وفاقی حکومت کے ساحل کے قریب سائیکلون
02 ستمبر 2020 (10:06) 2020-09-02

سمندری طوفان سائیکلون قریب کے ساحل کے لیے تشویش کی خبر ہوتا ہے۔ سائیکلون اگر رخ تبدیل کرکے متعلقہ ساحل سے دور ہو جائے تو وہاں سکھ کا سانس لیا جاتا ہے ورنہ ریسکیو ادارے کئی روز تک ساحل پر سائیکلون کی تباہ کاری کا اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی سائیکلون کا قریب ترین ساحل وفاقی حکومت ہوتی ہے۔ اگر یہ سائیکلون سرپرستی کم ہوجانے یا سرپرستی ختم ہوجانے کے باعث دھیما پڑجائے تو حکومت فتح یابی کا مارچ پاسٹ کرتی ہے ورنہ نگران حکومت یا درمیانی مدت کے حکمران ریسکیو ادارے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ملک کے اندر اور باہر پیش آنے والے واقعات پی ٹی آئی کی حکومت کو ذہنی دبائو میں لانے کے لیے کافی ہیں۔ پہلے اُس تبدیلی کی بات کریں جو چند منٹو ں میں حکومت کو دفاعی حالت میں لے گئی اور جس کے ریسکیو کے لیے چیف آف آرمی سٹاف کو سعودی عرب کا دورہ کرنا پڑا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سعودی عرب کے بارے میں بے باک بیان جلدبازی یا زبان کی پھسلن نہیں ہوسکتا۔ شاہ محمود قریشی ملک کے اندر سے زیادہ باہر کی زبانیں جانتے ہیں۔ ان کا یہ بیان حکومت وقت کو وقتی پریشانی دینے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لیے مشکوک بھی کرگیا۔ اگر اس طرح کا بیان کسی دوسرے وزیر نے دیا ہوتا تو وہ کابینہ کی فہرست سے غائب کردیا جاتا۔ بارشوں کی تیزی نے پورے ملک میں ہنگامی صورت پیدا کررکھی ہے لیکن کراچی میں بارشوں کے پانی کی تیزی خبروں میں سب سے آگے ہے۔ کراچی کے مسائل کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے لیکن خبروں کے ٹرینڈ میں وفاقی حکومت ٹارگٹ ہورہی ہے۔ آئندہ کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا جاسکتا لیکن ماضی بتاتا ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف تمام سیاسی تحریکوں کا آغاز کراچی سے ہوا جبکہ ان کو لاہور نے انجام تک پہنچایا۔ عمران خان اور ان کے وزراء نے نواز شریف کی بیماری کو خود ایک ایشو بنایا ہے لیکن لگتا ہے یہ ایشو وفاقی حکومت کے گلے پڑجائے گا جسے وفاقی حکومت نہ نگل سکے گی اور نہ ہی اگل سکے گی۔ واقعات جو بھی ہوں لیکن نواز شریف کی بیماری کا 

معاملہ اور نواز شریف کے العزیزیہ سٹیل ملز کیس کے حوالے سے عدالت میں دوبارہ رجوع کرنے کا معاملہ دونوں وفاقی حکومت کے لیے اونچے درجے کی پریشانی ہیں۔ صحافی احمد نورانی کی خبر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اٹھنے والے سائیکلون کا ٹارگٹ بھی وفاقی حکومت ہی ہے۔ اگر یہ تفتیشی خبر غلط بھی ہے تب بھی معاملہ ٹھنڈا ہونے تک وفاقی حکومت کا کافی نقصان ہونے کا امکان ہے۔ اسرائیل کی پہلی کمرشل پرواز سعودی عرب کے فضائی راستے سے یو اے ای پہنچ گئی۔ پرواز کے ٹیک آف کرنے کے بعد مسافروں سے جہاز کے کپتان کی انائونسمنٹ والی تقریباً ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو پاکستانی سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرتی رہی۔ کیا یہ ویڈیو پاکستان میں رائے عامہ کو ٹارگٹ کرنے کے لیے سیلابی پانی کی طرح پھیلائی گئی؟ یہ سوال یا اس کا جواب بھی وفاقی حکومت کے بلڈپریشر میں اضافہ کرسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی ہونے والی اے پی سی کا ڈراوا فی الحال کم وزن والا ہوگا لیکن نہ جانے مولانا فضل الرحمان کب باوزن ہو جائیں اور یہ بوجھ وفاقی حکومت کے ناتواں کندھوں پر بھاری ہو جائے۔ اس کے علاوہ بھی چند دنوں کے اندر کئی چھوٹے بڑے ایسے واقعات رونما ہوئے اور سرگرمیاں ہوئیں جن کا تذکرہ یاتو خبروں میں ہوا ہی نہیں یا اشارتاً سامنے آیا۔ تاہم یہ سب کچھ وفاقی حکومت کے لیے اچھی خبریں نہیں کہی جاسکتیں لیکن پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کو زیادہ تشویش اس لیے نہیں ہے کہ سیاست کون سا اُن کا مستقل معاملہ ہے۔ البتہ پی ٹی آئی کا انتخاب کرنے والوں میں ضرور یہ معاملات سنجیدگی سے زیربحث آرہے ہوں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں پر تنقید کی جاسکتی ہے لیکن یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں عام لوگوں کو ملازمتوں کے زیادہ مواقع دستیاب ہوتے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے دور میں ترقیاتی منصوبوں کی بہار آجاتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ان ایجنڈوں کے پیچھے اگر کرپشن کا الزام بھی ہے تب بھی اِن دونوں سیاسی جماعتوں کے حقیقی کریڈٹ میں ملازمتوں کے مواقع اور ترقیاتی منصوبے موجود ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت جس کے انتخابی ایجنڈے میں تو سب کچھ تھا لیکن اب تک کچھ بھی نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کا جوکچھ بھی ہے وہ میڈیا اور ٹاک شوز تک ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کا اب تک کا سب سے بڑا کارنامہ یکساں نصاب تعلیم بنانا ہے اور اس سے بھی بڑا کارنامہ یکساں نصاب تعلیم پر تمام صوبائی حکومتوں، انگریزی میڈیم سکولوں اور مدرسوں وغیرہ کو متفق کرنا ہے۔ اس کا تمام تر کریڈٹ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو جاتا ہے جن کی سوجھ بوجھ نے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے کالر میں یہ خوبصورت پھول سجایا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے سیاسی ساحل کے قریب اٹھنے والے حالیہ سیاسی سائیکلون کی وجہ کسی کی سرپرستی ہے یا نہیں یہ علیحدہ بات مگر پی ٹی آئی والے اسے زیادہ سنجیدہ نہیں لے رہے کیونکہ انہوں نے جس طرح ملکی مسائل کی تمام ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ڈال رکھی ہے ویسے ہی اپنے مستقبل اور بقاء کی ذمہ داری بھی انہوں نے اپنے خیال میں کسی اور کے سپرد کررکھی ہے۔ 


ای پیپر