سندھ میں جوڑ توڑ :بلاول کے لئے آزمائش
02 ستمبر 2019 2019-09-02

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفیٰ نواز کھوکھرکاکہنا ہے کہ سندھ میں مراد علی شاہ حکومت کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ لہٰذا پارٹی سطح پر پہلی مرتبہ تصدیق کی گئی ہے کہ سندھ حکومت کو تبدیل کرنے اور پارٹی ایم پی ایز کا فاروڈ بلاک کی باتیں افواہ نہیں بلکہ ان میں وزن ہے۔ سندھ میں صوبائی حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کے بعد پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ اراکین سندھ اسمبلی سے مشترکہ طور پر اور ناراض اراکین سے الگ الگ ملاقاتیں کی، انہوں نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ کہیں سے فون آئے یا دبائو پڑے اور رابطہ ہو تو پارٹی کو آگاہ کیا جائے۔ پارٹی چیئرمین نے ان سے مسائل پوچھے اور شکایات سنیں۔ وزیراعلیٰ انہیں کتنا سنتے ہیں۔ اگرچہ بلاول ہائوس کے ترجمان اس غیر معمولی ملاقاتوں کو معمو ل کی ملاقاتیں کہہ رہے ہیں۔چیئرمین نے ان سے کام کاج اور ترقیاتی اسکیموں کے بارے میں پوچھا۔

گزشتہ سال دسمبر میں منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد یہ تیسرا موقعہ ہے کہ مراد علی شاہ حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس رپورٹ میں وزیراعلیٰ سندھ پر الزامات عائد ہوئے تھے ۔اب پیپلزپارٹی مخالف گرینڈ نیشنل الائنس نے وزیراعلیٰ سندھ کو دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا ہے اور پیپلزپارٹی کے اندر فارورڈ بلاک کے لئے کمیٹی تشکیل دی ہے جو مراد علی شاہ کی حکومت کے خاتمے کے لئے پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کرے گی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے یہ سمجھا جارہا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی منی لانڈرنگ میں گرفتار ی کے بعد تبدیلی کا کارڈکھیلا جائے گا۔ لیکن پیپلزپارٹی نے یہ عندیہ دیا کہ وہ گرفتاری کے بعد بھی مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ رکھے گی، کیونکہ صرف سندھ اسمبلی کا استحقاق ہے کہ وزیراعلیٰ کو تبدیل کرے۔ فاورڈ بلاک بنانے کے لئے جی ڈی اے کی کمیٹی کے قیام کے بعد لگتا ہے کہ مراد علی شاہ حکومت کو ہٹانے کے خواہان حلقے وزیراعلیٰ کی کسی عدالتی فورم سے نااہلی کاانتظار نہیں کرنا چاہتے۔عدالتی فورم میں بہرحال وقت لگے گا۔ سندھ کی وہ اشرافیہ جوگزشتہ انتخابات کے نتیجے میںاقتدار سے باہر رہ گئی اس کو بہت جلدی ہے ۔ وہ سمجھتی کہ یہ مناسب وقت ہے۔ لہٰذا براہ راست ان کے خلاف عدم اعتماد کا آپشن اختیار کیا جائے۔ اعتماد کا ووٹ لینے کا مطلب یہ ہے کہ مراد علی شاہ 167 کے ایوان میں سے 87 اراکین کی حمایت ثابت کریں۔ پیپلزپارٹی کے پاس کل 99 اراکین اسمبلی ہیں۔ جی ڈی اے کو مراد علی شاہ کی حکومت ہٹانے کے لئے پیپلزپارٹی کے اراکین کا فارورڈ بلاک چاہئے ، یعنی ایسے 16 سے 20 جواعتماد کے ووٹ والے روزایوان سے غائب رہیں۔

پیپلزپارٹی اس صورتحال میں جی ڈی اے کی جانب سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کے مطالبے کو نظرانداز کرسکتی ہے ۔ اس صورت میںجی ڈی اے اور فارورڈ بلاک کے ایم پی ایز کو ایوان میں آکر مرادعلی شاہ کے خلاف عدم اعتمادکا ووٹ دیناپڑے گا۔ یعنی یہ اراکین ایوان میں اپنی ہی پارٹی کے خلاف کھڑے ہوں اور اس کے خلاف ووٹ کریں۔ بظاہر مرادعلی شاہ کی مجبوری نہیں کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرے۔ تاہم پیپلزپارٹی پیش بندی کے طور پر یہ کر سکتی ہے کہ مخالفین کے وار کرنے سے پہلے ایوان میں اپنی نمبر گیم ٹھیک کر کے اچانک خود اعتماد کا ووٹ لے لے۔

سندھ اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ ہو یا عدم اعتماد کا، ہر دو صورتوں میں کھلی رائے دہی ہو گی ، سینیٹ کی طرح خفیہ رائے شماری نہیں ہوگی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس صورت میں منحرف اراکین کے لئے مشکل ہوگا کہ وہ اپنی قیادت اور کیمرائوں کی موجودگی میں پارٹی کے خلاف ووٹ کریں۔ کوئی بھی رکن نہیں چاہے گا کہ وہ یوں کھل کر سامنے آئے اور اپنا سیاسی مستقبل تاریک کرے۔

