019-04-03

جون 1966ء میں پہلے فوجی آمر ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو وزارتِ خارجہ سے برطرف کیا تو عام خیال یہی تھا کہ ان کا سیاسی سفر ختم ہوگیا ہے۔ تاہم انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نہایت ذہانت اور جرات سے ایوب خان کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اقتدار کو دوبارہ پا لیا۔ ان کی وفات کو چالیس سال گذرنے کے بعد بھی پاکستان کی سیاست پربھٹو اثرات موجود ہیں ۔اگرچہ پاکستان کی سیاست میں ان کے کردار اور مقام کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے لیکن اس کا اعتراف ان کے شدید مخالف بھی کرتے ہیں کہ بھٹو نے مفلس، محتاج اور مظلوم عوام میں اپنے حقوق کا شعور پیدا کیا ا ور انھیں حقوق کے حصول کی جدوجہدپرتیار بھی کیا۔ 1966ء سے 1971ء کا عرصہ عوام اور بھٹو کے تعلق کے عروج کا زمانہ تھا۔ انہوں نے عالمی سطح پر نظریاتی بلاکس کی تشکیل کو پاکستان کے داخلی مسائل کے ساتھ منسلک کرکے ملک کے جاگیرداروں، سرمایہ داروں ، وڈیروں اور مذہبی اجارہ داروں کے تسلط کو توڑنے کی بھرپور کوشش کی اور ایک حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے ۔ لیکن بعد میں وہ انہی وڈیروں اور جاگیرداروں کو ساتھ ملانے پر مجبور ہوگئے ۔ ان میں یقیناًبشری کمزوریاں بھی تھیں ،ان کے سیاسی اور انتظامی فیصلوں پر مختلف آراء بھی ہوسکتی ہیں لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد انہوں نے جس تدبر ، فراست اور جذبے سے ملک اور عوام کو سنبھالا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ وہ جن سیاسی اورمعاشی نظریات کے علم بردار تھے ، انہوں نے ان کی خوب تشہیر کی اور اپنی سیاست اور حکومت کی اساس انھیں نظریات پر رکھی۔

ذوالفقار علی بھٹو یہ سمجھتے تھے کہ بانی پاکستان کی وفات کے بعد پاکستان اس راستے سے بھٹک گیا جس پر بانی پاکستان اسے چلانا چاہتے تھے۔ بانی پاکستان کے بعد سول ملٹری بیوروکریسی نے سرمایہ داروں، جاگیر داروں او ر وڈیروں کے ساتھ مل کر ملک کے وسائل پر قبضہ کیا اور خوب لوٹا۔ 14 اپریل 1972 ء کو قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں بھی بھٹو نے سول ملٹری بیوروکریسی اور سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے گٹھ جوڑ پر خوب بات کی۔ اسی تقریر میں انہوں نے اگست 1943ء میں دلی میں قائد اعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ

کے اجلاس کے صدارتی خطبے میں کی جانے قائداعظم کی تقریرکا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ پاکستان سرمایہ داروں کے لیے نہیں بلکہ غریبوں کے لیے بنایا جارہا ہے۔غریبوں کا استحصال کرنا ان کے خون میں شامل ہوچکا ہے، وہ اسلام کا سبق بھول گئے ہیں ، لالچ اور خود غرضی ان پر حاوی ہوچکی ہے۔ میں نے کچھ گاؤں دیکھے جن میں لاکھوں لوگ ہیں جنہیں ابھی بھی ایک وقت کی روٹی ملتی ہے۔کیا یہی تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصد ہے؟۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ لاکھوں کا اس طرح استحصال کیا گیا ہے کہ وہ ایک وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتے۔ اگر پاکستان کا یہ مطلب ہے تو پھر مجھے پاکستان نہیں بنانا چاہیے۔اگر سرمایہ دار اور جاگیر دار سمجھ دار ہیں تو پھر انھیں بدلتے وقت کے تقاضوں کے ساتھ بدلنا ہوگا، اگر وہ نہ بدلے تو خدا ان کی مدد کرے، ہم ان کی مدد نہیں کریں گے‘‘۔ بھٹو نظریاتی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ہندوؤں کے استحصال سے نجات حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسے خطے کا قیام تھا جہاں طاقتور اور امیر مظلوم اور غریب کا استحصال نہ کرسکے اور اسلامی اصولوں پر سماجی انصاف کا نظام قائم ہو۔ لیکن افسوس کے بھٹو ان خوبصورت اور شاہکار نظریات کی عملی شکل برپا کرنے میں ناکام رہے۔ معروف بھارتی صحافی آنجہانی کلدیپ نائر نے 1972 ء میں بھٹو صاحب کا انٹرویو کیا تھا جس کا ذکر انہوں نے مختلف شخصیات کے خاکوں پر مشتمل اپنی اس کتاب میں کیا جو ان کے موت کے بعد شائع ہوئی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو پر تحریر کیے خاکے کی ابتدا ء میں کلدیپ نائر لکھتے ہیں کہ اس خاکے میں بھٹو کی شخصیت اور سیاسی فکر پر وہ کچھ بتائیں گے جو اس سے پہلے منظر عام پر نہیں آیا یا اس سے پہلے نہیں لکھ گیا۔

