فریادی....!!
03 اپریل 2018

یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
ساتھ والے گھر کی بالائی منزل سے مہدی حسن دہائی دے رہا تھا، میں نے دروازہ کھولا تو خواجہ سعد رفیق کھڑا تھا، میرا حسن نثار سے جاری مکالمہ پھر ادھورا رہ گیا۔ یہ آج سے چوبیس برس پہلے کی بات ہے، جب ”آتش نوجوان“ تھا اور برادر بزرگ حسن نثار 138/A ماڈل ٹاﺅن میں رہائش پذیر تھے اور میں لوئر مڈل کلاس پنجابی قصبے میں رہنے والے دیگر نوجوانوں کی طرح متعصب سیاسی خیالات کی اصلاح کی جدوجہد میں ”نظریہ پاکستان“ سے نبرد آزما تھا۔ عباس اطہر، تنویر عباس نقوی، منو بھائی اور نذیر ناجی جیسے بڑے لوگوں سے کچھ سیکھنے کی لگن میں پرانی انار کلی میں مسعود باری اور اداکار عابد علی اور منو بھائی کے اوریگا سنٹر کے دفاتر اور حسن نثار کے گھر کے درمیان گھوما کرتا۔
اس شام حسن بھائی سے تمام سیاسی جماعتوں اور نظام سے ان کی یکساں مایوسی اور نا امیدی پر سوال کیا پوچھ بیٹھا سمجھو میری شامت آ گئی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا تمہیں پتا ہے کہ پاکستان کیوں معرض وجود میں آیا؟
جواب میں درسی کتب سے حاصل معلومات کو اپنے کچے پکے سیاسی خیالات کی آنچ میں پکا کر ان کے سامنے رکھ کر داد طلب نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو وہ جلال میں آ گئے۔
مجھ سے پوچھا بھارت کا موجودہ دور کا سب سے بڑا ایٹمی سائنس دان کون ہے؟ میں نے جواب دیا عبدالکلام، بھارتی کرکٹ ٹیم کا کپتان کون ہے؟ میں نے جواب دیا، اظہر الدین، اگلا سوال انڈین ہاکی ٹیم کے عظیم کھلاڑی کی بابت تھا جس کے جواب میں مجھے محمد شاہد اور ظفر اقبال کے نام بتانے پڑے۔ اگلا سوال بھارتی فلم انڈسٹری سے متعلق تھا مجھ سے پوچھا گیا سب سے مشہور بھارتی اداکار کون ہے، میں نے شاہ رخ خان کے ساتھ سلیمان خان اور عامر خان کا نام لیا جس پر مجھے دلیپ کمار (یوسف خان) بھی یاد دلایا گیا۔ اگلا سوال انڈر ورلڈ سے متعلق تھا تو میرے پاس داﺅد ابراہیم اور چھوٹا شکیل کے علاوہ کوئی جواب نہیں تھا۔ دلیل رفتہ رفتہ مجھے سمجھ آ رہی تھی۔
حسن بھائی نے غصے سے کہا جس مسلمان میں دم ہے، ٹیلنٹ ہے، جان ہے، وہ ایک ارب کے قریب آبادی میں سے اقلیت ہونے کے باوصف اپنا آپ منوا لیتا ہے، پاکستان تو (مڈیاکر) عام مسلمان جس کی واجبی یا گزارے لائق تعلیم اور سمجھ ہے کے لیے بنایا گیا تھا، یہ بتاﺅ موجودہ نظام اور سیاسی جماعتوں نے عام پاکستانی ، عام، گزارے لائق مسلمان کے لیے کیا کیا ہے؟
ابھی میں اس سوال کا جواب ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ باہر بیل بجی اور میں نے دروازہ کھولا سامنے خواجہ سعد رفیق کھڑا تھا، جو اس وقت غالباً مسلم لیگ یوتھ کا نمایاں عہدیدار تھا میں نے سعد رفیق کو راستہ دیا اور خود باہر نکل آیا، ساتھ والے گھر کی بالائی منزل پر مہدی حسن گا رہا تھا
یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
