پاکستان ایک دوراہے پر!
02 ستمبر 2020 (20:13) 2020-09-02

حامد خان المشرقی

 پچھلے ایک ہفتہ میں ملکی سیاست میں بھونچال تو ہے ہی مگر بین الاقوامی سطح پر جو طوفان متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے نتیجے میں آیا ہے اُس نے تو گویا پوری دُنیا میں خصوصاً اسلامی دُنیا میں ایک عجیب سراسیمگی سی پھیلا دی ہے۔ اسلامی ممالک بے چینی کا شکار ہیں، کس کا ساتھ دیں کس کا نہ دیں، کہیں فلسطینیوں کی حمایت کا اصولی موقف آتا ہے اور کہیں دولت سے مالامال متحدہ عرب امارات کی دوستی، یہ سب کچھ بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان جیسے ممالک کے لیے نہایت پریشان کن ہے، جن کے معاشی مفادات تو عرب ممالک کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور لاکھوں ورکر ان اور دوسرے مسلمان ممالک سے وہاں کام کررہے ہیں اور ان کی طرف سے بھیجا گیا زرّمبادلہ ان ممالک میں ر یڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح ان ممالک کے عوام عمومی طور پر اسرائیل کے وجود اور ناجائز قبضہ کے سخت مخالف ہیں اور ہمیشہ سے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اس ساری صورتحال اور حالات کا جائزہ لینے سے پہلے اور اس معاہدے سے آنے والے حالات پر نظر ڈالنے سے پہلے آیئے اس معاہدے کو دیکھیں اور ان حالات کا تجزیہ کریں جن میں یہ معاہدہ ہوا ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے جس میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے خطے کی صورتحال میں بہتری لانے اور امن کی بحالی کے لیے باہمی تعلقات یعنی ایک دوسرے کے سفارتخانے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر بہت جلد عمل کیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تجارت اور سیاحت سمیت تمام شعبوں میں تعاون کریں گے۔ اس اعلان میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوری طور پر وزارتی سطح پر مذاکرات کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ گو کہ متحدہ عرب امارات نے اس معاہدے کی توجیہی اور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی مزید زمینوں پر قبضہ نہ کرنے اور فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد کیا گیا ہے اور متحدہ عرب امارات فلسطین نے مسئلہ کے حل اور اسرائیل کو مسلمانوں کے قریب لانے کے لیے کیا ہے جبکہ اگلے ہی دن اسرائیلی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ ایسا کوئی وعدہ یا یقین دہانی نہیں کروائی گئی ہے۔ میرے نزدیک اس معاہدے کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے۔ جہاں تک متحدہ عرب امارات کا تعلق ہے تو اُسے ظاہری طور پر تو کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا بلکہ اسے باقی اسلامی ممالک سے دبائو کا سامنا ہے۔ یہ سب تو متحدہ عرب امارات نے امریکی اور اسرائیلی دبائو کے نتیجے میں کیا ہے جبکہ دوسری جانب اس معاہدے اور اس سارے معاملے سے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ بھرپور فائدہ اُٹھائیں گے۔ امریکی صدر اس معاہدے کو نومبر میں ہونے والے انتخابات میں اپنی کامیابی گنتے ہیں اور یہودی لابی کو ایک پیغام بھی دے رہے ہیں کہ وہی صرف عربوں کو اسرائیل کی حمایت پر راضی یا مجبور کرسکتے ہیں۔ گویا کہ اس معاہدے کا سب سے بڑا فی الحال فائدہ امریکی صدر ٹرمپ کو ہوگا۔

