جمہوریت بھی اپنے لیے انصاف مانگتی ہے؟
02 ستمبر 2019 2019-09-02

ماہ سال ہی نہیں ہماری حکومتیں بھی کیلنڈر کے ساتھ تبدیل ہوتیں رہیں۔ ہر حکمران کے دعووں کے باوجود بھی کچھ نہیں بدلا،ایک جاتا ہے تو دوسرا آجاتا ہے۔ سن سن کر کان پک گئے ہیں کہ سابقہ حکومتوں نے یہ کیا اور وہ کیا۔ عوام کی زندگی مشکل بنانے واے جیل میں ڈالے جا چکے ۔ منی لانڈرنگ جو ہورہی تھی وہ رک چکی پھر حکومت کی معاشی طور پر گرفت نظر نہیں آرہی سارا بوجھ عوام پر ہے ۔گزرے دو ماہ میں 64 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ یہ کہا جاتا تھا کہ ہر شہری اتنے لاکھ کا مقروض بنا دیا گیاہے مگر حکومت نے ایک سال میںاتنے قرض لیے ہر شہری پر حکومت نے 45 ہزار کا قرضہ اور چڑھا دیا ہے۔ پاکستان کا احتسابی نظام بھی ریاست مدینہ کا عکس نہیں ۔احتساب تو امیر المومنین سے شروع ہوتا ہے مگر یہا ں ایسا بل آرہا ہے کہ پاکستان کی اصل حکمران بیوروکریسی، تاجر ، صنعت کاروں کے لیے نیب کو ان کے خلاف کارروائی کا حق نہیں ہو گا یہاں تو اپنے شہریوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ قرضے معاف کرانے والوں پر شدید اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے دور میں اربوں کے قرضے معاف کئے۔مگر کپتان کی ایک سال کی حکومت نے اربوں کے قرضے معاف کیے ہیں سینٹر اور قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے 228 ارب روپے معاف کرنے کا نوٹس بھی لیا ہے۔ ووٹ کی پرچی کے بارے میں کہا جاتا تھا ہے کہ یہ عوام کی حکومت ہوتی ہے مگر ہماری حکومت بھی عوام کو کچھ دینے کی بجا ئے ان کی ٹھکائی کے کام پر لگی ہے ، پرانی کہانیاں بھی سبق کے لیے ہوتیں ہیں ۔نیرو کے دور حکومت کو جبرواستبداداور مالی بد نظمی کا زمانہ کہا جاتا تھا اسے شہ خرچیوں اور عش و عشرت کا دور قرار دینے والے مورخوں نے یہ بھی لکھا کہ ان کے حکم پر ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ نیروروم کا چانچواں شہنشاہ تھا، وہ مصلح تھا،ظالم تھایا اقتدار کا بھوکا البتہ یہ حکایت اتنی مضبوط ہے کہ روم جس کا وہ حکمران تھا۔یہ آتشزدگی کی وجہ سے جل رہا تھا، عوام کی جان و مال کا محافظ نیرو اس وقت اپنے پسندیدہ میوزک بنسری سے دل بہلا رہا تھا۔ بعض مورخین کا خیا ل ہے کہ نیرو نے روم کے نظام حکومت میں بہت سی اصلاحات متعارف کروائیں اور روم کی تعمیر و ترقی میں بڑا حصہ لیا سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کو ترقی دی۔ ملک بھر میں بہت سے تھیٹر تعمیر کئے۔اس کے جرنیلوں نے کامیاب جنگیں بھی لڑیںاور سلطنت روم کی سرحدوں کو وسیع بھی کیا نیرو عوامی حمایت یا ووٹ لے کیسیاسی عمل میں داخل نہیں ہوا تھا بلکہ وہ شہنشاہ کلاڈس نے سیاسی طور پر اسے گود میں لیا تھا۔