بے مقصد آوارہ گردی کے دوران یہ گتھی سلجھانے کی ناکام کوشش کرتا رہا کہ شاید اس وقت ”نظام“ سے واقفیت نئی نئی تھی اور یہ نظام ”جرنلسٹ“ کا تعارف کروانے پر بعض بند دروازے میرے لیے بھی کھول کر مجھ سے تعلق استوار کر رہا تھا۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ نظام تو اتنے سالوں سے جوں کا توں ہے اور اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، نابینا افراد، کسان اور لیڈی ہیلتھ ورکرز لاہور مال روڈ پر تو مزدا ڈرائیور بتی چوک اور شہر کے دوسرے علاقوں میں اس نظام سے اپنا حق مانگتے نظر آ رہے ہیں ، اسی نظام میں وفاقی دارالحکومت میں مستقبل کے معماروں کے اساتذہ، پمز کے ہارٹ سینٹر اور ٹرانسپلانٹ سینٹر کا تمام عملہ سڑکوں پر ہے اور صرف سالوں سے رکی ہوئی تنخواہ مانگ رہا ہے۔
گر جاﺅ گے تم اپنے مسیحا کی نظر سے
مر کر بھی علاج دل بیمار نہ مانگو
اسی نظام کے رکھوالے سابق وزیراعظم کہتے ہیں جہاں سے ہدایت دوں عمل کرنا، موجودہ وزیراعظم کہتے ہیں جہاں سیاستدان کی عزت نہیں ہو گی وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا، اب انہیں کون بتائے کہ عزت کی یا کروائی نہیں جاتی عزت کمائی جاتی ہے اور ایک وقت میں یا آپ عزت کما سکتے ہیں یا روپیہ! فیصلہ تو سیاستدان بہت پہلے کر چکے کہ انہیں کیا چاہیے، ہم سے کاہے کا گلہ ہے۔
”فریادی“ کہنے پر سیخ پا ہونے والے یہ بھول گئے کہ جمہوریت میں سب برابر ہیں اور اگر میں اور آپ فریادی ہیں تو پھر کسی کو بھی سرخاب کے پر نہیں لگے ہوئے کہ وہ فریادی کہے جانے پر بُرا منائے۔ ”وزیراعظم“ نہ فریادی کہلانا چاہتے ہیں اور نہ کسی بات کے لیے خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔ ”وزر“ اور وزیر کے ایک معنی وزن یا بوجھ اٹھانے والا بھی ہے، اسے لغت میں مددگار بھی لکھا گیا ہے، وزیراعظم کا مطلب ہوا سب سے زیادہ یا بڑا وزن اٹھانے والا، بڑا مدد گار!
انہوں نے بہت وزن اٹھائے پانچ براعظموں میں پھیلی جائیدادوں کے، ایئر لائنز کے غیر ملکی بینکوں ، آف شور کمپنیوں کے بینک بیلنس کے، یقیناً یہ وزیراعظم ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ عام متوسط مسلمان کے لیے قائم کئے گئے پاکستان کو ایک مخصوص بااثر طبقے نے اپنی چراہ گاہ بنا رکھا ہے اور عام آدمی کے لیے نہ تعلیم، نہ صحت، نہ روزگار، نہ امن و امان بلکہ غلیظ پانی اور گدھے کا گوشت۔۔!
یہ ہے میرا ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“۔۔!!
انتخابات کی پھر سے آمد آمد ہے اور سیاسی جماعتیں کالا باغ تو نہیں بنا سکیں ہمارے لیے سبز باغ تیار کر رہی ہیں سابق وزیراعظم کہتے ہیں۔
”ووٹ کی عزت سے قوم کا مقدر سنورے گا، جہاں سے ہدایت دوں اس پر عمل کرنا“۔
اس میں ووٹر کی عزت اور حق کا کہیں ذکر نہیں، نرگسیت جان چھوڑے تو کوئی دوسرا نظر آئے، انتخابات کی آمد کے بارے میں سوچتا ہوں تو ماڈل ٹاﺅن کی وہ شام یاد آتی ہے۔
یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
اس چیز کا کیا ذکر جو ممکن ہی نہیں
صحرا میں کبھی سایہ دیوار نہ مانگو
(قتیل شفائی)


ای پیپر