یونانی پارلیمان اور ٹی وی اینکر
02 ستمبر 2020 (10:05) 2020-09-02

جس طرح خواتین کے بارے میں کہاجاتاہے کہ ان کی شخصیت سے حقیقی تعارف ان کاباورچی خانہ دیکھ کرہوتاہے اسی طرح اقوام سے تعارف بھی مکمل نہیں ہوتاجب تک ان کے کھانوں سے تعارف نہ ہو۔دانائوں کے بہ قول یہ توہوسکتاہے کہ غذا، اعلیٰ تہذیب کو جنم نہ دے سکے لیکن یہ نہیں ہوسکتاکہ اعلیٰ تہذیب، خراب غذاکو برداشت کرسکے۔ سفیرصاحب کے گھر میں توعاصمہ بھابی  کے ہاتھوںکے پکے ہوئے خوش مزہ پاکستانی کھانوں کی بہار تھی اور کھانے کی میز پر پہنچ کرہم بھول ہی جاتے تھے کہ ہم یونان میں ہی ںیا پاکستان میں۔سفیرصاحب نے جہاں ہمیں یونان میں پاکستانی کھانے اور پاکستانیوں کے کھانے کھلائے وہاں خالص یونانی کھانے سے بھی ناواقف نہیں رہنے دیا۔ Saint Lycabettus Hotel مرکز شہر میں واقع ایتھنزکاایک پنج ستارہ ہوٹل ہے۔ایتھنزکی سرزمین ہمارے اسلام آبادکی طرح نشیب و فرازپرمبنی ہے ۔یہ ہوٹل شہرکے ایک ایسے فرازپر واقع ہے جہاں سے سارے ایتھنزکا نظارہ کیاجاسکتاہے ۔مصاعدمہمانوں کو ایسی منزل پر لے گئے جہاں سے گویا پورا ایتھنز ناظرین کی مٹھی میں تھا۔یہ اس ہوٹل کی چھٹی منزل تھی ،شیشے کی دیواروں اور شیشے کی کرسیوں کے باعث ہر جانب شفافیت بکھری ہوئی تھی ۔ہمارے لیے مخصوص نشستیں ایسی جگہوں پر تھیں جہاں بیٹھ کر باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ شہرکانظارہ بھی بخوبی کیاجاسکتاتھا۔ ویسے بھی سفارتی اصطلاح میں یہ لنچ آن میٹنگ تھا۔سفیرصاحب کا کہناتھا کہ یونان میں آپ کو تین چیزیں پاکستان جیسی ملیں گی موسم، غذااور لوگ…توآج ہم یونانی لوگوں سے مل رہے تھے اور ملاقات کھانے پر تھی، موسم تو ہر حال میں شریک ِاحوال تھا ہی۔میں حذیفہ اور سفیرصاحب پہنچے تو کچھ ہی دیرمیں یونانی پارلیمنٹ کے  رکن  جنا ب  ہیری       ( Mr Harry Theocharis) ( پ:۶؍اگست ۱۹۷۳ء)تشریف لے آئے کچھ ہی دیرمیںڈاکٹر ایتھنی سیس ڈروگوس (Dr Athanasios Drougos)بھی آگئے۔ہم پر اور ہماری میز پر مامور چاق و چوبندیونانی نوجوان فوراً متحرک ہوگئے اور ہمارے سامنے ایپی ٹائزر سجادیے گئے ۔کھانے کی پلیٹیں جب سامنے آئیں تو ان پرکھانے سے زیادہ سجانے کی چیزہونے کا گمان ہورہاتھا۔ پلیٹ میں پنیرکے خوبصورت رنگ برنگے قتلے ،زیتون، کھیرا، ٹماٹر اورا ن کی تازگی کا احساس بڑھاتے ہوئے تروتازہ پتے …دوسری پلیٹ میں بیکری کاسامان؛ خاص وضعوں میں کاٹے گئے رنگ برنگے رس ،گلاسوں میں سجائی ہوئی لامبی خوردنی ڈنڈیاں اور کپ میں یونانی قہوہ جسے میٹھاکرنے کے لیے چینی کی ڈلیوں کی پوری بالٹی ہمراہ…ان تمام چیزوں میں سب سے اہم بات ا ن کی پیش کش تھی۔ بعدمیں آنے والے کھانوں میں بھی تہذیب اور شائستگی اپناکمال دکھارہی تھی۔ یونانی، گوشت خوب کھاتے ہیں۔عام یونانی چپاتی نمانان میں گوشت کے قتلوں کو دہی پیاز کے ساتھ بھرکر ان کے سینڈوچزبنالیتے ہیںجنھیں Olga کہاجاتاہے۔ یہ گویایہاں کا فول و طعمیہ ہے۔نباتاتی مہندسی کانتیجہ ہے کہ یہاں کے پھلوں میں انگوراور ناشپاتیاں ہمارے ہاں کے انگوروں اور ناشپاتیوں کے مقابلے میں خاصی بڑی ہوتی ہیں۔ آغوراکے روایتی بازار میں پوری پوری گلیاںگوشت کی دکانوں کی ہیں جن پر لٹکے ہوئے پورے پورے جانور،یونانیوں کی گوشت خوری کااعلان کرتے ہیں اور ظاہرہے اس میں وہ گوشت بھی شامل ہوتاہے جوہم نہیں کھاتے اوریہی حال پینے پلانے کاہے  ۔ ہمیں جوبھی سامان اکل و شرب پیش کیا گیا اس میں ہماری 

