فوربز کی نئی فہرست جاری ، 9نوجوانوں نے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دئیے
03 اپریل 2018 (22:04) 2018-04-03

میگزین رپورٹ: فوربز ایک معروف امریکی میگزین ہے ہفتہ وار شائع ہونے والا یہ میگزین تجارتی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے انوسٹمنٹ ،فنانس اور مارکیٹنگ، سائنس و ٹیکنالوجی ، کمیونیکیشن ، سیاست اور قانون سے متعلق خصوصی فیچرز اور رپورٹس جاری کرتا ہے ، اس میگزین کی سب سے اہم خصوصیت اور خوبی جو اسے دوسروں سے ممتاز اور منفرد بناتی ہے ، وہ دنیا کے بااثر افراد ، شخصیات ،بزنس مین اور بزنس وومن کی رینکنگ کی لسٹ ترتیب دینا ہے ، یہی وہ چیز ہے جواپنے پڑھنے والوں کو تجسس کے سمندر میں غرق کر دیتی ہے اور وہ دنیا بھر کی طاقتور اور بااثر شخصیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کو اپنی ترجیح قرار دیکر میگزین کے مطالعہ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ فوربز میگزین 400امیر ترین امریکی شہریوں کی درجہ بندی کرکے اس کی لسٹ بھی میگزین کی زینت بنا چکا ہے ،اسی طرح اس نے دنیا بھر کی 2000معروف اور بڑی کمپنیوں پر فوربز گلوبل 2000کے عنوان سے دلچسپ اور تحقیقاتی رپورٹ بھی بنائی جس نے میگزین کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔اس رپورٹ میں ان کمپنیز کی سیلز ، پرافٹ ، سرمایہ اور مارکیٹ ویلیو کے بارے میں انفارمیشن بھی دی گئی جو قاری کو اہم معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔


قارئین اب ہم آپ کو فوربز کی جانب سے شروع کیے گئے (Forbes 30 Under 30) دلچسپ سلسلہ کے بارے میں انتہائی اہم معلومات دینے جا رہے ہیںجو آپ کی معلومات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ آپکی دلچسپی کا عنصر بھی برقرار رکھے گا ، اس فہرست کا نام 30 under 30 رکھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں بیس مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے تیس تیس افراد کے بارے میں معلومات دی جاتی ہے ، اگر ان بیس کیٹیگری کو تیس سے ملٹی پلائی کیا جائے تویہ 600افراد کی لسٹ بنتی ہے ، حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ جیسا کہ اس سیریز کے نام سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے اس فہرست میں اپنے فن اور شعبہ میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے اُن افراد کی درجہ بندی کی جاتی ہے جن کی عمریں 30یا 30برس سے کم ہوتی ہے ۔


فوربز نے یہ سلسلہ کب شروع کیا؟
دراصل فوربز نے یہ سلسلہ 2011ءمیں شروع کیاتھا ، فوربز کی یہ کاوش کس قدر کامیاب ہوئی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ2016میں 30برس سے کم عمر افراد کی نامزدگیاں 15000افراد سے تجاوز کر گئیں ، گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ فوربز اپنے اس سلسلے کا دائرہ کار بڑھاتا گیا اور یہ سلسلہ یورپ ، ایشیاءاور افریقہ تک پھیل گیا۔ہم بخوبی جانتے ہیں یہاں یقینناََ ہمارے قارئین کے ذہن میں ایک سوال اُمڈرہا ہو گاکہ فوربز کس ملک یا خطے سے کتنے کتنے افراد اپنی اس فہرست میں شامل کرتا ہے یا اس لسٹ میں کس خطے کے کتنے افراد شامل کیے جاتے ہیں اس اہم سوال کا جواب یہ ہے کہ فوربز کی 30 under 30 لسٹ میں یورپ ، اور ایشیاءدونوں کو ہی دس دس کیٹیگریز دی گئی ہیں۔جن میں افریقہ کے 30افراد بھی شامل ہیں۔


کانفرنسوں کا انعقاد
فوربز 30under 30کے بینر تلے سالانہ بنیادوں پر کانفرنسوں کا انعقاد بھی باقاعدگی سے کرتا ہے، 2014اور 2015میں ان کانفرنسوں کا انعقاد فلاڈلفیا میں کیا گیا جبکہ 2016اور 2017میں ان کا انعقاد بوسٹن میں کیا گیا۔اپریل 2016میں فوربز نے اپنی پہلی 30under30عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں یورپ ، مڈل ایسٹ اور افریقہ کو توجہ کا دائر بنایا گیا۔


