اصغر خان عملدرآمد کیس کا فیصلہ ملکی نظام کی تطہیر کا باعث بن سکتا ہے !
03 اپریل 2019 2019-04-03

اسلامی جمہوریہ پاکستان کو جمہوری تقاضوں کے مطابق چلانا ہے تواصغر خان کیس کے فیصلے پر من وعن عملدرآمد کرکے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا ۔ ملکی نظام میں جمہوری جڑیں اسی صورت مضبوط ہوسکتی ہیں اگر اس کیس میں ملوث تمام افراد کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ یہ کیس ان کے لوگوں کے لیے نشان عبرت بن جائے جو عوام کی خواہشات کے برعکس اپنی خواہش کے مطابق ملکی نظام کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ ’’قانون کی بالادستی‘‘ نامی چیز اسی کیس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔ اس کیس کا فیصلہ اس بات کی ضمانت ہوسکتا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام تمام افراد برابر ہیں خواہاں ان کا تعلق کسی بھی ادار ے سے ہو۔اس عملدرآمد کیس کا فیصلہ کسی بھی جماعت کو ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگانے سے روک سکتا ہے ۔ اس کیس کا فیصلہ لاہور اور لاڑکانہ کی کے درمیان پھیلی نفرتوں اور کدورتوں کو ختم کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس کیس کا فیصلہ صوبائیت ، علاقاعیت اور لسانیت کی تفریق ختم کرکے فیڈریشن کی مضبوطی کو مزید تقویت پہنچاسکتا ہے ۔ اس عملدرآمدکیس کا فیصلہ اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی خواہشوں کو زبان پر آنے سے پہلے سینے میں ہی دفن کرسکتا ہے ۔ اس کیس کافیصلہ ملکی انصاف کے نظام میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت کرسکتا ہے ۔ اس کیس کا فیصلہ موجود ہ چیف جسٹس آف پاکستان کو تاریخ میں امر کر سکتا ہے ۔ اس کیس کا فیصلہ ملکی نظام کی ہر لحاظ سے تطہیر کا باعث بن سکتا ہے ۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کیس کے فیصلے پر عملدر آمد کیوں نہیں ہورہا ہے رکاوٹیں کہاں ہیں ۔ عدالت عظمیٰ کو یہ کیوں کہنا پڑا کہ ایف آئی اے جس راستے پر اس کیس کو لیکر جانا چاہتی ہے اس پر نہیں جائیں گے۔عدالت کے پوچھے گئے سادہ سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیا جارہا ۔عدالت ایف آئی اے سے پوچھ رہی ہے کہ بینک اکاؤنٹس کون چلا رہا تھا؟ اسے پیسے لینے والوں سے متعلق شواہد یا شکوک سے آگاہ کیا جائے ۔ عدالت میں جمع کروائی گئی ضمنی رپورٹ میں نشاندہی کی جائے کہ کون سا ریکارڈ موجود نہیں، جو ریکارڈ نہیں ملا وہ کس کے پاس ہونا چاہیے جب کہ رقم لینے سے انکار کرنے والوں کا نام رپورٹ میں شامل کیا جائے۔ ایف آئی اے کو 22اپریل کو ہونے والی آئندہ سماعت پر ان سوالوں کا جواب دینا پڑے گا کیونکہ معزز جج صاحبان اپنے ریمارکس کے ذریعے یہ واضح کرچکے ہیں وہ اصغر خان کیس بند کرنے نہیں جارہے، وہ مرحلہ وار اس کیس کو لے کر چلیں گے اور نظر رکھیں گے ہے جہاں اسے پہنچنا ہے ۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی پر عائد کی تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت مسترد کرچکی ہے ۔ انٹرسروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے اپنے ایک بیان حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی رہنماؤں میں یہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لے کر بانٹے گئے تھے۔اس معاملے پر ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، یہ کیس پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہے ۔ اصغر خان کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پیسے بانٹنے کا یہ سارا عمل اْس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور دیگر قیادت کے بھی علم میں تھا۔سپریم کورٹ نے گذشتہ برس مئی میں وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے اصغر خان کیس کے فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کریں۔یہ کیس عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے معزز جج صاحبان ایف آئی اے سے سوالات پوچھ رہے ہیں ۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان اس کیس پر ماضی میں کافی بیانات داغ چکے ہیں مگر جب سے انہوں نے حکومت سنبھالی ہے وہ اس کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے حوالے سے گریزاں نظرآتے ہیں۔ وزیراعظم وزرات داخلہ کا قلم دان اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں ۔وزیرمملکت برائے داخلہ کا عہدہ کوہاٹ کے سپوت شہریارآفریدی کے پاس ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ایف آئی اے وزرات داخلہ کے ماتحت ادارہ ہے ۔انہیں خود اس اہم کیس کے حوالے سے ایف آئی اے سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے کہ وہ کس ٹریک پر اس کیس کو لے کر چلنا چاہتے ہیں اور عدالت جو سوالات پوچھ رہی ہے ان کے جوابات کیوں نہیں دئیے جارہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جو خودجمہوری نظام کے حامی ہیں اور 2014ء کے اسلام آباد دھرنوں میں ان کا جمہوری نظام کے حوالے سے کردارایک’’ عملی گواہی‘‘ ہے ۔ حالیہ عرصے میں سول ملٹری تعلقات بھی مثالی ہیں اس صورتحال میں یہ بات تو خارج ازامکان ہے کہ اس کیس کے حوالے سے کسی ایک خاص ادارے کا ایف آئی اے پر کوئی دباؤ ہو گا ۔پھرایک ایسے وقت میں جب پلوامہ واقعے کے بعد فوج کا گراف بحیثیت ادارہ اوپر گیا ہے ۔ بھارتی جنرل ہائبرڈ جنگ میں پاکستان کی جیت مانتے ہوئے آئی ایس پی آر کی تعریف و توصیف میں مگن ہیں تو یہ ادارہ کبھی نہیں چاہے گاایک یا دو شخصیات کے فعل کو بنیاد بنا کراس کیس کے حوالے سے اس مربوط ادارے پر تنقید کی جائے ۔ لہذ ا بال اب سول حکومت کے کورٹ میں ہے ۔ اب بھی اگر حکومت کسی مصلحت کا شکار ہوتی ہے تو اس کاالزام کسی اور ادارے پر نہیں لگایا جاسکتا۔ بیوروکریسی اس کیس کو حل کرناکبھی نہیں چاہے گی کیونکہ اس ملک میں بیوروکریسی کاکام صرف ہر معاملے کو لٹکانا اور کھٹائی میں ڈالنا رہ گیا ہے ۔ اداروں کو مضبوط بناناعمران خان کا خواب رہا ہے ۔ وزیراعظم چاہیں توذاتی دلچسپی لیکر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔


ای پیپر