مسلم لیگ نون کیا کرے گی؟
03 اپریل 2019 2019-04-03

وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی سندھ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے وفاق کو دیوالیہ کر دیا، انہوں نے یہ بیان دینے کے لئے سندھ کا چناو¿ کیوں کیا اس بارے جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں کہ یہ پیپلزپارٹی ہی ہے جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خودمختار بنانے کا کریڈٹ لیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے حلقے قرار دیتے رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی محض اپنی کرپٹ لیڈر شپ کو بچانے کے لئے اٹھارہویں ترمیم کو لاحق مبینہ خطرات کو ہائی لائیٹ کرتی ہے جب فیصل واوڈا نے اس کے خلاف بیان دیا تھا مگر وزیراعظم عمران خان کے بیان سے ثابت ہو گیا کہ اٹھارہویں ترمیم سے جنم لینے والی صوبائی خود مختاری کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور اب لازمی طور پر اس پروپیگنڈے کا آغاز ہو گا کہ صوبوں نے اس ترمیم کے تحت حاصل کئے ہوئے وسائل سے عوام کو کس حد تک ریلیف دیا۔ بہت سارے لوگ روایتی بیوروکریسی ، ناقص حکمرانی اورکمزور فیصلہ سازی کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ اٹھارہویں ترمیم تعلیم، صحت، امن و امان اور انفراسٹرکچر سمیت دیگر معاملات میں کوئی انقلاب لے کر نہیں آئی مگر وہ اس پر بات نہیں کریں گے کہ جب وفاق ان معاملات میں شئیر ہولڈر تھا تو تب کیا صورتحال تھی۔

