قصور زینب کے بعد کمسن مبشرہ زیادتی کے بعد قتل ۔۔۔ چیف جسٹس نے اہم حکم جاری کر دیا
03 اپریل 2018 (21:51)

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جڑانوالا میں 6 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کا نوٹس لے لیا۔اتوار کے روز فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں کھیتوں سے 6 سالہ بچی کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کی شناخت مبشرہ کے نام سے ہوئی تھی جب کہ بچی سے زیادتی کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔6 سالہ مقتولہ مبشرہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی سے زیادتی کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ رپورٹ میں بچی کے جسم پر زخموں کے 21 نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 6 سالہ مبشرہ سے زیادتی اور قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

دوسری جانب تحصیل جڑانوالہ میں اس واقعے کے بعد سے احتجاج جاری ہے اور دوسرے روز بھی ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے۔واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے مختلف مقامات پر ٹائر جلاکر سڑکوں کو بلا ک کیا اور ملزمان کو گرفتار کرکے سرعام سزا دینےکا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ یکم اپریل کو جڑانوالہ کے علاقے گلشن عزیز کی6 سالہ بچی دوپہر کو اچانک لاپتہ ہوگئی تھی جس کے بعد اہلِ خانہ نے اس کی تلاش کا عمل شروع کیا لیکن انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تاہم رات گئے بچی کی لاش اس کے گھر کے قریب کھیتوں سے مل گئی۔پولیس نے بچی کے والد محمد افضل خان کی مدعیت میں تھانہ سٹی جڑانوالہ میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔


ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں 6 سالہ بچی کے زیادتی کے بعد قتل کیخلاف شہریوں نے احتجاج کرکے کاروباری مراکز بند کرا دیئے۔پولیس کے مطابق گزشتہ روز جڑانوالہ میں تھانہ سٹی کی حدود میں کھیتوں سے کمسن بچی کی لاش ملی تھی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔بچی سے زیادتی اور قتل کا مقدمہ تھانہ سٹی جڑانوالہ میں بچی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر گلا دبا کر قتل کیا۔بعدازاں لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا۔


ای پیپر