مغربی ایجنسیوں نے اسامہ بن لادن اور دیگر جنگجو پاکستان بھجوائے،احسن اقبال
03 اپریل 2018 (16:51) 2018-04-03

اسلام آباد:وزیر داخلہ حسن اقبال نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالنے کے معاملے پر نیکٹا کی فنانشل ٹاسک فورس کو متحرک کر تے ہوئے کہا کہ نیکٹا دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر از سر نو رپورٹ مرتب کرے گی، پاکستان آج تک افغان جنگ کے اثرات کو بھگت رہا ہے، پاکستان پر افغان مہاجرین کومزید رکھنے کیلئے دبا ﺅ ڈالا جا رہا ہے، بین الا قوامی برادری کو کشمیر کی کوئی پرواہ نہیں، عالمی برادری کو دہرا معیار چھوڑنا ہوگا ورنہ انتہا پسندی پنپتی رہے گی۔

منگل کو کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالنے کے معاملے پر حکومت نے نیکٹا کی فنانشل ٹاسک فورس کو متحرک کردیا۔ نیکٹا دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر از سر نو رپورٹ مرتب کرے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ کو صوبوں کی کاروائیوں پر بریفنگ دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبوں نے بہت کام کیا لیکن رپورٹ نہیں ہورہا۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے نیکٹا کے سربراہ کو صوبوں سے فی الفور رابطے کی ہدایت کردی۔ تین روزہ انسداد دہشت گردی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 60 ہزار پاکستانیوں نے جانیں دیں، دہشتگردوں نے پاکستان کے تمام طبقات کو نشانہ بنایا، مساجد، چرچز، اسپتال، پارکس اور درگاہوں پرحملے کیے۔

انہوں نے کہا کہ چند سال قبل تک پاکستان کودنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا جاتا تھا لیکن آج دنیا کا ہر ادارہ پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشت قرار دے رہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ جب افغان جنگ ختم ہوئی تو سب ہاتھ جھاڑ کر چلے گئے، افغانستان کو دہشت گرد نیٹ ورک کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے، پاکستان آج تک افغان جنگ کے اثرات کو بھگت رہا ہے اور پاکستان پر افغان مہاجرین کومزید رکھنے کے لیے دبا ڈالا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر سے متعلق احسن اقبال نے کہا کہ مغربی ایجنسیوں نے اسامہ بن لادن اور دیگر جنگجو پاکستان بھجوائے اور جب افغان جنگ ختم ہوئی تو سب ہاتھ جھاڑ کر چلے گئے، پاکستان آج تک افغان جنگ کے اثرات کو بھگت رہا ہے، پاکستان پر افغان مہاجرین کو مزید رکھنے کے لئے دبا ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو مشرقی تیمور اور سوڈان میں تو مسئلہ نظر آیا لیکن کشمیر کی کوئی پرواہ نہیں، عالمی برادری کو دہرا معیار چھوڑنا ہو گا ورنہ انتہا پسندی پنپتی رہے گی۔


ای پیپر