عمران خان نے ملک کے سوچنے اور سمجھنے والے طبقات میں جتنی تیزی کے ساتھ اپنی عدم مقبولیت کا سفر طے کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی، وہ تمام افواہیں جو صرف پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے تھیں وہ سب کی سب اب وفاق کے بارے میں بھی موجود ہیں اور دیکھنا صرف یہ ہے کہ جناب عمران خان اگلے بجٹ کے بعد خود کو کس طرح بچا پاتے ہیں ۔ عمران خان اگر اپنے ’حلقہ انتخاب‘ کی امیدوں پر پورا اترنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ جہاں ایف بی آر ٹیکس کولیکشن میں انتہائی نااہلی کا مظاہرہ کر رہا ہے وہاں اس خلا کو پورا کرنے کے لئے صوبوں کے وسائل میں سے حصہ لیا جائے۔ماہرین معیشت بتاتے ہیںکہ عمران خان کی حکومت نے اس سے پہلے ترقیاتی بجٹ میں بڑی کٹوتیاں کر کے مطالبات کو پورا اور معاملات کو قابو کیا ہے ۔ اب ایک ہی طریقہ باقی ہے کہ صوبوں کو اٹھارہویں ترمیم میں دئیے گئے وسائل کو واپس لے لیا جائے ۔ اس کے لئے سب سے اہم دلیل یہی ہوسکتی ہے کہ پاکستان کا وفاق کمزور اور دیوالیہ ہو رہا ہے۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا ایک مضبوط وفاق پاکستان کے مسائل حل کر سکتا اور اسے متحد رکھ سکتا ہے تو تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں۔ جس قراردار کی بنیاد پر پاکستان کا خواب دیکھا گیا وہ بھی کسی مضبوط وفاق کا تصور لئے ہوئے نہیں تھی بلکہ اس میں ہندوستان کے مشرق اور مغرب میں خود مختار ریاستوں کی بات کی گئی تھی اور ہندوستان ایک کمزور وفاق کی صورت میں موجود تھامگراس کے بعد پاکستان کی جغرافیائی اور قومی وحدت کے نئے تقاضے سامنے آئے۔ جب مشرقی پاکستان والے اپنے حقوق کی خاطر آواز بلند کر رہے تھے تو اس وقت بھی ایک مضبوط وفاق کو ہی حل سمجھا گیا اور اس مضبوط وفاق میں دوونوں حصوں کومساوی بنانے کے لئے پرانے صوبوں کو ختم کرتے ہوئے ون یونٹ بنا ڈالا گیا اور پھر ہم سب نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا۔بات ادھر ادھر چلی جائے گی مگر ایک ٹی وی کے دانشور نے تجویز دی ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا، یہاں صدارتی نظام ہی چل سکتا ہے۔ یہ وہی دانشور ہیں جن کے بارے میں وزیراعظم کے تگڑے مشیر نے ٹوئیٹ کی تھی کہ سستی شراب پینے کی وجہ سے ان کا دماغ کمزور ہو چکا ہے۔ پاکستان ایک کثیرالقومی ملک ہے ، اسے متحد رکھنے والی سب سے بڑی قوت مذہب ہے ورنہ اس میں بولی جانے والے زبانوں سے مروج ثقافتوںتک میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں حیران ہوں کہ قوم کو متحد رکھنے کی جس ضرورت کومارچ انیس صد چالیس کو ایک قرارداد پیش کرنے والوں نے محسوس کر لیا تھا اس فہم وفراست کا مظاہرہ آج کیوںنہیں کیا جا رہاتو اس کا جواب یہی ملتا ہے کہ اس قرارداد کو پیش کرنے والے حقیقی سیاستدان تھے، وہ سرکارکے ملازم، میڈیا کے دانشوریا کھلاڑی نہیں تھے۔ صدارتی نظام چھوٹی اکائیوں کی شناخت اور اہمیت کو بری طرح متاثر کرے گا۔ یہ کالم الفاظ کی محدد تعداد اور اصل سوال کی طرف جانے کی ضرورت کے باعث اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کے اثرات کے ساتھ ساتھ صدارتی نظام کی تجویز پرجامع بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا لہٰذا اس بحث کو فی الوقت یہیں چھوڑ دیتے ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم کو ختم کر کے وفاق کو صوبوں کے وسائل دینے کے لئے پارلیمنٹ میں د و تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جوچند ووٹوں سے قائم پی ٹی آئی کی حکومت کے پا س نہیں۔ اس کے لئے آپ کو پارلیمنٹ کے دوبڑے سٹیک ہولڈرز یعنی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں سے کسی ایک کو ساتھ ملانا پڑے گا۔ یہاں ایک معاملہ فوجی عدالتوں کی آئینی مدت میں توسیع کا بھی ہے مگر دوسری طرف مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کا مفاد یہ ہے کہ نیب کے قانون میں ترمیم ہوجائے اگرچہ نیب کے سب سے بڑے شکار مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ وہ نیب کے قوانین کو اسی صورت میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ جو کچھ انہوں نے بھگتا ہے وہ عمران خان اور ان کے ساتھی بھی وقت آنے پر بھگتیں۔ وفاق میں وزیراعظم سے ہونے والی مقتدر حلقوں کی ایک اہم ترین ملاقات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے اٹھارہویں ترمیم کے خلاف بیان اور شریف فیملی کو ملنے والے ریلیف پر کوئی حیرت محسوس نہیں ہوئی۔ میں جانتا ہوں کہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے چند ہی دنوں کے بعد معاملات کو درست کرنے کے لئے نواز لیگ میں تمام اختیارات شہباز شریف کو دے دئیے گئے تھے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس میں کامیابی بھی حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں مسلم لیگ نون کے لئے ایک دوسرا مسئلہ بھی ہے کہ جناب آصف علی زرداری بھی بارگیننگ کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں جیسے بے نظیر بھٹو نے ایک آمر کے خلاف جدوجہد کا نعرہ لگاتے ہوئے این آر او کر لیا تھا۔ اگرچہ سمجھا یہ جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی اٹھارہویں ترمیم پر کوئی ڈیل نہیں کرے گی مگر آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور کے کیسز اور اویس ٹپی کی گرفتاری کی اطلاعات پی پی پی پر دباو¿ بڑھا رہی ہیں۔ اپوزیشن اس صورتحال میں متحد رہ کر ہی ’پی ٹی آئی‘ کے منصوبے ناکام بنا سکتی ہے مگر اپوزیشن کے دونوں فریقوں کے درمیان ابھی تک عدم اعتماد کی فضا ہے۔ مسلم لیگ نون تو بے نظیر بھٹو کے این آر او کا بہت زیادہ ذکر نہیں کرتی مگر پیپلزپارٹی والے سمجھتے ہیں کہ نواز شریف ، پرویز مشرف سے ڈیل کر کے جدہ چلے گئے تھے جب نوابزاہ نصر اللہ خان مرحوم ایک بڑے اپوزیشن اتحاد کو ایک شکل دے چکے تھے اور دوسرے جب نواز شریف وزیراعظم تھے توانہوںنے جنرل راحیل شریف کا ساتھ دیا تھا جب آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کیا تھا۔

اپوزیشن کے درمیان غلط فہمیاں موجود ہیں،نواز لیگ سمجھتی ہے کہ پیپلزپارٹی اگلے سیٹ اپ میں بلاول بھٹو زرداری کے لئے راستہ لے سکتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی والوں کا خیال ہے کہ یہی کام شہباز شریف زیادہ بہتر اورمو¿ثر طریقے سے اپنے لئے کر سکتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اٹھارہویں ترمیم کی واپسی ملک و قوم کے لئے ہرگز مفید نہیں ہے اور ایک مضبوط وفاق پاکستان کی سالمیت کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا مگر سوال یہ ہے کہ بعض اوقات وقتی، سیاسی اور گروہی مفادات زیادہ اہم ہوجاتے ہیں اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ اس نقصان کو طاقت ملنے کے بعد پورا کر لیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی نے اٹھارہویںترمیم کی حفاظت اور فوجی عدالتوں کی مخالفت پر زیادہ سخت موقف اختیار کیا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کے مقابلے میں اس کا سندھ میں حکومتی بیس کیمپ موجود اور محفوظ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز لیگ اپنے ریلیف کو برقرار رکھتی ہے یا کوئی دوسری راہ اختیار کرتی ہے جس میں اس کے رہنماو¿ں کو دوبارہ جیل وقید کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


ای پیپر