عاشورہ کربلا میں حق و باطل کے درمیان حد فاصل قائم کرنے کا دن
02 ستمبر 2020 (20:09) 2020-09-02

منصور مہدی

خوں سے چراغ دیں جلایا حسینؓ نے

رسم وفا کو خوب نبھایا حسینؓ نے

خود کو تو ایک بوند بھی پانی نہ مل سکا

کرب وبلا کو خون پلایا حسینؓ نے

ایسی نماز کون پڑھے گا جہان میں

سجدہ کیا تو سر نہ اٹھایا حسینؓ نے

سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا

اصغر سا پھول بھی نہ بچایا حسینؓ نے

عاشورا حقیقت کے ذریعے طاقت پر غلبے، انصاف کے ذریعے استبداد پر فتح اور ایثار و فداکاری کے ذریعے ظلم پر کامیابی کا ابدی ثبوت ہے۔عاشورا وہ دن ہے جب حضرت امام حسین ؓ نے میدان کربلا میں حق و باطل، علم و جہل، رضائے الٰہی اور خواہشات نفسانی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والی وہ عظیم و بے مثال قربانی پیش کی کہ محرم الحرام کی نسبت ہی امام عالی مقام سے ہوگئی۔ حضرت امام حسین ؓ کی ذات اقدس اور ان کا مقصد شہادت اتنا بلند ہے کہ ضروری نہیں ہر ذہن ان فضائل، مراتب اور راہ خدا میں اس بے مثال قربانی کا احاطہ کرسکے، جو خاندان نبوت نے میدان کربلا میں پیش کی۔

یومِ عاشور جہاں امام عالی مقام اور ان کے عظیم رفقاء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے وہیں یہ دن ہمیں اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ہم واقعہ کربلا کی اصل روح اور پیغام کو دلی طور پر سمجھیں اورحضرت امام حسینؓ کی جانب سے ایثار و قربانی کی لازوال مثال پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

یومِ عاشورہ کا معرکہ جو سچائی اور باطل قوتوں کے درمیان پیش آیا مسلمانوں کو حق و سچ کیلئے باطل قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کا درس دیتا ہے۔ سید الشہداء  امام عالی مقام حضرت امام حسین  ؓہم سب کیلئے باعث تقلید ہیں۔ محرم الحرام کا مقدس مہینہ ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اتحاد بین المسلمین کے فلسفہ کو فروغ دیا جائے اور تمام مکاتبِ فکر امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ ہم سب کا فرض ہے کہ سید الشہداء امام عالی مقام حضرت امام حسین ؓ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے حق کا ساتھ دیں اور باطل کے خلاف لڑیں۔

عاشورا، ظلم، ظالم، باطل اور یزیدیت کے خلاف انقلاب کا آغاز تھا۔ امام حسینؓ نے یزید سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا، یعنی جب بھی یزیدیت سر اٹھائے گی تو حسینیت اس کے مقابلے میں ڈٹ جائے گی، جب بھی یزیدیت اسلام کو چیلنج کرے گی تو حسینیت اسلام کو سر بلند رکھے گی اور یزیدیت کو نابود کرے گی، یہی وجہ ہے کہ عاشورا کے بعد مختلف ظالم حکمرانوں کے خلاف متعدد انقلاب رونما ہوئے اور کامیابی سے بھی ہمکنار ہوئے، لیکن قائم وہی رہے، جن کی اساس اسلام و درس کربلا و حسینیت تھا۔

محرم کی دس تاریخ ( عاشورہ) کہ جب کربلا کی تپتی زمین پر خانوادہ رسول نے اسلام کی حیات کے لئے اپنی زندگیوں کے چراغ ایسے گل کئے کہ انکی روشنی ہر اندھیرے میں حق کی تلاش کرنے والوں کو آج بھی رستہ دکھاتی ہے،ضرورت اگر ہے تو صرف نیک نیتی اور یقینِ کامل کی۔

