اسلام جھوٹ کو سبھی برائیوں کی جڑ قرار دیتا ہے
03 اپریل 2018 (21:56) 2018-04-03

عمر ملک :یکم اپریل کو پوری دنیا ’اپریل فول‘ مناتی ہے ۔ اس موقع پر لوگ جھوٹ کا سہارا لے کر ایک دوسرے کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں،جیسے کہ ایک دوست نے دوسرے کو مٹھائی کھلانے کے بہانے بدمزہ چیز کھلا کر بیوقوف بناتا ہے تو کوئی اپنے قریبی ساتھی کو پارک بلاکر خود غائب ہو جاتا ہے ،کوئی پڑوسی نے اپنے پڑوسی کو اس کے گھر پر حادثہ کی غلط خبر دے کر پریشان کرتا ہے تو کوئی طالب علم دوسرے طلبا کو اسکول میں اتوار کو بھی چھٹی نہ ہونے کی جھوٹی خبر دے کر حیران کر تا ، ایک طرف کمپنی کے باس نے اپنے ملازم کو نوکری سے نکالنے کی اطلاع دے کر ’اپریل فول‘ مناتا ہے تو دوسری طرف سوشل نیٹورکنگ سائٹس نے بھی غلط پیغامات کے ذریعہ متعدد لوگوں کو گمراہ کیا۔ گویا اس دن سبھی ایک دوسرے کو بیوقوف بنانے کے لئے طرح طرح کے جھوٹ کا استعمال کرتے رہے ۔ یہ روایت صدیوں پرانی ہے ۔ اس کا آغاز کب ہوا اور اس کے پس پشت کیا اسباب ہیں؟ اس امر سے متعلق کئی طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ 1582 میں پوپ گریگوری سیزدہم نے ایک نیا گریگورین کیلنڈر تیار کرایا تھا جو جولین کیلنڈر کی جگہ ملک میں استعمال کیا جانے لگا۔ اس کیلنڈر میں یکم جنوری کو سال کا پہلا دن قرار دیا گیا تھا اور لوگ جشن مناتے تھے، لیکن کچھ گریگورین مخالف افراد نے اس کیلنڈر کو اہمیت نہیں دی یا کیلنڈر کے مطابق پہلے دن کو جشن نہیں منایا بلکہ یکم اپریل کو لوگوں کو بیوقوف بنا کر جشن منانے لگے اور اس نے ’اپریل فول‘ کی شکل اختیار کر لی۔ لیکن بوسٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر جوزف بوسکن کا الگ ہی خیال ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں بتایا ہے کہ یہ عمل رومی بادشاہ قسطنطین کے زمانے میں شروع ہوا۔ واقعہ یوں ہے کہ اس کے کچھ درباری مسخروں نے کہا کہ ہمارے پاس حکومت چلانے کا بہترین نسخہ ہے ۔ بادشاہ نے بھی از راہ مذاق کوگل نامی مسخرے کو ایک دن کا بادشاہ بنا دیا۔ چنانچہ کوگل نے اس دن جملہ خرافات کرنے کی اجازت دینے والا ایک قانون پاس کیا جس نے سالانہ جشن کی شکل اختیار کر لی۔ یہ دن یکم اپریل تھا۔


کچھ اشخاص ان دونوں ہی واقعات کو رَد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عیسائیوں نے اسپین کے مسلمانوں کو بیوقوف بنا کر 15ویں صدی میں یکم اپریل کو ہی حتمی طور پر اقتدار سے بے دخل کیا تھا۔ اس سلسلے میں مزید کہا جاتا ہے کہ اسپین کی آخری سلطنت اور اس کے قلعہ غرناطہ پر عیسائیوں نے اس روز فتح حاصل کر کے مسلمانوں کو نہ صرف غلام بنایا بلکہ انہیں بیوقوف قرار دیتے ہوئے اس دن کو وہ ’اپریل فول‘ کے طور پر منانے لگے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔


بہر حال، مختلف لوگ مختلف روایتیں ضرور بیان کرتے ہیں، لیکن حقیقتاً یہ ایک ایسا رواج ہے جس کے نقصان کی طرف لوگ نظر نہیں ڈالتے۔ لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش میں اکثر و بیشتر یکم اپریل کو حادثات ہوتے رہے ہیں۔ کبھی کبھی یہ حادثات ایسے ہوتے ہیں جو کئی زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں۔ لوگوں کو پل ود پل کی خوشی مہیا کرنے والا مذاق کمزور دل اور امراض قلب کا شکار افراد کے لئے کبھی کبھی مہلک بھی ثابت ہوتا ہے ۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو کسی کو بیوقوف بنانا کوئی اچھی بات نہیں ہے اور نہ ہی کسی کا مذاق بنانا مہذب انسان کی نشانی ہے ۔