ہر عہد کے نیرو اپنے اپنے دور کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے رہے ۔ یہاں تک 21ویں صدی کا بیس فی صد گر چکا ہے مگر یہ چلن نہیں بدلا۔ 16ویں صدی میں اپنے وقت کے ہیپس کارپس کا قانون اپنے پورے زور پر رہا اس سے پہلے قانون یہ تھا نیرو جیسے حکمران اپنے مخا لفوں کو جب چاہتے اٹھا لیتے تھے۔ اس کی نشان دہی میکا ولی نے اپنی کتاب دی پرنس میں بھی کی ہے۔ ہپس کارپس کا قانون 1679میں انگلستان کی پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔ یہ سٹوارٹ خاندان کے بادشاہ چارلس دوم کا زمانہ تھا جسے کرامویل کے عہد میں ملکوں ملکوں کی خاک چھاننے کے بعد تخت نصیب ہوا تھا۔اس قانون کو شعور کروانے میں ارل آف شیفٹس بری کا بڑا حصہ تھا۔ اس قانون کے مطابق اگرکسی شخص کو مقدمہ چلائے بغیر قید کردیا گیا ہویا وہ زیر حراست ہوتو عدالت کو یہ اختیارات دیا گیا تھااس حراست کے جائز یا ناجائز ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہے اوراس کو عدالت میں طلب کر سکتی ہے۔ اس زمانے کی انتظامیہ اس بات کی پابند تھی کہ وہ ہپس کارپس کے قانون کے تحت زیر حراست آدمی کو عدالت کے سامنے پیش کرے۔ مگر مقدمہ چلائے بغیر کسی شخص کوقید کر دینا تو تیرویں صدی میں ہی ناجائز قرار ہو چکا تھا تیرویں صدی میں ہی انگلستان میں میگنا کارٹا نافذ ہوا۔ جو انسانی حقوق کا منشور تھا۔ ۔ میگنا کارٹا کے نفاز کے بعد اس قانون کے تحت پورے پانچ سو سال تک یہ قانون اپنے پوریے آب و تاب کے ساتھ نافظ رہا۔ پھر قانون بغاوت (Sedition Act)۔ 1870ء میں انڈین پینل کوڈ میں شامل کیا گیا۔ اس قانون کی رو سے برطانوی حکومت پر تنقید بغیر مقدمہ چلائے قابل سزا جرم تھا۔

برطانوی ہندوستان کی مرکزی قانونی مشاورتی کونسل نے 18 مارچ 1919ء کودہلی میں منظور کیا جب رولٹ ایکٹ نافذ کیا تو اس کے خلاف خوب ہنگامہ ہوا جس کے تحت کسی بھی ہندوستانی باشندے کو محض شک و شبہ کی بنیاد پر جیل میں ڈالا جا سکتا تھا۔ اسے کالا قانون بھی قرار دیا۔ 12 اکتوبر 1999 کو جو داستان رقم ہوئی اس میں جمہوریت گئی اس کے ساتھ عوام کی پرچی کی بھی توہین ہوئی۔نواز شریف کو سبق سکھانے کے لیے پورے ایک ماہ سات دن کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔ان کے خلاف اس وقت مقدمہ نہیں تھاوہ اسٹیبلشمنٹ کی حفاظتی تحویل میں تھے کراچی کی خصوصی عدالت میں وہ اپنے اوپر بیتی ظلم کی داستان بیان کرنے لگے تو ایک کرنل نے وزیر اعظم نواز شریف کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا کہ آپ بول بھی نہیں سکتے۔پھر ایک وعدہ معاف گواہ گھڑا گیا۔ امین اللہ چودھری نام تھا جس نے ملزم بن کر اپنی چمڑی بچانے کے لیے جھوٹ بولا میں بھی حاضر تھا وہاں ۔ایسا ہی ایک کردار تھا مسعود محمود جا کو بھٹو کا وفادار بننا بہت پسند تھا ہر کام بڑھ بڑھ کر کرتے تھے۔ ضیا الحق کو ایک خط لکھا پورے سو صفحات تھے اس خط کے ۔ان کو ذولفقار علی بھٹو کے لیے گھڑا گیا تھا۔ ان کا 20مارچ 2000کو نواز شریف اسی عدالت میں دھکیل دیے گئے جو انہوں نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے خود قائم کی تھی کراچی میں قائم اسی عدالت کے روبرونواز شریف نے پورے ایک گھنٹہ دس منٹ تک اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس میں بہت سے انکشاف تھے نواز شریف کے بیان کے مطابق ۔’’میری حراست کے دوران تین جرنیل سادہ کاغذ پر دستخط کرانے آئے میں نے دستخط کرنے سے انکار کردیا ۔ نواز شریف کو دھمکانے کے لیے سماعت کے دوران ایک اندوہناک واقع پیش آیا جب 10 مارچ 2000 کو نواز شریف کے وکیل اقبال رعد کو قتل کر دیا گیا۔ قتل سے ایک دن قبل اقبال رعد نے ایک انٹرویو میں دعوی کیا تھا کہ کوئی ایماندار جج طیارہ سازش کیس میں ملزمان کو سزا نہیں دے سکتا۔ مخالف سیاست دانوں کو پکڑنا ان کو اذیت دینا آج بھی ختم نہیں ہوا۔انسانی حقوق کی اہم تنظیم ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان نے حکومت پاکستان سے گم شدگیوں کے عالمی دن کے موقع پر مطالبہ کیا ہے کہ جبری لاپتہ افراد کو جرم قرار دیا جائے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا ملزم کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے اپنے وکیل کی سہولت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے ساتھ رابطہ رکھ سکے ۔ یہ معاملہ کافی پرانا ہے۔ مگر یہ گزری تین چار دھائیوں کا سوال نہیں اس دور میں ایسا ممکن نہیں ۔اہم سوال تو یہ ہے کہ حکمران جماعت نے اختر مینگل کی حمائت حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ جو ایگریمنٹ کیا تھا اس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ ان کے لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے گا۔ ساہیوال کے سانحہ کو کس طرح دبا دیا گیا ہے۔رحیم یار خان میں اے ٹی ایم مشین چرانے والے اور معاشرے کا منہ چڑانے والے ملزم صلاح الدین کا کیا حال کیا اس حشر کو دیکھ کے کانوں کو ہاتھ لگانے کو جی چاہتا ہے۔ ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی بجائے اس دنیا سے ہی رخصت کر دیا ۔اس کیس کا سوال ہمارے انصاف کے نظام کے لیے لمحہ فکر ہے۔اس کے علاوہ ووٹ کی پرچی کا سوال اہم ہے کہ اس کی عزت ہونی چاہئے۔ جنرل کیانی کا نام بھی اس فہرست میں وزیر داخلہ بریگیڈیر اعجاز شاہ نے لے دیا ہے۔سینٹ کے انتخاب میں جو ہوا وہ بھی بھولنے والا نہیں ہے۔ امریکہ کے 36 ویں صدر لنڈن بی جانسن نے6 اگست 1965 کو اپنی تقریر میں کہا تھا’’ انسان نے جو آ ج تک سب سے طاقتور ہتھیار ایجاد کیا ہے وہ ووٹ ہے‘‘ایوب خان تو عوام کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا تھا کہ عوام بھی کس باغ کی مولی ہوتے ہیں مگر ایوب خان کو اس وقت علم ہوا کی عوام ہی تو اصل طاقت ہوتے ہیں جب ایو ب خان اپنے اقتدار کی دس سالہ اقتصادی ترقی کا جشن منا رہے تھے۔ عین اس موقع پر عوام ایوب خان کی نام نہاد ترقی کو بھول گئے اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہوے اٹھ کھڑے ہوئے۔


ای پیپر