’’احساس‘‘ اور غربت کا خاتمہ
03 اپریل 2019 2019-04-03

وزیر اعظم عمران خان نے احساس کے نام سے غربت کے خاتمے کے نئے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومت نے 80 ارب روپے کے سرمائے سے یہ پروگرام شروع کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی حکومت کے قائم ہوتے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ غربت کے خاتمے کا انقلابی پروگرام شروع کریں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 7 ماہ گزرنے کے بعد آخر کار اس پروگرام کے خدوخال اور تفصیلات کو عوام کے سامنے رکھا ہے۔

غربت کے خاتمے کے ماضی کے تمام پروگراموں اور منصوبوں کی طرح اس پروگرام کا مقصد اور مطمع نظر ملک سے غربت کا خاتمہ ہے اور غریب ترین اور معاشی طور پر پچھڑے ہوئے طبقات اور گروہوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔

ایسے اقدامات ، پروگرام اور منصوبے جو کہ غریب عوام کو تھوڑا بہت ریلیف فراہم کرتے ہیں اور ان سے عوام کی زندگی میں جو بہتری آتی ہے ان کو یقیناًسراہا جانا چاہیے اور ان کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ تحریک انصاف کے ’’ احساس ‘‘ اور ’’ کفالت ‘‘ جیسے پروگراموں سے یقیناً غربت کی چکی میں پس رہے غریب اور استحصال زدہ عوام کو تھوڑا بہت فائدہ حاصل ہو گا اور ان کو ماہانہ 2 سے 3 ہزار روپے کی اضافی آمدن حاصل ہو جائے گی اس حوالے سے تو یہ یقیناًاچھے پروگرام ہیں۔

مگر کیا محض ’’ احساس ‘‘ اور ’’ کفالت ‘‘ کے ذریعے غربت ختم ہو جائے گی تو اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ حکومت کی تمام تر نیک نیتی، نیک مقصد اور غریبوں سے ہمدردی کے با وجود ان اقدامات سے غربت ختم نہیں ہو سکتی۔ غربت کے خاتمے یا اس میں نمایاں کمی لانے کے لیے نیک نیتی، اخلاص اور احساس کے ساتھ ساتھ ایسی معاشی پالیسیوں، منصوبوں، اصلاحات اور سماجی پروگراموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو حقیقی معنوں میں کئی نسلوں سے غربت ، افلاس اور معاشی بد حالی کے شکار لوگوں کو غربت کی اس دلدل سے نکال سکیں۔ بد قسمتی سے ہما رے ملک میں ایسے پروگراموں کے نتیجے میں غریب خاندانوں کی غربت ختم نہیں ہوتی۔ یہ پروگرام در اصل غربت کے خاتمے کی صلاحیت، استعداد اور وسعت نہیں رکھتے بلکہ غریب عوام کی آمدن میں معمولی اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ سب پروگرام در

اصل غربت کے خاتمے کے لیے بنائے ہی نہیں جاتے بلکہ ان کا مقصد غریبوں کو غربت میں زندہ رہنے کا بہتر ہنر سکھانا ہوتا ہے۔ غریب خاندانوں کو چند ہزار روپے دے کر ان کی آمدن میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ کبھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور کبھی کسی اور نام سے۔ مختلف حکومتوں کی جانب سے شروع کیے گئے غربت مکاؤ پروگراموں کے با وجود پاکستان میں کروڑوں افراد غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بے زمین ہاریوں، کسانوں اور کھیت مزدوروں کی غربت اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک ان کو زمین کی ملکیت نہ ملے جسے کاشت کر کے وہ اپنے خاندانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ جب تک معاشی و سماجی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں رو نما نہیں ہوں گی اس وقت تک وہ سب لوگ جو اس معاشی ڈھانچے کے نتیجے میں غربت کا شکار ہوئے ہیں وہ اس دلدل سے باہر نہیں نکل سکتے ۔اسی طرح جو لوگ حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی بد حالی کا شکار ہوتے ہیں وہ بھی اس وقت تک اس معاشی بد حالی اور افلاس سے نہیں نکل سکتے جب تک وہ معاشی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوتیں۔