آج ہم اپنے چاروں طرف جو آگ اور خون کے سمندر دیکھ رہے ہیں اور مسلم امہ مجموعی طور پر جس تضحیک تذلیل کا نشانہ بنی ہوئی ہے تو اس کی ایک وجہ تو قرآنی تعلیمات اور عملی اسلام سے دوری ہے اور دوسری بڑی وجہ پیغام کربلا اور فکر حسین ؓ کو فراموش کرنا ہے۔ ہم روایات و رسومات میں اپنا تشخص کھو چکے ہیں اور ہماری سوچ پر جیسے جمود طاری ہے اور علم سے جیسے ہمیں کوئی سرو کار نہیں۔ جمود بھی ایسا کہ نہ تو اسے کربلا کا پیغام حریت و انقلاب توڑ پا رہا ہے اور نہ ہی استغاثہ حسین ؓ کی صدا اس پر کچھ اثر انداز ہو رہی ہے۔

ہم مسلمانوں کی زندگیاں دو قربانیوں کے درمیان جیسے محصور ہو گئی ہیں، ایک قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسری نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی، ان دو قربانیوں کے درمیان پرورش و تربیت پانے والا مسلمان قربانی کے مفہوم سے ہی نا آشنا نظر آتا ہے، یہ دونوں عظیم قربانیاں جس میں اطاعت کا پہلو بھی ہے اور شجاعت کا بھی، صبر کا عنصر بھی ہے اور جہاد کا بھی، استقامت کا درس بھی ہے اور وفاداری کا بھی، لیکن پھر بھی مسلمان ان تمام اوصاف سے عاری نظر آتا ہے اور یہی سب سے بنیادی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی مسلمان اور اسلامی حکومتیں اپنے محور سے دور بھٹکتی نظر آ رہی ہیں، حالانکہ منزل بھی واضح ہے اور اس تک پہنچنے کا ذریعہ بھی۔۔۔۔۔ وہ ذریعہ ہے کربلا۔

اسی چیز کو علامہ اقبالؒ کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ:

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم

نہایت اسکی حسین ابتدا ہے اسماعیل

یہ دونوں عظیم قربانیاں اپنی اپنی جگہ ذبح عظیم ہیں اور دونوں دینِ برحق کی شہادت کی امین بھی ہیں اور حق کی فتح کی ضامن بھی۔ کربلا کی جنگ جسموں اور ظاہری انسانوں کے درمیان نہیں تھی بلکہ یہ جنگ اہداف و نظریات کی جنگ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یزید ہار گیا اور امام حسینؓشہید ہونے کے بعد بھی کامیاب و کامران ہو گئے، سیدالشہداء  اور آپ کے انصار و اعوان کی مظلومانہ شہادت نے پورے اسلامی معاشرے میں بیداری کی لہر پیدا کر دی، اسلامی رگوں میں تازہ خون گردش کرنے لگا، مظلوموں اور ستم دیدہ لوگوں پر چھایا ہوا سکوت توڑ دیا، ظالموں اور جابروں کے خلاف آوازیں بلند کرنے کی ہمت ملی، لوگوں کے ذہنوں کو بدل ڈالا اور ان کے سامنے حقیقی اورخالص اسلام کا تصور پیش کیا۔ یہ تصادم اور یہ جنگ اگرچہ ظاہری طور پر ایک ہی دن میں تمام ہو گئی، لیکن طول تاریخ میں ہمیشہ اس کے ایثار و برکات ظاہر ہوتے گئے اور جوں جوں تاریخ آگے بڑھتی گئی اس کے نتائج سامنے آتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ آج ہی کے دن دس محرم سن اکسٹھ ہجری قمری کو فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کو کربلا کے میدان میں ان کے اصحاب و انصار کے ساتھ بڑی بے دردی کیساتھ شہید کر دیا گیا تھا۔وہ مبارک ہستی کو جن کی نسبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے، جن کے احسانات ساری انسانیت ہی پر نہیں بلکہ سارے عالم پر اتنے زیادہ ہیں کہ تا قیام قیامت سب ملکر بھی اس کا کوئی بدلہ نہیں چکا سکتے۔ لیکن ان کے لختِ جگر کو شہید کر کے ان ظالموں نے حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور ان کے اہل بیت کو جو ایذا پہنچائی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ لفظوں میں طاقت کہاں کہ وہ اس کو بیان کر سکیں، قلم کو یارا نہیں کہ وہ اس سنگین حادثہ کا احاطہ کر سکے، کربلا کی زمین اہل بیت کرام کے پاکیزہ خون سے لالہ زار ہوگئی، اس کے رنج و غم میں انسان تو انسان کائنات کا ذرہ ذرہ خون کے آنسو رویا ہو تب بھی کم ہے اور اس میں کیا تعجب ہے، کرب و بلا اور مصائب و آلام کی یہ ایسی غم ناک کہانی ہے کہ جس کی نظیر شاید ہی تاریخ کے اوراق پیش کر سکیں۔ حق و باطل کی جنگ اور خیر و شر کی اس معرکہ آرائی نے وہ روشنی بخشی کہ ابدلآباد تک نیکی و بدی کے راہ متعین ہوگئی، شہادت امام حسین و شہادت اہل بیت نے اسلام کو حیات تازہ بخشی اور یہ درس دے گئی کہ حق پر قائم رہتے ہوئے پرچم حق بلند رکھنے اور باطل سے نبرد آزما ہونے کا نام ہی دراصل اسلام ہے۔ اس کے لئے جان و مال کی گھر بار کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

