سوچنے والی بات
02 ستمبر 2020 (10:02) 2020-09-02

اسرائیل اور متحدہ امارات کے درمیان طے پانے والے باہمی تعلقات قائم کرنے کے سمجھوتے کے تحت دونوں ممالک میں وفود کا تبادلہ شروع ہوگیا ہے اِس حوالے سے امریکی اوراسرائیلی وفود کو لیکر پہلی کمرشل پرواز ابو ظہبی پہنچی ہے  امریکی اور اسرائیلی وفود نے اماراتی حکمرانوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور مختلف شعبوں میں تعاون کی راہیں تلاش کرنی ہیں یہ وفد امن معاہدے کے خدوخال بھی طے کریں گے لیکن کمرشل پرواز کے حوالے سے جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیلی طیارہ پہلی بار براستہ سعودی عرب گیا ہے اجازت کے بغیر ایسا نہیںہو سکتا سعودی حکمرانوں نے مسئلہ فلسطین حل ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے مگر ظاہری موقف کے باوجود کچھ رعایتیں دینے میں مضائقہ نہیں سمجھا اسی طرح سوڈان کی وازرتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر آمادہ ہیں جس پر اُنھیں ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے مگر جوخفیہ اورخاص بات تھی اُس سے دنیا آگاہ ہو گئی اور جب بینجمن نیتن یاہوکہتے ہیں کہ تعلقات اُستوار کرنے کے لیے کئی عرب ممالک سے خفیہ رابطہ ہے تو عالمی منظرنامے پر نظر رکھنے والے ماہرین کی آنکھیں ایسے ممالک کی طرف اُٹھتی ہیں جن کی یا تو معیشت کمزور ہے یا پھر بدامنی کا شکار ہیں ایسے ممالک کمزور معیشت کو سنبھالا دینے اور بدامنی پر قابو پانے کے لیے اسرائیلی تجربات سے فائدہ اُٹھانے کے آرزومند ہیں مگر پہلی کمرشل پرواز کے آنے سے قبل ابو ظہبی میں کئی دھماکے ہوئے اِس لیے بدامنی کے حوالے سے توعربوں کی ضروریات پوری ہونے کا امکان نہیں البتہ بدلے حالات میں آسانی سے ہتھیار خرید نے کے قابل ہوجائیں گے۔

دنیا میں توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش پر کام جاری ہے شمسی اور جوہری توانائی نے پیٹرول کی اہمیت میں کمی کردی ہے جس کی بنا پر تیل کی آمدن پر اُستوار معیشتیں زوال پذیر ہیں مگر عرب ممالک میں سے چند ایک کی تو خاصی پتلی حالت ہو گئی ہے جن میں کویت بھی شامل ہے جس کے پاس چارکروڑ اور چندلاکھ دینار خزانے میں  رہ گئے ہیں اتنی معمولی رقم سے رواں برس سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی 

ادائیگی بھی ممکن نہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کویت کی اِس پتلی حالت کو کون بہتر بنا سکتا ہے؟اوریہ کہ اسرائیل کیامدد کر سکتا ہے ؟ میرے خیال میں کچھ نہیں کیونکہ اُس کی اپنی معیشت کساد بازاری کا شکار ہے اچھی صنعتی اور زرعی پیداوارکے علاوہ مالیاتی اِداروں کا مرکزہونے کی بنا پر ساکھ برقرار رکھنے میں کامیاب ہے وگرنہ اسرائیلی قیادت بدعنوانی میں ملوث ہونے کی وجہ سے عوام کی نظروں میں ساکھ کھو چکی ہے وزیرِ اعظم کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اِن حالات میں کسی اور کی معیشت بہتر بنانے میں کسی نوعیت کی مددکون کر سکتا ہے اِس لیے ایک بات تو ذہن نشین کر لیں عربوں نے اپنی قومی سلامتی کا تحفظ کرنا ہے یا معیشت کو بہتر بنانا ہے تو اُنھیں یہ کام خود کرنا ہوگا جس کے لیے لازم ہے کہ عیاش فطرت کو بدلا جائے ۔