اس انٹرویو میں بھٹو نے اعتراف کیا کہ ہندوستان سے ایک ہزارسال تک جنگ لڑنے والے جملے کو زبان کی پھسلن کہا جانا چاہیے ۔ بھٹو صاحب کو یقین تھا کہ اگر کشمیریوں کو یہ یقین ہوجائے کہ پاکستان ان کی پشت پناہی اور مدد کرے گا تو وہ بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بھٹو صاحب سے جب یہ پوچھا گیا کہ 1965 ء کی جنگ کا ذمہ دار ایوب خان انہیں قرار دیتے تھے تو انہوں نے اس سے الزام کی تردید نہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ سے سیکھنے پر یقین رکھتے ہیں اور وہ کچھ نہیں دہرائیں گے جو ماضی میں ہو چکا ہے۔ بھٹو صاحب کے ان نظریات کے پس منظر میں یہاں کلدیپ نائر پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم نواز شریف اور گجرال کی گفتگو کا وہ جملہ نقل کرتے ہیں جس میں نواز شریف گجرال سے کہتے ہیں کہ آپ ہمیں کشمیر نہیں دیں گے اور نہ ہی ہم آپ سے لیں سکیں گے۔ بھٹو عالمی سیاست اور تاریخ کا گہرا شعور رکھتے تھے اور وہ کشمیر کا حل ٹرسٹے کی طرح کا چاہتے تھے۔ٹرسٹے جنگ عظیم دوئم کے بعد سے اٹلی اور یوگو سلاویہ کے درمیان متنازعہ علاقہ چلا آرہا تھا جسے 1954 ء میں دونوں ممالک نے ایک معاہدے کے ذریعے اس متنازعہ علاقے کو باہمی رضا مندی سے تقسیم کر لیا۔ بھٹو اس فارمولے پر کشمیر کا حل چاہتے تھے جس پر شملہ میں اندراگاندھی اور بھٹو صاحب کے درمیان بات بھی ہوئی تھی مگر بعد میں یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔

1979ء میں جب کلدیپ نائر ایک بار پھر پاکستان آئے تو اس وقت بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی تھی ۔ کلدیپ نائر نے ایک انٹرویو میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرجنرل ضیا الحق سے پوچھا کہ بھٹو صاحب کی سزا کی تخفیف کے بارے میں عالمی برادری کا دباؤ تو ان پر ہو گا؟ جس کے جواب میں ضیاالحق نے کہا کہ اس حوالے سے ان پر کسی بھی ملک کا دباؤ نہیں ہے حتیٰ کہ واشنگٹن اور ریاض کا بھی نہیں ۔ کلدیپ نائر اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ ضیاء بھٹو کو پھانسی دینے کا حتمی فیصلہ کر چکے ہیں ۔ کلدیپ نائر نے اس کا اظہار یحییٰ بختیار سے بھی کیا جو زمانہ طالب علمی میں لاء کالج لاہور میں ان سے سینئر تھے۔ یحییٰ بختیار نے ان کا پیغام بھٹو صاحب کو بھی پہنچایا تو بھٹو صاحب نے کہا کہ نائر کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ بھٹو کو یقین تھا کہ عالمی دباؤ کے نتیجے میں انہیں پھانسی نہیں دی جا سکے گی۔ لیکن ان کا خیال غلط ثابت ہوا اور انھیں 4 اپریل1979 ء کو پھانسی دے دی گئی۔

بھٹو صاحب نے جن طبقات کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف عوام میں شعور بیدار کیا تھا وہ لوٹ کھسوٹ اور چور بازاری آج بھی جاری ہے ۔ جن استحصالی ممالک کی اجارہ داری کے خلاف وہ ڈٹ کھڑے ہوئے تھے ان کی چودھراہٹ آج بھی اسی طرح دنیا کی سیاست و معیشت کو جکڑے ہوئے ہے۔ پاکستان کے مجبور اور غریب عوام آج بھی استحصالی عناصر کی چیرہ دستیوں کا اسی طرح شکار ہیں ۔ آج پاکستان کی سیاست پھر بھٹو کی منتظر ہے جو ظلم اور جبر کے نظام کے خلاف عوام کو متحد کرسکے۔


ای پیپر