یوم عاشورہ کو عام طور پر اس عظیم واقعہ کی وجہ اہم جانا جاتا ہے، یقینا اس اندوہناک سانحہ نے اس دن کو مزید یادگار دن میں تبدیل کر دیا ہے، لیکن اس دن کی اہمیت روز اول ہی سے مسلّم ہے۔ کئی ایک یادگار تاریخی اہم واقعات اس دن کے صدفِ گرانمایہ میں لاقیمت موتیوں کی طرح محفوظ ہیں۔ یہی وہ مبارک دن ہے جس میں ہم سب کے جدامجد حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اسی دن وہ جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن حق سبحانہ و تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، یہی وہ دن ہے جس میں آسمان و زمین کو خلعت وجود بخشا گیا، اور قلم کی تخلیق ہوئی، یہی و تاریخ ساز دن ہے جس میں سفینہ حضرت نوح علیہ السلام کو کوہ جودی کی آغوش میں بحفاظت تمام پناہ ملی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی اسی مبارک دن میں ہوئی، اور نمرود کی ظلم عدوان کی راہ سے دہکائی گئی آگ سے اللہ نے ان کی حفاظت کا سامان ایسے فرمایا کہ اْس آگ کو ان کے حق میں آج ہی کے دن گل و گلزار بنا دیا۔ اسی دن ان کو نعمت خلت سے بھی سرفراز فرمایا گیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے آج ہی کے دن نجات حاصل ہوئی، فرعون اور اسکے لشکر کو حق سبحانہ نے اسی دن دریائے نیل میں غرقاب کر کے قیامت تک آنے والی انسانیت کو ظلم کے انجام بد سے آگہی بخشی، یہی وہ مبارک دن ہے جس میں حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمانوں میں اٹھالیا جاکر رفعت و عظمت عطا فرمائی گئی۔ یہی وہ دن تو ہے جس میں حضرت ایوب علیہ السلام کو آزمائش و ابتلاء  سے نکال کر شفاء  کلی بخشی گئی۔ حضرت دائود علیہ السلام کی توبہ بھی اللہ نے اسی دن قبول فرمائی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اسی دن حکومت و سلطنت عطاکی گئی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی بھی اسی مبارک دن پھر سے واپس لوٹائی گئی، ان کے فرزند جلیل حضرت یوسف علیہ السلام کو کنعان کے کنویں سے اسی دن زندہ سلامت نکالا گیا۔ حضرت یونس علیہ السلام بھی مچھلی کے پیٹ سے بحفاظت اسی دن باہر نکالے گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی اسی مبارک دن میں ہوئی اور اسی مبارک دن میں آسمانوں کی طرف ان کو اٹھا لیا گیا۔ روایات کی رو سے قیامت کا وقوع بھی اسی دن ہوگا۔

یاد رہے کہ نواسہ رسول  حضرت امام حسینؓ نے اپنے خاندان سمیت دین حق کے لیے جام شہادت نوش کرکے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں، انسانیت اور اسلام کے دشمنوں نے آج کشمیر، برما، فلسطین سمیت پوری دنیا میں ظلم وبربریت سے معرکہ کربلا پربا کررکھا ہے اس لیے حق وسچ کا ساتھ اور ظلم کیخلاف ڈٹ جانا ہی پیغام شہادت حسینؓ ہے۔