مجھے ذاتی طور پر وزیر اعظم عمران خان کی نیت اور اخلاص پر کوئی شک نہیں وہ یقیناًبیواؤں، یتیموں اور کمزور طبقات اور گروہوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں جس طرح ماضی کی حکومتیں بھی کرنا چاہتی تھیں۔ مگر غربت کے خاتمے کے لیے صرف نیک نیتی اور اخلاص ہی کافی نہیں ہے بلکہ درست معاشی پالیسیوں اور پروگراموں کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔

آپ ایسی معاشی پالیسیوں کی بنیاد پر غربت کا خاتمہ نہیں کر سکتے جو کہ غربت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ اگر آپ کراچی جانے کے خواہش مند ہوں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کراچی کی ٹرین یا بس پر سوار ہوں ورنہ پشاور والی ٹرین تو آپ کو کہیں اور ہی لے جا ئے گی۔

جب ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہو۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات غریب عوام کی پہنچ سے دور ہوں اور ریاست آئین میں شہریوں سے کیے گئے معاہدہ عمرانی پر عمل در آمد نہ کر رہی ہو بلکہ نیو لبرل ازم کی آزاد منڈی کی معاشی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر ان بنیادی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر رہی ہو تو ایسے حالات میں ’’ احساس ‘‘ اور ’’ کفالت‘‘ جیسے پروگرام وہ اثرات مرتب نہیں کر سکتے جس کی ہمارے حکمران توقع لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ غریب خاندانوں کے لیے 2 سے 3 ہزار روپے ماہوار کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ ان پیسوں سے غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارنے والے چند دن پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ کھانسی، بخار یا اس طرح کی کسی بیماری کی دوا لے سکتے ہیں۔ مگر ان پیسوں سے ان کی بنیادی ضروریات زندگی پوری نہیں ہو سکتیں۔ ان کو غربت کی اتھاہ گہرائیوں سے نہیں نکالا جا سکتا۔ ان کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی برپا نہیں ہو سکتی۔ ان کے زرد چہروں پر زندگی کی توانائی اور رعنائی نہیں لائی جا سکتی۔ خوراک کی کمی کے شکار بچوں کے ادھورے اور کمزور جسموں کو توانا اور طاقتور نہیں بنایا جا سکتا۔ اس طرح کی غربت مٹاؤ پروگراموں سے اب تک دنیا کے کسی ملک میں فلاحی ریاست قائم نہیں ہوئی۔ ان پروگراموں کا مقصد غریب عوام کو غربت کی دلدل میں زندہ رکھنا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ پروگرام یقیناًاپنے مقاصد حاصل کرنے کے حوالے سے کامیاب ہوں گے۔

جب تک غریب عوام کو بہتر معاشی مواقع دستیاب نہیں ہوں گے اور وہ ذرائع پیداوار کی ملکیت میں حصہ دار نہیں ہوں گے ۔ محنت کشوں کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو گا اس وقت تک وہ انہی حالات میں غربت ، افلاس بھوک اور جہالت میں زندگی گزارتے رہیں گے۔ جب تک پاکستان کے حکمران طبقات اور اشرافیہ برطانوی سامراج کے بنائے ہوئے ڈھانچے اور نظام کو ہی حتمی اور ابدی سچائی سمجھ کر سینے سے لگائے رکھیں گے تب تک تمام تر نیک نیتی، احساس اور اخلاص کے با وجود معاملات جوں کے توں رہیں گے۔ جب تک عوام کو محکوم اور غلام بنانے والے نظام اور نو آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل نہیں کیا جاتا اس وقت تک غربت کا خاتمہ محض ایک خواب اور نعرہ ہی رہے گا۔ غریب عوام اپنی تمام تر محنت او مشقت کے با وجود بنیادی ضروریات زندگی کو ترستے رہیں گے۔

اگر وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان کے حکمران طبقات کو واقعی غریبوں سے ہمدردی ہے اور یہ اپنے دل میں ان کا درد محسوس کرتے ہیں تو پھر اس ظالمانہ ، جابرانہ اور استحصالی نظام کو تبدیل کریں جو ان کی محرومیوں، غربت اور استحصال کی وجہ ہے۔


ای پیپر