مشرقیت کا پورا خیال رکھاگیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ کھانا کیسا بھی ہو، اس کی پیش کش اسے پسندیدہ یا ناپسندیدہ بناتی ہے ۔میری بھوک کا فیصلہ توکھانے کی پیش کش ہی سے ہوجاتاہے ۔کھاناکھانایا نہ کھانا میرے لیے ہمیشہ ہی ثانوی بات رہی ہے ۔ پیش کش کے اعتبارسے یہاں پیش کیے جانے والے سب کھانے نہایت اعلی درجے کے تھے ۔

جنا ب  ہیری  ( Mr Harry Theocharis)  یونان میںریونیو کے شعبے کے سربراہ رہے ہیں اور آج کل یونان کے وزیرسیاحت ہیں ۔وہ ۲۰۱۵ء سے یونانی پارلیمنٹ کے رکن چلے آرہے ہیں۔ انھوںنے امپیریل کالج لندن سے تعلیم حاصل کی اور ان کا تعلق یونان کی نیوڈیموکریسی پارٹی سے ہے۔اس پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں ۷۶ نشستیں ہیںجبکہ SYRIZA پارٹی کے پاس ۱۴۴نشستیں ہیں ۔یونان میں چونکہ پارلیمانی طرزحکومت رائج ہے اس لیے یہاں کئی سیاسی پارٹیاں برسرعمل رہتی ہیں موجودہ پارلیمنٹ میں دیگر پارٹیوں کے پاس بھی اپنی اپنی نشستیں ہیں جن میں  پیسوک  PASOKکے پاس ۱۹گولڈن ڈان کے پاس سترہ کے کے ایKKE کے پاس پندرہ اور مختلف چھوٹے گروپوں اور آزادارکان کے پاس ۲۹سیٹیں ہیں ۔ان کی آمدکے تھوڑی ہی دیربعد یونان کے دفاعی تجزیہ کار اور مشہورٹی وی اینکرڈاکٹر ایتھنی سیس ڈروگوس Dr Athanasios Drougosآگئے ۔انھوںنے آتے ہی ہمیںاپنی پے درپے مصروفیات سے آگاہ کیا جن میں مختلف ٹیلی ویژن چینلز پر ان کی ضرورت کا اندازہ ہوا اور معلوم ہواکہ یونان کے الیکٹرانک میڈیا میں وہ خاصی ’اِن‘شخصیت ہیں۔مسٹر حارث خاصے سلجھے ہوئے اور تاریخ و تہذیب سے آشنا شخص لگے ۔مجھے چونکہ یونان کے تاریخی آثارسے زیادہ دلچسپی تھی اس لیے میری گفتگوتو انھی دوائرمیں محدودرہی۔اور میرے ذہن میں یہ سوال کروٹیں لے رہاتھا کہ آخریونان میں اپنے ماضی پر تفاخر کا اظہارکیوں دکھائی نہیں دیتا؟ میرے  سفریونان میں ان فلاسفہ کے آثاردیکھنا بنیادی اہمیت رکھتاتھا اس لیے میںنے یونان کے ایک اہم شخص کی حیثیت سے مسٹر حارث سے بھی سقراط، افلاطون اور ارسطوکے آثار ان کے مولد، مسکن اور مدافن کے بارے میں پوچھاتو ان کا کہناتھا کہ ان جگہوں کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ کہاں ہیں ۔میںنے انھیں اپنی کتاب Humanity beyond creed پیش کی تو اس پر وہ بہت خوش ہوئے اور انھوںنے کہاکہ اس بات کی صرف پاکستان ہی کو نہیں پوری دنیا کوضرورت ہے۔ ہم نے اکٹھے کھاناکھایا۔وہ حذیفہ سے مل کر بھی وہ خوش ہوئے اور انھوںنے حذیفہ کی کتاب  A Pyramid of Reminicensesمیں بھی دلچسپی لی اور اس کی بھی ورق گردانی کرتے رہے ۔ڈاکٹر ایتھنی سیس ڈروگوس Dr Athanasios Drougosدفاعی تجزیہ کار ہونے کے باعث سیاست اور ہنگامی عصری موضوعات میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے ۔ان دنوں عالمی سطح پر ترکی میںایک غیرملکی صحافی کے پراسرارقتل کامعمااوریونان میں ملکی سطح پر FYROMکا مسئلہ زوروں پر تھا۔ وہ سفیرصاحب کے ساتھ زیادہ ترانھی مسائل پر گفتگو کرتے رہے۔عالمی سیاست میں ترکی یاترکوں کا کوئی حوالہ ہو،اہل یونان کوصدیوں تک ترکوں کے ماتحت رہنایادآجاتاہے اوروہ اپنے غم و غصے کا اظہارکیے بغیرنہیں رہتے۔کچھ ایساہی اظہاراس گفتگوسے بھی ہورہاتھا۔