٭٭٭

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

ہر سال محرم میں کروڑوں مسلمان شیعہ بھی اور سنی بھی  امام حسین ؓ  کی شہادت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ ان غمگساروں میں سے بہت ہی کم لوگ اس مقصد کی طرف توجہ کرتے ہیں جس کے لیے امام نے نہ صرف اپنی جان عزیز قربان کی بلکہ اپنے کنبے کے بچوں تک کو کٹوا دیا۔ کسی شخص کی مظلومانہ شہادت پر اس کے اہل خاندان کا اور اس خاندان سے محبت و عقیدت یا ہمدردی رکھنے والوں کاا ظہار غم کرنا تو ایک فطری بات ہے ۔ ایسا رنج و غم دنیا کے ہر خاندان اور اس سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے ظاہر ہوتاہے۔ اس کی کوئی اخلاقی قدر و قیمت اس سے زیادہ نہیں کہ اس شخص کی ذات کے ساتھ اس کے رشتہ داروں کی اور خاندان کے ہمدردوں کی محبت کا ایک فطری نتیجہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ امام حسین ؓ کی وہ کیا خصوصیت ہے جس کی وجہ سے صدیاںگزر جانے کے بعد بھی ہر سال ان کا غم تازہ ہوتا رہے؟اگر یہ شہادت کسی مقصد عظیم کے لیے نہ تھی تو محض ذاتی محبت و تعلق کی بنا پر صدیوں اس کا غم جاری رہنے کے کوئی معنی نہیں ہیں اور خود امام ؓ کی اپنی نگاہ میں اس محض ذاتی و شخصی محبت کی کیا قدر و قیمت ہو سکتی ہے ؟ انہیں اگر اپنی ذات اس مقصد سے زیادہ عزیز ہوتی تو وہ اسے قربان ہی کیوں کرتے ؟ان کی یہ قربانی تو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس مقصد کو جان سے بڑھ کر عزیز رکھتے تھے ۔ لہٰذا اگر ہم اس مقصد کے لیے کچھ نہ کریں بلکہ اس کے خلاف کام کرتے رہیں تو محض ان کی ذات کے لیے یہ گریہ و زاری کر کے اور ان کے قاتلوں پر لعن طعن کر کے قیامت کے روز نہ تو ہم امام ہی سے کسی داد کی امید رکھ سکتے ہیں اور نہ یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ ان کا خدا اس کی کوئی قدر کرے گا۔ اب دیکھنا چاہیے کہ وہ مقصد کیا تھا ؟ کیا امام تخت و تاج کے لیے اپنے کسی ذاتی استحقاق کا دعویٰ رکھتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے سر دھڑ کی بازی لگائی ؟

ریاست کے مزاج ، مقصد اور دستور کی تبدیلی

وہ تغیر کیا تھا ؟ ظاہر ہے کہ لوگوں نے اپنا دین نہیں بدل دیا تھا۔ حکمرانوں سمیت سب لوگ خدا اور رسول اور قرآن کو اسی طرح مان رہے تھے جس طرح پہلے مانتے تھے۔ مملکت کا قانون بھی نہیں بدلا تھا۔ عدالتوں میں قرآن و سنت ہی کے مطابق تمام معاملات کے فیصلے بنی امیہ کی حکومت میں بھی ہو رہے تھے جس طرح ان کے برسراقتدار آنے سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ بلکہ قانون میں تغیر تو انیسویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا کی مسلم حکومتوں میں سے کسی کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ بعض لوگ یزید کے شخصی کردار کو بہت نمایاں کر کے پیش کرتے ہیں جس سے یہ عام غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ وہ تغیر جسے روکنے کے لیے امام کھڑے ہوئے تھے ، بس یہ تھاکہ ایک برا آدمی برسراقتدار آ گیا تھا۔ لیکن یزید کی سیرت و شخصیت کا جو برے سے برا تصور پیش کرنا ممکن ہے اسے جوں کا توں مان لینے کے بعد بھی یہ بات قابل تسلیم نہیں ہے کہ اگر نظام صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو محض ایک برے آدمی کا برسراقتدار آ جانا کوئی ایسی بڑی بات ہو سکتی ہے جس پر امام حسین ؓ جیسا دانا و بزرگ اور علم شریعت میں گہری نظر رکھنے والا شخص بے صبر ہو جائے۔