پاکستان کی سیاست کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہہ جی ڈی اے فاروڈ بلاک کے لئے کمیٹی بنائے یا کچھ اور پی پی پی کا شاید ہی کوئی رکن اسمبلی فارورڈ بلاک میں جائے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ مقتدرہ حلقوں نے رابطہ کیا تو بازی پلٹ سکتی ہے فاروڈ بلاک بن سکتا ہے۔

جی ڈی کا دعوا ہے کہ انہوں نے نمبر گیم اپنے حق میں کرلی ہے، اب صرف طریقہ کار طے کیا جارہا ہے۔ یہ حلقے بتاتے ہیں کہ مقتدرہ حلقے تین آپشنز پر غور کر رہے ہیںدو ماہ کے لئے سندھ میں گورنر راج نافذ کردیا جائے۔ عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے، یا ازسرنو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرائے جائیں۔ سندھ میں حکومت ہٹانے کے لئے فارورڈ بلاک میں 16 سے بیس تک اراکین چاہئیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جی ڈی اے اتنے اراکین کی حمایت حاصل کر چکی ہے تو سندھ میں گورنر راج کا آپشن کیوں بتایا جارہا ہے؟ ویسے بھی گورنر راج نافذ کرنے میںبعض قانونی و آئینی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بدنامی الگ ہوگی۔ یہی خیال کیا جارہا ہے کہ یہ مطلوبہ تعداد مکمل نہیں، لہٰذا گورنر راج کا سوچا جارہا ہے۔صوبائی اسمبلی کے نئے انتخابات کا آپشن بھی تب استعمال ہو سکے گا جب وزیراعلیٰ اسمبلی توڑنے کی سفارش کریں گے۔ باقی آپشنز کو عمل میں لانا زیادہ مشکل ہے،لہٰذا فارورڈ بلاک کے ذریعے ہی ایوان کے اندر سے تبدیلی لانے کا کام کر رہے ہیں۔

جی ڈی اے کے بعض اراکین کی اسپیکرآغا سراج درانی سے ملاقات نے معاملے کو گرما دیا۔بالآخر انہیں تردید کرنی پڑی کہ وہ کوئی فاروڈ بلاک نہیں بنا رہے ہیں۔ سراج درانی زیرحراست ہیں۔ تاہم وہ اسمبلی کو سب جیل قراردے کے اپنے منصب انجام دے رہے ہیں۔ چند ماہ قبل ان کے گھر پر نیب اور ایف آئی اے نے چھاپہ مارا تھا۔ اور ان کے اہل خانہ سے بعض کاغذات پر دستخط لئے تھے۔ اب ان کے خلاف تحقیقات اگلے مرحلے میں ہے۔نہیں معلوم کہ فاروڈ بلاک بنانے میںمقتدرہ حلقے سنجیدہ ہیں۔اگرایسا ہوا تو مقدمات اور ممکنہ طور پر ان کے اہل خانہ کو بھی ملوث کرنے کی صورت میں آغا سراج درانی فارورڈ بلاک کے دائرے میں آسکتے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سندھ کے 39 ایم پی ایز کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں، اور ان کے خلاف تحقیقات مختلف مراحل میں ہے۔ ذوالفقار مرزا کے کزن نجف مرزا کی نیب میں تقرری سے سندھ میں منی لانڈرنگ سمیت دیگر میگا کیسز میں پیش رفت کا امکان ہے جبکہ سلطان خواجہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ ہیں۔یہ تمام معاملات سندھ سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران کے ذریعے ہی کرائے جارہے ہیں۔ بشیر میمن، اے ڈی خواجہ، سلطان خواجہ ثناء اللہ عباسی نصف درجن پولیس افسران کا رجحان پیپلزپارٹی کی طرف سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم انہیں شکایت ہے کہ پارٹی قیادت نے اپنے دور حکمران میں ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔

مراد علی شاہ کی یہ بات اپنی جگہ پر کہ وفاقی حکومت سازشیں کررہی ہے ، اور فارورڈ بلاک ایک شوشہ ہے۔لیکن حالات اور واقعات کچھ اور منظر پیش کر رہے ہیں۔آصف علی زرداری ہسپتال میں داخل ہوئے ، بعض ٹیسٹ کرنے کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ حکومت کا خیال ہے کہ ہسپتال میں ہونے سے وہ مراد علی شاہ کی حکومت کو ہٹانے کی کوششوں پر براہ راست اثرانداز ہوتے۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی عدم موجودگی میں بلاول بھٹو کے لئے یہ پہلا ٹیسٹ کیس ہے کہ وہ کس طرح سے جوڑ توڑ کی سیاست کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔


ای پیپر