جہاں تک FYROMکاتعلق ہے تویہ دراصلٖFormer Yugoslavian Republic of Macedoniaکا مخٖفف اور مقدونیہ کا عارضی نام تھا ۔اہل یونان اور اہل مقدونیہ میں صدیوں سے یہ اختلاف چلاآرہاہے۔ دونوخطے اصل یونان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔مقدونیہ والوں کا کہناہے کہ اصل یونانی وہ ہیں،  اسکندراعظم کا تعلق بھی مقدونیہ سے تھا۔جبکہ ایتھنز والے خودکو اصل یونانی سمجھتے ہیں اورمقدونیہ والوں کے بارے میں ان کا کہناہے کہ انھوں نے ان کی علامات اور نام چرائے ہیں اور وہ انھیں بلغاریہ، البانیہ اورسابقہ یوگوسلاویہ دوسرے پڑوسی خطوں کی طرح اصل میں ترکی النسل قراردیتے ہیں ۔دونو خطوں کے باہمی جھگڑے کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے  FYROMایک عارضی نام رکھاگیاتھا۔ مقدونیہ والے اپنانامRepublic of Macedonia رکھناچاہتے تھے لیکن ایتھنزوالوں کا خیا ل تھاکہ اصل یونان کابہت سا علاقہ بھی مقدونیہ کہلاتاہے اگرانھیں بتما م و کمال یہ نام دے دیاگیاتو کل کلاں کو یہ لوگ یونانی مقدونیہ پر بھی اپنی سرزمین ہونے کادعویٰ کریں گے ،اس لیے انھیں یہ نام نہیں دیاجاسکتا،اب بالآخر یہ مسئلہ حل ہوگیاہے اور FYROMکے عارضی نام کی جگہ Republicof North Macedoniaنام قبول کرلیاگیاہے ۔امریکا بہادر اب مقدونیہ کو جلد از جلد نیٹوکا رکن بناناچاہتاہے لیکن روس اس کے حق میں نہیں ہے۔ نیٹوکا رکن بننے کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات کو نپٹاناضروری ہے ۔پاکستان نے ابھی Republicof North Macedoniaکو ایک آزادوخودمختارملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیاہے، اس کی وجہ ہمارے ترکی کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں جب ترکی اسے تسلیم کرے گا تو ہم بھی تسلیم کرلیں گے۔


ای پیپر