نقطہ انحراف 

اس چیز کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین ؓ کی سربراہی میں ریاست کا جو نظام چالیس سال تک چلتا رہا تھا اس کے دستور کی بنیادی خصوصیات کیا تھیں اور یزید کی ولی عہدی سے مسلمانوں میں جس دوسرے نظام ریاست کا آغاز ہوا اس کے اند ر کیا خصوصیات دولت بنی امیہ و بنی عباس اور بعد کی بادشاہیوں میں ظاہر ہوئیں۔ اسی تقابل سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ یہ گاڑی پہلے کس لائن پر چل رہی تھی اور اس نقطہ انحراف پر پہنچ کر وہ آگے کس لائن پر چل پڑی اور اسی تقابل سے ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جس شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓ کی آغوش میں تربیت پائی تھی اور جس نے صحابہ  کی بہترین سوسائٹی میں بچپن سے بڑھاپے تک کی منزلیں طے کی تھیں وہ کیوں اس نقطہ انحراف کے سامنے آتے ہی گاڑی کو نئی لائن پر جانے سے روکنے کے لیے کھڑا ہوگیا اور کیوں اس نے اس بات کی بھی پرواہ نہ کی کہ اس زور دار گاڑی کا رخ موڑنے کے لیے اس کے آگے کھڑے ہو جانے کا کیا نتیجہ ہو سکتاہے۔ 

انسانی بادشاہی کا آغاز 

اسلامی ریاست کی اولین خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف زبان ہی سے یہ نہیں کہا جاتاتھابلکہ سچے دل سے یہ مانا بھی جاتا تھا اور عملی رویہ سے اس عقیدہ اور یقین کا پورا ثبوت بھی دیا جاتا تھا کہ ملک خدا کاہے ، باشندے خدا کی رعیت ہیں اور حکومت اس رعیت کے معاملے میں خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔ حکومت اس رعیت کی مالک نہیں ہے اور رعیت اس کی غلام نہیں ہے۔ حکمرانوں کا کام سب سے پہلے اپنی گردن میں خدا کی بندگی و غلامی کا قلاوہ ڈالناہے۔ پھر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ خدا کی رعیت پر اس کا قانون نافذ کریں لیکن یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہی کا مسلمانوں میں آغاز ہوا ، اس میں خدا کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی اعتراف تک محدود رہ گیا۔ عملا ً اس نے وہی نظریہ اختیار کر لیا جو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہی کا رہا ہے۔ یعنی ملک بادشاہ اور شاہی خاندان کا ہے اور وہ رعیت کی جان ، مال ، آبرو ، ہر چیز کا مالک ہے۔ خدا کا قانون ان بادشاہتوں میں نافذ ہوا بھی تو صرف عوام پر ہوا ،بادشاہ اور ان کے خاندان اور امرا اور حکام زیادہ تر اس سے مستثنیٰ ہی رہے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا تعطل 

اسلامی ریاست کا مقصد خدا کی زمین میں ان نیکیوں کو قائم کرنا اور فروغ دینا تھا جو خدا کو محبو ب ہیں اور ان برائیوں کو دبانا اور مٹانا تھا جو خدا کو ناپسند ہیں مگر انسانی بادشاہت کا راستہ اختیار کرنے کے بعد حکومت کا مقصد فتح ممالک اور تسخیر خلائق اور تحصیل باج و خراج اور عیش دنیا کے سوا کچھ نہ رہا۔ خدا کا کلمہ بلند کرنے کی خدمت بادشاہوں نے کم ہی انجام دی۔ ان کے ہاتھوں اور ان کے امراء اور حکام اور درباریوں کے ہاتھوں بھلائیاں کم اور برائیاں بہت زیادہ پھیلیں۔ بھلائیوں کے فروغ اور برائیوں کی روک تھا م اور اشاعت دین اور علوم اسلامی کی تحقیق و تدوین کے لیے جن اللہ کے بندوں نے کام کیا ¾ انہیں حکومت سے مدد ملنی تو درکنار اکثر وہ حکمرانوں کے غضب ہی میں گرفتار رہے اور اپنا کام وہ ان کی مزاحمتوں کے علی الرغم ہی کرتے رہے۔ ان کی کوششوں کے برعکس حکومتوں اور ان کے حکام و متوسلین کی زندگیوں اور پالیسیوں کے اثرات مسلم معاشرے کو پیہم اخلاقی زوال ہی کی طرف لے جاتے رہے۔ حد یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر اسلام کی اشاعت میں رکاوٹیں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا جس کی بدترین مثال بنو امیہ کی حکومت میں نو مسلموں پر جزیہ لگانے کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ 

