وزیراعظم اور فیک نیوز؟
02 ستمبر 2020 2020-09-02

میں نے دوسال پہلے ایک کالم لکھا تھا کہ گالیاں اگر دینی نہیں تو بنی کس لیے ہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سیاسی حریفوں نے ایک دوسرے پر بہتان تراشی اور دشنام طرازی میں ایک وقت تھا جب خاص ملکہ حاصل کیا تھا۔ نواز شریف بے نظیر کے حوالے سے تلخ جملے استعمال کرتے تھے۔ 

1999ءمیں جب مشرف کی حکومت آئی تو نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں جلاوطن ہوگئے اس کے بعد ان دونوں سیاستدانوں میں کافی حدتک میچوریٹی آگئی اور انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے کافی کچھ سیکھا بھی جس کے بعد دونوں رہنماﺅں میں صبر برداشت اور افہام وتفہیم سے معاملات کو لے کر چلنے کا عزم بھی ہم نے دیکھا، پھر وقت نے پلٹا کھایا اور 2013کے الیکشن میں تحریک انصاف تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی اور پھر چشم فلک نے دھاندلی کی ہو ہاکار بھی سنی ، تحریک انصاف نے اپنی آواز کو مو¿ثر بنانے کیلئے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا اور پھر جب حکومت میں آئے تو اختلاف رائے رکھنے والے کو بلاتفریق ،مذہب ، جماعت، رنگ ونسل وہ گالیاں دیں کہ اسی اور نوے کی دہائی والی گالیاں بہت پیچھے رہ گئی۔ اسی طرح آج کل تحریک انصاف کے چیئرمین اور پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان سمیت تحریک انصاف کے اراکین فیک نیوز سے نالاں دکھائی دیتے ہیں عمران خان نے چند دن پہلے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنا واقعہ سنایا جب وہ چین جارہے تھے تو انہوں نے دواخبارات کی ہیڈ لائنزکاحوالہ دیا جس کی سرخیاں تھیں کہ عمران خان سی پیک کو Reviewکرنے جارہے ہیں۔ خان صاحب بتاتے ہیں کہ میں تو پیسے مانگنے جارہاتھا مگر اس فیک نیوز سے چائینیز انتظامیہ والے بہت غصے میں تھے، مگریہاں کوئی تو خان صاحب سے پوچھے کہ محترم خان صاحب جس فیک نیوز کو آپ آج پراپیگنڈہ سمجھتے ہیں اس کو شروع کس نے کیا تھا، خان صاحب اگر اپنی منجھی کے نیچے ڈانگ پھیرتے تو فیک نیوز کے کارندے انہیں نظر آجاتے مگر وہ ایسا کیوں کرتے، میں آپ کو 2014ءمیں واپس لے جاتا ہوں جب خان صاحب کنٹینر پر کھڑے ہوکر سی پیک کے حوالے سے باتیں کیا کرتے تھے کہ اس سی پیک سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا اصل فائدہ تو چین کو ہوگا، اور سی پیک کو ریویوکرنے کی باتیں کوئی اور نہیں خود تحریک انصاف کے اپنے لوگ کرتے تھے، خان صاحب فیک نیوز سے اب اتنا مسئلہ کیوں ہورہا ہے تب آپ نے مراد سعید کو کیوں نہ سمجھایا جب وہ کہہ رہا تھا کہ دوسوارب ڈالر باہر کے بینکوں میں پڑے ہیں اور جب خان صاحب آئیں گے تو وہ پیسے لائیں گے اور آئی ایم ایف کے منہ پرماریں گے خان صاحب کو آج فیک نیوز پر نالاں ہونے کی بجائے اگر اسد عمر کو تب یہ کہنے سے روکا ہوتا کہ پاکستان میں روزانہ اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، خان صاحب فیک نیوز پیدا کرنے والے کوئی اور نہیں آپ کے اپنے ہی لوگ ہیں۔ اسد عمر کا بیان آن ریکارڈ ہے کہ اگر ہم مداخلت نہ کرتے تو ڈالر 200روپے تک چلا جانا تھا، محترم وزیراعظم یہ رواج آپ نے اور آپ کے رفقا نے ڈالا تھا اور فیک نیوز کی آبیاری کسی اور جماعت سے زیادہ آپ کی جماعت نے کی ہے، جب اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ غیر ذمہ دارانہ بیان دیں گے اور جب خواہش کو خبر بنایا جائے گا تو پھر فیک نیوز ہی جنم لے گی، فیک نیوز کی ذمہ داری حکومت کے اوپر آتی ہے جب آپ حقائق کو چھپائیں گے سچ کا گلہ گھونٹیں گے اور آپ لوگوں کی دسترس میں نہیں ہوں گے تو پھر فیک نیوز ہی پیدا ہوگی۔ مجھے یادہے کہ ابھی ڈالر تقریباً 125روپے کا تھا تو ہمارے ایک دوست جواب وفاقی وزیر بھی ہیں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ ڈالر 150روپے تک جائے گا پھر سب نے دیکھا کہ ڈالر 150روپے سے اوپر گیا ، جب آپ کے وزراءخود اس طرح کے بیانات دیں گے تو پھر قیاس آریاں جنم لیں گی اور قیام آرائیوں کا اگر منظم طریقے سے رستہ نہیں روکیں گے تو پھروہی ہوگا جس کا خان صاحب کو گلہ ہوگا مگر دوسروں خان صاحب فیک نیوز کا راستہ آپ نے روکنا ہے اور آپ کے اپنے لوگوں نے روکنا ہے۔ حال یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز پر ایکشن لیتے ہیں تو اس مال کے بیوپاری تاجر خوش ہوجاتے ہیں کہ خان صاحب کے ایکشن کے بعد وارے نیارے ہو جائیں گے، آپ نے آٹے کی قیمتوں پر ایکشن لیا قیمت بڑھ گئی، چینی کی قیمتوں پر ایکشن لیا قیمت بڑھ گئی۔ خان صاحب آپ کے اپنے لوگ آپ کا مذاق بنواتے ہیں، لوگ اب دعا مانگتے ہیں کہ اللہ نہ کرے خان صاحب کسی چیز کا نوٹس لیں ورنہ وہ بھی ان کی دسترس سے باہر ہو جائے گی، صدر ٹرمپ ہوں یا عمران خان دونوں ہی فیک نیوز سے پریشان اور نالاں دکھائی دیتے ہیں مگر فیک نیوز کی فیکٹریاں کہاں ہیں شاید یہ دونوں لیڈران بجائے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے اپنے آس پاس دیکھیں تو فیک نیوز پھیلانے والوں کو پکڑ سکتے ہیں، دوسرافیک نیوز تب ہوتی ہے جب آپ میڈیا فرینڈلی نہ ہوں اور میڈیا کی دسترس میں نہ ہوں تو پھر اطلاع قیاس آرائیاں میں بدل جاتی ہے۔ 


ای پیپر