اگر ’اپریل فول‘ کے مضر اثرات کی بات کی جائے تو سب سے تازہ مثال یکم اپریل 2012 کا وہ حادثہ ہے جس میں ایک انسان کا گھر آگ کی نذر ہو گیا۔ یہ حادثہ بھارت کے شہر ناگپور میں پرگنیش مستری کے ساتھ پیش آیا جو کہ کرایہ کے مکان میں رہتے تھے۔ آگ اس وقت لگی جب وہ گھر سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ ان کے ایک پڑوسی نے آگ لگنے کی خبر موبائل پر انہیں دی لیکن انہوں نے اسے ’اپریل فول‘ سمجھا اور کہا کہ ”لگنے دو“۔ دھیرے دھیرے آگ پورے مکان میں پھیل گئی اور سارا سامان خاکستر ہو گیا۔ آس پاس کے لوگوں اور فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ پر قابوتو پالیا گیا، لیکن اس وقت تک ’اپریل فول‘ اپنا اثر دکھا چکا تھا۔
یکم اپریل 2012 کو پوری دنیا میں اس طرح کے چھوٹے بڑے کئی حادثات ہوئے اور پہلے بھی اس طرح کے حادثات ہوتے رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ لوگ اس سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ 1946 میں جزیرہ ’الوتین‘ میں جب سونامی اور زلزلہ دیکھنے کو ملا تھا، اس وقت الاسکا، ہوائی اور دیگر مقامات پر قدرتی آفت کی اطلاع دی گئی تھی، لیکن کئی لوگوں نے اسے محض ’اپریل فول‘ سمجھا۔ اگر اس اطلاع کو سبھی لوگ سنجیدگی سے لیتے تو شاید 165 لوگوں کی ہلاکت کی تعداد کچھ کم ہوتی۔


اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی حقیقت پر مبنی خبروں کو بھی لوگ ’اپریل فول‘ تصور کر لیتے ہیں جس سے حادثات کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ سنجیدہ لوگ ’اپریل فول‘ کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس کی مثال اسرائیلی فوج کے اعلیٰ کمان ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی بحریہ کے سربراہ وائس ایڈمیرل رام راتھ ورگ کے ذریعہ کئے گئے یکم اپریل 2012 کے ا±س ’اپریل فول‘ مذاق کو غیر انسانی قرار دیا ہے جس میں انہوں نے ٹاپ کمانڈروں کو اٹلی میں 10 دن کے بحری تربیت کا حکم صادر کیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس پورے واقعہ کی تفتیش کا بھی حکم دیا گیا تاکہ ضروری کارروائی کی جا سکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ’اپریل فول‘ جھوٹ ، فریب اور لغویات کو فروغ دینے والا عمل ہے اور کوئی بھی مذہب ان چیزوں سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ مذہب اسلام تو جھوٹ کو سبھی برائیوں کی جڑ قرار دیتا ہے ۔


قرآن و حدیث میں جھوٹ سے بچنے کی ترغیب
جھوٹ سے بچنے کے لئے قرآن میں کئی آیتیں موجود ہیں۔ قرآن کی آیت (ترجمہ) ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں میں سے ہو جاﺅ“ (سورة توبہ) کیا جھوٹ بولنے سے پرہیز کرنے کی طرف اشارہ نہیں کر رہی ہے ؟ احادیث میں بھی لاتعداد مقامات پر جھوٹ سے دوری اختیار کرنے کی واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ آپ ابو داﺅد، ترمذی اور نسائی میں شامل حدیث ”بربادی ہے اس کے لئے جو لوگوں سے بات کرتا ہے اور انہیں ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے ، بربادی ہے اس کے لئے، بربادی ہے اس کے لئے“ پر غور کیجئے، یا پھر مسند احمد و طبرانی کی حدیث ”یہ بہت بڑا دھوکہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی بات کہو، وہ تمہیں سچا سمجھ رہا ہو اور تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو“ کو دیکھئے۔


ذرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر نظر ڈالئے جس میں آپ نے کہا ہے کہ ”تم ہمیشہ سچ بولا کرو کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے ۔ ایک شخص ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں لکھ دیا جاتا ہے کہ ’یہ انتہائی سچا شخص ہے ‘۔ اور تم جھوٹ سے بچتے رہو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم تک پہنچا دیتا ہے ، اور ایک شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں لکھ دیا جاتا ہے کہ ’یہ بہت جھوٹ بولنے والا شخص ہے “۔ (مسلم)


آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ’اپریل فول‘ کو نہ صرف ایک سماجی برائی تصور کریں بلکہ لوگوں کو ہمیشہ سچ بولنے پر آمادہ بھی کریں۔ آج کل تو باشعور اور ذمہ دار انسان کو بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا جاتا ہے ۔ سرپرست حضرات اپنے گھروں پر بھی ذرا ذرا سی بات پر جھوٹ بول دیتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ اس کا بچوں پر گہرا اثر پڑتا ہے اور ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ جھوٹ کوئی ’برائی‘ نہیں۔ کسی جھوٹ کا مضر اثر فوری دیکھنے کو ملتا ہے ، تو کسی کا کافی مدت کے بعد، لیکن جھوٹ ہمیشہ ہی نقصان پہنچاتا ہے ۔ چاہے اس میں کچھ دیر ہی کیوں نہ ہو۔ جھوٹ تفریحاً بولا جائے یا احتیاطاً، ہر صورت میں غلط ہے ۔


اپریل فول بنایا…………تو تم کو غصہ آیا…؟
31مارچ کو ہی پہلے سے یہ وارننگ دے دی جاتی ہے کہ آنے والا دن اپریل فول ہے اور اس دن آپ کو خود ہر چیز کے لئے احتیاط کرنی ہے ۔ لوگ اس دن دوسروں کو مختلف طریقوں سے بیوقوف بناتے ہیںاور اس کے لئے نت نئے طریقے سو چے جاتے ہیں تاکہ جس کو '' بکرا''یا ''فول'' بنا نے کا پلان ہے وہ ان کے جال میں پھنس جائے۔


پہلے پہل یہ دن اتنے اہتمام سے نہیں منایا جاتا تھا مگر اب ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر اس کے لئے پروگرام چلائے جاتے ہیں۔ ان پروگرامز کے ذریعے اداکاروں کو بھی بیوقوف بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ریڈیو پر بھی لوگوں سے اس بارے میں رائے لی جاتی ہے یا ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو کس طرح بیوقوف بنائیں گے یا بنایاہے۔اس میں کوئی برائی نہیں ہے کہ آپ اپریل فول مناتے ہیں لیکن ایک چیز کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ آپ کے اس مذاق سے کسی کا کوئی بڑا نقصان نہ ہو جائے۔اب تو یہ دن دنیا بھر میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی منایا جاتا ہے ۔ اس دن کا انتظار بڑوں اور بچوںدونوں کو ہوتا ہے ۔آفس ہو یا اسکول کالج اس خاص دن لوگ ایک دوسرے پر ہنستے ہوئے آپ کو عام مل جائیں گے۔ فون پر لوگ اپنے رشتے داروں کو بیوقوف بناتے ہیں اور آواز بدل کر ان سے بات کرتے ہیں۔یہ مذاق تو اب پرانا ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو جانتے ہیں آپ دیکھنے میں کیسے ہیں ؟ کیا کرتے ہیں؟ کہاں کہاں جاتے ہیں؟ اب تو موبائل کا دور ہے لوگ ایس ایم ایس کرکے لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔ موبائل کی بات چلی ہے تو اب دیکھا جائے تو ہر دن ہی اپریل فول کی طرح منایا جاتا ہے ۔ لوگ روز ایس ایم ایس کرکے دوسروںکو بیوقوف بناتے ہیں اور پھر اپنی اس بات پر ہنستے بھی ہیں۔

فول بنانے کے بعد لوگ دوسروں پر ہنستے ہیں اور انہیں پتا بھی نہیں چلتا کہ کوئی انہیں بھی بیوقوف بنا رہا ہے ۔اس دن کئی طریقوں سے لوگوںکو فول بنایا جاتا ہے جیسے کہ کسی کے پانی یا چائے میں نمک کی ملاوٹ کرنا، اپنے کسی عزیز کو کسی جگہ پر بلا کر وہاں خود نہ جانا، لوگوں کو تحائف دینا جو کہ صرف خالی ڈبے ہوتے، کسی فنکشن خاص طورپر کسی میوزک کنسرٹ کے نقلی ٹکٹ بنا کر بانٹناوغیرہ۔اس کے علاوہ بھی کئی پریکٹیکل طریقے ہیں جن کی مدد سے لوگوںکو بیوقوف بنایا جاتا ہے جیسے کہ فون کے کلک بٹن کو ٹرانسپیرنٹ ٹیپ سے دبا دیا جائے۔ ایسا کرنے سے جب کال آنے پر ریسیور اٹھایا جائے تو فون کی گھنٹی تب بھی بج رہی ہوتی ہے ۔


ای پیپر