اسلامی ریاست کی روح تقویٰ ، خدا ترسی اور پرہیز گاری کی روح تھی جس کا سب سے بڑا مظہر خود ریاست کا سربراہ ہوتا تھا۔ حکومت کے عمال اور قاضی اور سپہ سالا ر ¾ سب اس روح سے سرشار ہوتے تھے لیکن بادشاہی کی راہ پر پڑتے ہی مسلمانوں کی حکومتوں اور ان کے حکمرانوں نے قیصر و کسریٰ کے سے رنگ ڈھنگ اور ٹھاٹھ باٹھ اختیار کر لیے۔ عدل کی جگہ ظلم و جور کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔ پرہیز گاری کی جگہ فسق و فجور اور راگ رنگ اور عیش و عشرت کا دور دورہ شروع ہوگیا۔ حرام و حلال کی تمیز سے حکمرانوں کی سیرت و کردار خالی ہوتی چلی گئی۔ سیاست کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹتا چلا گیا۔ خدا سے خود ڈرنے کی بجائے حاکم لوگ بندگان خدا کو اپنے آپ سے ڈرانے لگے اور لوگوں کے ایمان و ضمیر بیدار کرنے کے بجائے ان کو اپنی بخششوں کے لالچ سے خریدنے لگے۔ یہ تو تھا روح و مزاج اور مقصد اور نظریے کا تغیر۔ ایسا ہی تغیر اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں میں بھی رونما ہوا۔

امام حسین ؓکا مومنانہ کردار

کوئی شخص اس تاریخی حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ یزید کی ولی عہدی ان تغیرات کا نقطہ آغاز تھی اور اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ اس نقطے سے چل کر تھوڑی مدت کے اندر ہی بادشاہی نظام میں وہ سب خرابیاں نمایاں ہو گئیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ انقلابی قدم اٹھایا گیا تھا اس وقت یہ خرابیاں اگرچہ بتمام و کمال سامنے نہ آئی تھیں مگر ہر صاحب بصیرت آدمی جان سکتاتھاکہ اس اقدام کے لازمی نتائج یہی کچھ ہیں اور اس سے ان اصلاحات پر پانی پھر جانے والا ہے جو اسلام نے سیاست و ریاست کے نظام میں کی ہیں۔ اسی لیے امام حسین ؓ اس پر صبر نہ کر سکے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ جو بدتر سے بدتر نتائج بھی انہیں ایک مضبوط جمی جمائی حکومت کے خلاف اٹھنے میں بھگتنے پڑیں ان کاخطرہ مول لے کر بھی انہیں اس انقلاب کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کوشش کا جوانجام ہوا وہ سب کے سامنے ہے ، مگر امام ؓ نے اس عظیم خطرے میں کود کر اور مردانہ وار اس کے نتائج کو انگیز کر کے جو بات ثابت کی وہ یہ تھی کہ اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات امت مسلمہ کا وہ بیش قیمت سرمایہ ہیں جسے بچانے کے لیے ایک مومن اپنا سر بھی دے دے اور اپنے بال بچوں کو بھی کٹوا بیٹھے تو اس مقصد کے مقابلے میں یہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے اور ان خصوصیات کے مقابلے میں وہ دوسرے تغیرات جنہیں اوپر بیان کیا گیا ہے، دین میں اور ملت کے لیے وہ آفت عظمیٰ ہیں جسے روکنے کے لیے ایک مومن کو اگر اپنا سب کچھ قربان کر دینا پڑے تو اس میں دریغ نہ کرنا چاہیے۔ کسی کا جی چاہے تو اسے حقارت کے ساتھ ایک سیاسی کام کہہ لے مگر حسین ؓ ابن علی ؓ کی نگاہ میں تو یہ سراسر ایک دینی کام تھا ، اسی لیے انہوں نے اس کام میں جان دینے کوشہادت سمجھ کر جان دی۔

٭٭٭


ای پیپر