عرب ممالک کا اسرائیل سے تعلقات اُستوار کرنے کی ایک اور بڑی وجہ ڈرہے وہ ایک طرف ایران سے خوفزدہ ہیں تو دوسری طرف اسرائیل سے بھی خطرہ ہے ایران نے شام ،لبنان اور یمن جیسے ممالک میں اپنے حامی دھڑے کی مداد کرکے عربوں کے خوف کو بڑھا دیا ہے اسی لیے دوخطروں میں سے ایک خطرے کوکم کرنے کے لیے تعلقات کی بحالی کے آپشن پر عمل شروع کیاگیا ہے سعودی عرب اور یو اے ای کے نئے ولی عہد قدامت پسندی چھوڑنے کے ساتھ نئی راہیں بھی تلاش کر رہے ہیںجس کے لیے وہ کسی حد تک بھی جانے کو تیار ہیںعرب ممالک اگر سوچ بدل سکتے ہیں تو جن کا عرب اسرائیل تنازع سے کو ئی براہ راست تعلق نہیں اُنھیں حالات کا ازرسر نو جائزہ لینے سے راہ فرار اختیار نہیں کرنی چاہیے۔

 یو اے ای کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر سب سے زیادہ ترکی اور ایران نے تنقید کی ہے سوچنے والی بات یہ ہے کہ ترکی نے عرصہ سے اسرائیل سے مراسم قائم کر رکھے ہیں اور دونوں ممالک کی تجارت چاربلین سے زائد ہوچکی ہے جبکہ ایران میں بسنے والے تیرہ لاکھ کے لگ بھگ یہودی قالین کی صنعت پر چھائے ہوئے ہیں اور اسرائیل میں بھی آتے جاتے رہتے ہیں اسی لیے جب ترکی اور ایران تنقید کرتے ہوئے تلخ ہوتے ہیں تو تنقید کو زیادہ سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کا عمل قول کے مطابق نہیں۔

پاکستان کی معیشت کی حالت بھی تسلی بخش نہیں قرضوں کے انبار کم کرنے کے لیے صنعت و زراعت کی ترقی لازم ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ صنعت کے فروغ کے لیے مطلوبہ لوازمات کی قلت ہے جبکہ زراعت میں بھی جدت نہیں آج بھی فرسودہ طریقے رائج ہیں زرعی ملک ہونے کے باوجود ضرورت کے مطابق پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے معیشت دن بدن سُکڑ تی جارہی ہے اور قرضوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے اگر پاکستان نرمی کر تا ہے تو اُسے اسرائیلی تجربات سے رہنمائی مل سکتی ہے بھارت جیسا ملک بیک وقت عربوں اور اسرائیل سے تعلقات رکھ سکتا ہے تو پاکستان کے لیے بھی اِس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے جذبات کی رو میں بہہ کر اچھے فیصلے نہیں کیے جا سکتے اور ہاں فواد چوہدری جیسے دانشوروں کی بجائے سنجیدہ لوگوں سے مشاورت کی جائے اور اِس دوران ملک کی ضروریات ،فوائد اور مضمرات کو پیشِ نظر رکھا جائے تو بہتر فیصلہ ہو سکتاہے اگر بہت قریبی تعلق نہیں بھی بنانا تو بھی ایک حد تک تحقیقات سے فائدہ اُٹھانے میں مضائقہ نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلم کرنے کی بات کی تو تمام اسلامی دنیا نے بھرپور مخالفت کی اور اِس فیصلے کو ہدفِ تنقید بنایا مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب تمام اسلامی ممالک ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں تو ہر فیصلے میں امریکی رہنمائی ہی کیوں چاہتے ہیں؟اور یہ کہ اب یو اے ای کے صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے پر بات کرتے ہوئے محتاط کیوں ہیں؟اِس کا جواب یہ ہے کہ سب اپنے اپنے ملکی مفادات کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں عرب بہار کے بعد ایک بار پھر عربوں کو نئی اور پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے نئی صورتحال میں نہ صرف بادشاہت کو خطرہ ہے بلکہ معیشت کو بھی سنبھالنا ہے توانائی کے نئے ذرائع کی متلاشی دنیا کی طرح عرب بھی دولت بڑھانے اور سلامتی کے لیے نئے آئیڈیاز پر کام کر رہے ہیں ہمیں حالات کا جائزہ لینے سے کون روکتا ہے؟ ٹرمپ نے اسرائیل کے لیے راہ ہموار کرکے انتخابی مُہم میں جیوش کمیونٹی کی اعانت حاصل کر لی ہے عربوں کی سوچ بھی بدل رہی ہے اِن حالات میں پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں دوریاستی موقف میں تبدیلی لائے بنا کچھ نئی راہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر