اچھائیاں، بُرائیاں!
03 اپریل 2018 2018-04-03

اللہ پاک فرماتے ہیں جو میرے بندوں کا شکر گزار نہیں، مجھے اُس کے شکریے کی کوئی پروا نہیں“ ....ہمارے چند المیوں میں ایک یہ بھی ہے شکرگزاری کے معاملے میں، چاہے وہ رب کی شکرگزاری ہی ہو یا اُس کے بندوں کی، ہم بڑے کنجوس ہوگئے ہیں، جیسے کسی کو شاباش دینے کے معاملے میں ہم بڑے کنجوس ہیں .... یہاں کسی میں کوئی خرابی ہو اُسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ کسی میں کوئی خوبی ہو اُسے اپنی خرابی کے طورپر چھپا لیتے ہیں، اِس معاملے میں دنیا میں کوئی ہمارا ثانی نہیں ہے، ہمارے انہی اعمال کی وجہ سے دنیا خود سے ہمیں پرے کرتی جارہی ہے، .... گوری دنیا کی خوبیوں میں یہ بھی ہے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کو ”تھینک یو“ کہتے ہیں۔ وہاں آپ کسی کو مسکرا کر دیکھیں وہ جواباً نہ صرف آپ کو مسکرا کر دیکھے گا بلکہ بڑی خوشدلی سے ”تھینک یو“ بھی کہے گا۔ یہاں آپ کسی کو مسکرا کردیکھیں وہ آپ کو گھور کر دیکھے گا بلکہ اردگرد کوئی اینٹ بھی تلاش کرے گا جو آپ کے سرپر وہ دے مارے، وہ سمجھے گا آپ اُس کا توا لگارہے ہیں، اُس کا مذاق بنارہے ہیں، اپنی مثبت سوچ کے باعث گورے دنیا پر راج کررہے ہیں اور اپنی منفی سوچ کے باعث دنیا ہم پر راج کررہی ہے۔ یہ واقعہ میں نے شاید پہلے بھی لکھا تھا سپین بارسلونا میں ایک گوری اپنے کتے کے ساتھ ایک فٹ پاتھ سے گزررہی تھی ،میں نے اُس کے کتے کی طرف مسکرا کر دیکھا، وہ بڑا ہی پیارا کتا تھا، اُس گوری نے میرا شکریہ ادا کیا، پھر اُس نے اپنے کتے کو گود میں اُٹھا کر مجھے پکڑانے کی کوشش کی، میں نے کہا ”اِسے پرے کرو یہ مجھے کاٹ لے گا“ .... میں نے محسوس کیا میری بات سن کر وہ یکدم سوگوار سی ہوگئی ہے۔ پھر دو موٹے موٹے آنسو اُس کی آنکھوں سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیئے، وہ مجھ سے کہنے لگی ”آپ نے میرے کتے کو اچھا کہا ، اُس کی طرف مسکرا کر دیکھا، پھر آپ نے تصور کیسے کیا یہ آپ کو کاٹ لے گا ؟ ۔ یہ کیسے ممکن ہے آپ اسے اچھا کہیں، آپ اس کی طرف محبت سے مسکرا کر دیکھیں اور جواباً یہ آپ کو کاٹ لے ؟“ ....ایک ہم ہیں دوسروں کو بغیر کسی وجہ کے کاٹ لیتے ہیں۔ ایک یورپی کتے نے ایک پاکستانی سے کہا ” تم جب اپنے ملک جاﺅ مجھے ساتھ لے جانا “....پاکستانی نے اِس کی وجہ پوچھی، وہ بولا ”اِس لیے کہ تمہارے ملک میں بھونکنے کی مکمل آزادی ہے“....ایک دوسرے پر بھونک بھونک کر ہماری شکلیں انسانوں جیسی نہیں رہیں، لوگوں سے محبت کرنا ہم بھولتے جارہے ہیں، احساس ختم ہوتا جارہا ہے۔ خون سفید ہوگئے ہیں۔ ایک دوست بہت سالوں بعد دوسرے سے ملا تو کہنے لگا ”تمہارے بال سفید ہوگئے ہیں“ ۔ وہ بولا ” جوکچھ مجھ پر بیتی ہے تم پر بیتتی تمہارا خون سفید ہوجاتا“ .... ایک دوسرے کے حال کی ہمیں کوئی خبر ہی نہیں ہوتی، کوئی جیئے یا مرے ہمیں اِس سے کوئی غرض ہی نہیں ہوتی۔ ہم صرف اپنے حال میں اور مال میں مست ہیں، اِس مستی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ایک زمانے میں لوگوں کے دُکھ سکھ میں شریک ہونے کے عمل کو بڑی سعادت سمجھا جاتا تھا، اب کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا دوسروں کے دُکھوں اور خوشیوں میں وہ شریک ہو۔ اگلے روز ہمارے ایک دولت مند دوست کا کوئی عزیز فوت ہوگیا، عین جنازے کے وقت اُنہوں نے اپنے دفتر میں ایک میٹنگ بلارکھی تھی۔ اپنے منیجر سے اُنہوں نے کہا ”تم جنازے میں چلے جاﺅ، وہاں جاکر مجھے وڈیو کال کرلینا، میں بھی جنازہ پڑھ لوں گا“۔ایک بہت ہی المناک شعر ہے۔ ”حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا .... کوئی ٹھہرا نہیں حادثہ دیکھ کر “ .... لوگ پہلے گناہ کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔ کس قدر المیہ ہے اب نیکی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کوئی دیکھ نہ لے۔ میں نے اپنے ایک دوست سے کہا اپنے جس گناہ کی اکثر تم نمائش کرتے ہو وہ گناہ تم کسی سڑک پر کسی چوک میں، کسی پارک میں سرعام تم کرسکتے ہو ؟ وہ بولا ”سب کے سامنے کیسے کرسکتا ہوں؟ لوگ ہمیں ماردیں گے“....میں نے عرض کیا ”لوگوں سے ڈرتے ہو، مگر یہی گناہ جب ایک بند کمرے میں کرتے ہو اللہ کا کوئی ڈر یا خوف تمہارے دل میں نہیں ہوتا ؟“....لوگوں سے ڈرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جارہی ہے۔ اُوپر سے ہم جو نیکیاں کرتے ہیں وہ بھی سب دکھاوے کی ہوتی ہیں۔ خصوصاً ہمارے حکمران اس معاملے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ میرے خیال میں میڈیا نہ ہوتا ہمارے حکمرانوں کے ہاں نیکی کا تصور تک نہ ہوتا ۔ سو ہمارے میڈیا کو جہاں اور بہت سے کریڈٹ جاتے ہیں، ایک کریڈٹ یہ بھی جاتا ہے ،اس کی وجہ سے کچھ لوگوں میں نیکیاں کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا رہتا ہے، نیکی کرکے دریا میں ڈالنے کا تصور اب بہت بوسیدہ ہوچکا ہے۔ اب نیکی کرکے جب تک اُس کی نمائش نہ کی جائے، اُسے میڈیا میں نہ ڈالا جائے ہم اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں ہماری نیکی ضائع ہوگئی ہے۔ پرسوں میں نے ایک پریشان حال کی مدد کی۔ سارا دن اُس کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ رات کو سوتے ہوئے یہ احساس ہورہا تھا کسی کو نہ بتانے کی وجہ سے میری یہ نیکی ضائع ہوگئی ہے۔ پھر دوچار دوستوں کو فون کرکے میں نے بتایا تو مجھے سکون کی نیند آئی۔ .... البتہ کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جو نیکی کی نمائش کو کسی بھی حوالے سے جائز نہیں سمجھتے۔ ایسا تجربہ اگلے روز سی پی او گوجرانوالہ اشفاق احمد خان (ڈی آئی جی) کے پاس بیٹھ کر ہوا۔ اُنہوں نے مجھے بڑی عزت دی۔ ہم گورنمنٹ کالج اور ایف سی کالج کو یاد کرتے رہے، جہاں اپنے اپنے زمانے میں ہم دونوں نے تعلیم حاصل کی ۔ ہم پرانے وقت کو بھی یاد کرتے رہے جب لوگ ایک دوسرے کے دُکھوں اور سُکھوں سے جُڑے ہوئے ہوتے تھے۔ جب رشتوں کی طرح دُکھ سُکھ بھی سانجھے ہوا کرتے تھے۔ اِس دوران وہ بار بار معذرت کرکے باہر جاتے اور چند منٹوں بعد واپس آجاتے۔ مجھے بڑی حیرت ہورہی تھی وہ بار بار اپنی سیٹ سے اُٹھ کر باہر کیوں جاتے ہیں؟ ۔ ایک بار وہ باہر گئے میں بھی اُن کے پیچھے چلا گیا ۔ میں نے دیکھا اُن کے آفس کے باہر ایک ڈائس پڑا ہے جس پر جاکر وہ کھڑے ہوگئے۔ اپنے دفتر میں آئے ہوئے لوگوں کے مسائل سننے لگے اور ان کی درخواستوں پر احکامات جاری کرنے لگے۔ میں واپس اندر جاکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا، چند لمحوں بعد وہ تشریف لائے تو اُن کے آگے پڑی ہوئی کافی ایک بار پھر ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ میں نے اُن سے پوچھا آپ بار بار باہر کیوں جاتے ہیں ؟۔ فرمانے لگے ” اپنی کچھ ذمہ داریاں نبھانے جاتا ہوں“ .... ان ذمہ داریوں کی تفصیل اُنہوں نے نہیں بتائی۔ حالانکہ میں جان چکا تھا۔ میں دیرتک اُن کے پاس رُکنا چاہتا تھا ۔ میں ان سے کچھ سیکھنا چاہتا تھا۔ اُن کی گفتگو میں درویشی اور دانشمندی کا میلاپ مجھے بڑا متاثر کررہا تھا۔ مگر میں نے یہ سوچ کر اُن سے زبردستی اجازت لے لی کہ ایک ایسے شخص کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے جو ہروقت خلق خدا کی خدمت میں خود کو مصروف رکھنا چاہتا ہے۔ ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی اب نہیں ہیں، کاش ایسے لوگ نمک میں آٹے کے برابر ہوتے!


ای پیپر