کراچی میں یکے بعد دیگرے تین دھماکے 
02 ستمبر 2020 (00:48) 2020-09-02

کراچی :شہرقائد میں 3 دھماکوں میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد شدید زخمی ہوگئے۔

ایک دھماکہ کیماڑی آئل ٹرمینل کے قریب ہوا جہاں ٹینکرکا ٹائر تبدیل کرنے میں استعمال کیے جانے والے ایکسٹینشن پائپ میں موجود بارود ہتھوڑے کی ضرب لگتے ہی زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 3 افراد شدید زخمی ہوگئے۔بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹینکرکے ٹائرکی تبدیلی کے دوران استعمال کیے گئے وہیل بولٹ اوپنر میں لگائے گئے ایکسٹینشن پائپ میں تقریباً ساڑھے تین سو گرام بارودی مواد موجود تھا جو دراصل دیسی ساختہ پائپ بم تھا اور وہیل بولٹ کھولنے کے لیے پائپ پر جیسے ہی ہتھوڑا مارا گیا تو وہ دھماکے سے پھٹ گیا۔ زخمی ہونے والے 3 افرد میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے،کیماڑی آئل ٹرمینل انتہائی حساس تنصیب ہے اوراس واقعے میں کوئی بڑا حادثہ بھی ہوسکتا تھا تاہم ٹرمینل بڑی تباہی سے بچ گیا۔

دوسری جانب اورنگی ٹاؤن میں مومن آباد تھانے پر نامعلوم دہشت گرد موٹر سائیکل سوار دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے جو تھانے کے مرکزی گیٹ کے باہر ہی گرکر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا،دھماکے سے زمین پر گڑھا پڑ گیا جبکہ 2 پولیس اہلکار سعیداورعمر فاروق زخمی ہوگئے جنھیں فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال لے جایا گیا،بم ڈسپوزل یونٹ نے بتایا کہ دہشت گردوں کی جانب سے پھینکے جانے والا دستی بم روسی ساختہ RDG-1 ہے جس کا لیور اور دیگر ٹکڑے جائے وقوعہ سے ملے ہیں جبکہ مومن آباد تھانے میں نصب کلوز سرکٹ کیمرے خراب تھے جس کے باعث حملہ آوروں کی فوٹیج نہیں مل سکی۔

ادھر ناظم آباد میٹرک بورڈ آفس سے  متصل پیٹرول پمپ پرپراسرار دھماکے میں 5 افراد زخمی ہو گئے ۔ دھماکے کے نتیجے میں جناح یونیورسٹی برائے خواتین کی دیوارکو بھی نقصان پہنچا جبکہ ملبے تلے دب کر2 موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہوگئیں۔

پیٹرول پمپ انتظامیہ کا دعوی ہے کہ دھماکہ پیڑول پمپ کے الیکٹرک روم میں شارٹ سرکٹ سے ہوا ہے اورالیکٹرک روم کی دیواریں بھی گرگئیں۔


ای پیپر