اب بات ہو جائے اس معاہدے سے اسرائیل کے فائدے کی تو بلاشبہ اس معاہدے سے اسرائیل کو ہی سب سے زیادہ فائدہ ہو گا جس میں سب سے اہم تو اس کے وجود کو تسلیم کیا جانا یعنی مصر، اُردن اور ترکی کے بعد متحدہ عرب امارات وہ چوتھا مسلمان ملک بن گیا ہے جس نے اسرائیل کو بحیثیت ملک نہ صرف تسلیم کرلیا ہے بلکہ اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کو بھی جائز قرار دے دیا ہے۔دوسرا  بالواسطہ فائدہ نیتن یاہو کو بھی ہے۔ اپنی کرپشن چھپانے اور عوام کے غیض وغضب سے بچنے کے لیے، ساتھ ساتھ ہی ساتھ اسرائیلی وزارت کی طرف سے اس بیان نے اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ اقدامات کو نہ تو روکے گا اور نہ ہی ایسا کچھ ان معاہدوں میں ہے۔ ایک طرح سے متحدہ عرب امارات کے معاہدے کی  بنیاد ہی ختم کر دینے کے متراف ہے، لیکن یہ بات تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ دراصل یہ معاہدہ تو آنے والے مہینوں سالوں میں دوسرے عرب ممالک کے لیے راہ کھولنے کے لیے کیا گیا ہے۔

موجودہ حالات اور صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مسلم دُنیا بدقسمتی سے واضح طور پر دو تین حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ایک عرب ممالک اور مسلم ممالک جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں اور تقریباً تمام معاملات پر امریکی موقف اور پالیسیوں کے حامی ہیں۔ اس بلاک کو آپ امریکی بلاک کا نام دے سکتے ہیں جس میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، اومان، مصر، مراکش، بنگلہ دیش، مالدیپ اور دوسرے ممالک شامل ہیں۔ اس بلاک میں شامل ہونے والے ممالک کی جانب سے کشمیر اور فلسطین جیسے معاملات پر ان کی حمایت میں واضح موقف کی اُمید رکھنا بھی غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ امریکی بلاک کا مطلب امریکہ، اسرائیل، انڈیا گٹھ جوڑ ہی ہے۔ مندرجہ بالا مسلمان ممالک کے عوام تو فلسطین اور کشمیر سمیت دُنیا بھر میں پسنے والے مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں مگر ان کے حکمران جو پالیسی اپنائیں گے عالمی سطح پر وہی اس ملک کی پالیسی سمجھی جائے گی۔

دوسرا بلاک ہے چین کا بلاک۔ یہ بات تو اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چین آنے والے دنوں میں دُنیا کی سپرپاور بننے جارہا ہے اور امریکہ ہر طرح سے چاہ کر بھی اس کو روک نہیں سکتا اور دُنیا میں طاقت کا توازن مغرب اور امریکہ سے ہوتا ہوا اس صدی میں مشرق یعنی چین کے پاس آرہا ہے۔ چائنہ بلاک میں پاکستان، ترکی، ایران جیسے مسلمان ممالک شامل ہیں جس کی واضح وجہ ان ممالک کے ساتھ چین کے کاروباری مراسم اور ان ممالک کی ترقی سے جڑی چین کی واضح پالیسیاں ہیں، چاہے وہ سی پیک ہو یا ون بیلٹ ون روڈ یا گوادر کی بندرگاہ ہو یا چاہ بہار کی بندرگاہ، سب کچھ چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے کنٹرول اور ایک دوسرے کو مفادات پہنچاتے تعلقات میں آنے والے دنوں میں چائنیز بلاک مزید مضبوط ہو گا۔

تیسرا بلاک شیعہ مسلمان ممالک کا ہے جو کہ ایران کے زیراثر ممالک ہیں جن میں شام، عراق اور یمن کے کچھ علاقے اور شیعہ ممالک شامل ہیں۔  پچھلے تیس سالوں سے امریکہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو دوسرے عرب ممالک کو ایران سے ڈرا ڈرا کر اپنی اجارہ داری قائم کی اور اربوں کھربوں ڈالر کے اسلحہ بیچنے سمیت دوسرے مفاد حاصل کیے۔

اس ساری صورتحال میں پاکستان کی حکومت کیا کرے گی یہ دیکھنے والی بات ہے کیونکہ بطور پاکستانی میرے لیے یہی بات سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان کی حکومت اس سلسلے میں کیا موقف اپناتی ہے آج جبکہ قریباً ایک ہفتہ ہونے کو آگیا ہے ابھی تک حکومتِ پاکستان اور وزارت خارجہ کی جانب سے مکمل پالیسی بیان سامنے نہیں آیا ہے جس کی بہت ساری قابل فہم وجوہات ہیں۔

یہ بات اخذ کرنا نہایت آسان ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت حکومت کی جانب سے عرب امارات کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو تسلیم نہیں کریں گے اور ایسی کسی کوشش کے نتیجے میں حکومت مخالف ملک گیر مظاہرے شروع ہوسکتے ہیں جو کہ حکومت ان حالات میں کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتی۔ دوسری جانب بڑی اپوزیشن جماعتیں PPP اور PMLN بھی دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں یعنی ابھی تک PPP سے بلاول یا کسی بھی لیڈر کا کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے جبکہ اسی طرح مسلم لیگ ن کی جانب سے شہبازشریف یا کسی اور کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں آیا گویا کہ دونوں بڑی جماعتیں اس طاق میں ہیں کہ حکومت کس طرف جاتی ہے تو وہ اس کی مخالفت برائے مخالفت کرسکیں۔ اس سب سیاسی اندرونی صورتحال میں دلچسپ امر کچھ دن بیشتر عوامی نیشنل پارٹی (ANP) اور جمعیت العلمائے اسلام کے رہنمائوں اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس ہے  جس میں دونوں نے کھلے عام برملا کہا ہے کہ پاکستان کو عرب امارات اور سعودی عرب کی حمایت کرنی چاہیے اور باقی دُنیا کی طرح پاکستان کو بھی اپنے سفارتی تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے اور ڈھکے چھپے الفاظ میں اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کی حمایت کی ہے مگر مجھ سمیت بہت سارے لوگ یہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان ایک تیر سے دو شکار کررہے ہیں یعنی سعودی عرب اور امارات کی حمایت حاصل کر کے ایک جانب تو وہ امریکہ اور عرب ممالک کی خوشنودی اور حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ بیک وقت اس بات کی بھی تلاش میں ہیں کہ اگر حکومت اسرائیل کی حمایت یا عرب امارات کے سفارتی تعلقات کی حمایت کرتی ہے تو فوراً عوامی جذبات کو بڑھکا کر حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے گی اور حکومت کو یہودی ایجنٹ اور یہودی لابی جیسے الزامات لگا کر ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور ان نازک حالات میں پاکستان اور حکومت پاکستان کسی قسم کی احتجاج کے متحمل نہیں ہوسکتے خصوصاً جب ہر طرح کے دُشمن عناصر اس طاق میں ہوں گے کسی طرح ملک کے حالات خراب کیے جائیں اور بدامنی پھیلائی جائے۔

اب آیے اس معاملے کے ایک اور پہلو کی طرف اور وہ ہے چین اور خطے کے حوالے سے موقف۔ یہ بات تو روزِروشن کی طرح ہے کہ جیسے امریکہ کے بہت سارے مفادات عربوں اور اسرائیل کے اتحاد سے جڑے ہوئے ہیں اور امریکہ کی ہر ممکن کوشش ہے کہ عرب ممالک کو ایک انداز میں اسرائیل کے  سامنے سرنگوں کردیا جائے چاہے اس پر دوستی کا لبادہ ہی ڈالنا پڑے، چین کا موقف فلسطین کے معاملے پر بھی امریکہ اور بھارت مخالف ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان اور چین اس معاملے پر بھی ایک پیج پر ہیں ۔ پاکستان کسی صورت بھی امارات کی حمایت کر کے اس بلاک کا حصہ نہیں بنے گا جس میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل شامل ہیں جو کہ پاکستان اور دُنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے مخالف ہیں۔ پاکستان لازمی طور پر کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے سی پیک اور چین کے دوسرے پراجیکٹ پر اثر پڑے۔

٭٭٭


ای پیپر