میرٹ پر درجہ بندی نہ کرنے کے باعث فوربز پر تنقید بھی کی جاتی ہے
فوربز میگزین کے سلسلے30under 30 کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ اس میں خواتین کے بجائے مردوں جبکہ کالوں اور لاطینی افرادکی نسبت گوروں کو زیادہ نمائندگی دی جاتی ہے جس کی مثال کچھ یوں پیش کی جا سکتی ہے کہ 2011 میں جب اس سلسلہ کا آغاز کیا گیا تو اعزاز حاصل کرنے والے 30ینگ جرنلسٹس میں سے29گورے تھے اور ان میں کوئی بھی کالا اور لاطینی شامل نہ تھا۔اسی طرح فیشن کی دنیا کے عالمی شہرت یافتہ میگزین Elle نے 2014میں خصوصی طور پر نوٹ کیا تھا کہ فوربز کی جانب سے کی جانے والی درجہ بندی میں خواتین کی نمائندگی کہاں ہے؟


2018میں فوربز کی جانب سے کی جانے والی درجہ بندی
اب ہم اپنے قارئین کو یہ بتاتے ہیں کہ فوربز نے کن 20گیٹیگریز میں 600افراد کو چنا ہے، ہمیں اس بحث میں تو پڑنا ہی نہیں کہ کس ملک میں سے کتنے افراد لئے گئے بلکہ اس سلسلے میں ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ یورپ اور ایشیاءکو برابری کے لحاظ سے 10/10 میں تقسیم کیا گیا ہے ، اس لحاظ سے یہ بات طے شدہ ہے کہ ان دونوں خطوں اور افریقہ کے چھ سو افراد کو اس اعزاز سے نوازا گیا۔ فوربز کی لسٹ میں پہلے نمبر پر آرٹ اینڈ سٹائل کو رکھا گیا جس میں مختلف ممالک کے 30 کے مشہور و معروف آرٹسٹوں کو شامل کیا گیا ، کنزیومر ٹیکنالوجی دوسرا نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہی جس میں فنی مہارت رکھنے والے افراد بازی لینے میں کامیاب رہے ، تیسرے نمبر پر فوڈ اینڈ ڈرنک کے شعبہ سے وابستہ 30فوڈ ٹیکنالوجسٹ اور کمپنی اونرز کو شامل کیا گیا ، چوتھا نمبر ریٹیل ای کامرس کو دیا گیا جس میںآن لائن بزنس سے وابستہ 30افراد شامل ہیں ، پانچویں نمبر پر انٹر پرائز ٹیکنالوجی ہے جس میں 30خوش نصیب شامل ہوئے ، ہالی ووڈ اینڈ انٹر ٹینمنٹ چھٹے نمبر پر رہی جس میں 30فنکار شامل کیے گئے ، ساتواںنمبر شعبہ تعلیم کو دیا گیا جس میں کارہائے نمایاں سر انجام دینے والے افراد کو شامل کیا گیا ، آٹھواں نمبر گیمز کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والوں کو دیا گیاان میں گیمز ڈیزائنرز ،کمپنی اونرز اور ٹیکنالوجی ماہرین پر مشتمل 30افراد شامل کیے گئے ، نویں نمبر پرہیلتھ کئیر کے شعبہ سے وابستہ اورنمایاں خدمات سرانجام دینے والے 30افراد شامل ہیں,فنانس کا شعبہ دسویں نمبر پر رہا اور جس میں مختلف مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کے 30افراد کو شامل کیا گیا ، لاءاینڈ پالیسی کے شعبہ کو گیارواں نمبر ملاجس میں عوام کے حقوق کا تحفظ اور بہترین حکومتوں کے قیام کےلئے لڑنے والے وکلاءاور آئینی و قانونی ماہرین کو شامل کیا گیا ، مینو فیکچرنگ اینڈ انڈسٹری بارہواں نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہی ، جس میں مشہور و معروف نوجوان بزنس مین اور بزنس وومن کو شامل کیا گیا ، ایڈورٹائزنگ اینڈ مارکیٹنگ کو نئے دور کے جدید تقاضوں کے مطابق نئی نئی روایات متعارف کروانے پر تیرہویں نمبر پر رکھا گیااور ا س سے وابستہ 30افراد اس فہرست میں شامل ہوئے ، چودہویں نمبر پر میڈیا میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے 30افراد شامل ہوئے ، پندرہویں نمبر پرمیوزک انڈسٹری کو رکھا گیا ، سولہویں نمبر پر انرجی کے شعبہ سے متعلق ماہرین اور کمپنی مالکان کو رکھا گیا جو اس میدان میں جدت اور نئی مہارتوں کے ذریعے عوام کی زندگیاں آسان بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔سترہویں نمبر پر سائنس کے میدان میں نئی نئی ایجادات اور سہولیات پیداکرنے والے 30افراد کو شامل کیا گیا ، اٹھارویں نمبر پر اُن سماجی کاروباری افراد کو رکھا گیا جو لوگوں کے مسائل اور پریشانیوں کے حل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ، اور اس کام کےلئے وہ نئے نئے آئیڈیاز پر عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں، اُنیسواں نمبر سپورٹس کو دیا گیا جس میں دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو شامل کرکے اُنکی حوصلہ افزائی کی گئی۔بیسویں نمبر پر ایسے افراد شامل کیے گئے جو نیا کاروبا ر شروع کرنے یا جوائنٹ وینچر کے ذریعے اپنا بزنس بڑھا کر لوگوں کے لئے روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔


پاکستان کے ہونہار نوجوان جو فوربزلسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی 25سالہ پاکستانی گلوکارہ اور خواتین کے حقوق کےلئے سرگرم خاتون مومنہ مستحسن اس لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں ، اُنہیں کوک سٹوڈیومیں گائے جانے والے گانے آفریں آفریں کی وجہ سے بہت زیادہ شہرت ملی ۔اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس گانے کی ویڈیو یو ٹیوب چینل پر سب سے زیاد ہ دیکھی گئی ، وہ خواتین کے حقوق کے لئے بھی آواز بلند کرتی رہتی ہیں ۔انہی وجوہات کے باعث اُنہیں فوربز نے اپنی فہرست میں شامل کیا۔


محمد اسد رضا اور ابراہیم شاہا جن کی عمریں تقریباََ 24سال ہیں اور وہ ہیلتھ کیئر کے شعبہ سے وابستہ ہیں ،ان کی سب سے بڑی کاوش یہ ہے وہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک جہاں علاج معالجے اور صحت کی سہولیات کا شدید قحط پایا جاتا ہے ،یہاں کے شہریوں کو علاج کی سستی مگر معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے مشن پر عمل پیرا ہیں، اس سلسلے میں انہوں نے NEUROSTIC کے نام سے عوامی فلاحی منصوبہ شروع کیا جس کی بناءپر اُنہیں فوربز میگزین کی فہرست میںشامل کیا گیا۔ پاکستان کا شمار ان 57ممالک میں ہوتا ہے جہاں نہ صرف علاج معالجے کا شعبہ بری حالت سے دوچار ہے بلکہ عوام کے تناسب سے ڈاکٹرز کی تعداد بھی بہت کم ہیں۔ اس طرح ان کا یہ کام بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔


اسی طرح 17سالہ پاکستانی طالب علم محمد شہیر نیازی کو بھی اُن کی ذہانت اورعمدہ کام کی بناءپر اس لسٹ میں شامل کیا گیا ، 28سالہ عدنان شفیع اور 29سالہ عدیل شفیع جودونوں حقیقی بھائی ہیں ،اُنہوں نے 2015میں.pk Priceoye کے نام سے ویب سائٹ بنائی جس پرصارفین کی سہولت اور آسانی کےلئے الیکٹرونکس اشیاءکی پرائس دی جاتی ہیں، صارفین میں ان کی اچھی ساکھ کا ہی ثبوت ہے کہ فوربز نے ان دونوں بھائیوں کو خصوصی طور پر اس لسٹ میں شامل کیا۔


سعدیہ بشیر خواتین میں ویڈیو گیم ڈویلپمنٹ کے حوالے سے اہم کارنامہ سر انجام دے رہی ہیں ،اُن کا مشن یہ ہے کہ وہ گیم ڈویلپمنٹ انڈسٹری میں مردوں کی اُجارہ داری ختم کرکے خواتین کو اُن کا جائز مقام دلوانا چاہتی ہیں۔ وہ خواتین کو اس انڈسٹری میں کم ازکم 33 فیصد شیئر دلوانے کا عزم رکھتی ہیں ،اسی بنیاد پر اُنہیں فوربز کی فہرست میں جگہ ملی ، وہ اپنی اکیڈمی میں اُن بچیوں کو سکالر شپ بھی دیتی ہیں جو ویڈیو گیم ڈویلپنگ کا کام سیکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔


فوربز کی فہرست میں حمزہ فرخ بھی شامل ہیں جن کا سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے Bondh e Shams کے نام سے ایک اہم پراجیکٹ شروع کیا ،وہ اس سولرواٹر پراجیکٹ کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے پانی سے متعلق مسائل کے حل کا عزم رکھتے ہیں۔23سالہ سید فیضان حسین Perihelion Systems کے بانی ہیں ،ان کے پراجیکٹ میں Edu-Aid بھی شامل ہے جو ایک سائن لینگوئج ٹرانسلیٹنگ سافٹ وئیر ہے، اسی طرح وہOne Health کے ذریعے ہیلتھ سیکٹر کی فلاح و بہبود کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔اُن کی جانب سے اس منصوبے کو شروع کرنے کا مقصد عوام کی زندگیوں کو سہل و آسان بنا نا ہے۔


ای پیپر