پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کیوں؟
02 ستمبر 2019 2019-09-02

گزشتہ دو عشروں یعنی بیس سالوں سے پاکستان شدید ترین سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔اکتوبر 1999ء میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے منتخب وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کیاتھا۔اپنے اقتدار کو آئینی جواز فراہم کرنے کے لئے انھوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی کی قیادت میں ایک دھڑا الگ کرکے پاکستان مسلم لیگ (ق) کی بنیاد رکھی۔اسی طرح پیپلز پارٹی سے بھی آفتاب احمد خان شیرپائو اور فیصل صالح حیات کی قیادت میں ایک حصہ الگ کرکے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ قائم کر دی تھی۔جنرل پر ویز مشرف نے 10اکتوبر 2002ء کو ملک میں انتخابات کرائے،توقعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) کو کامیابی حا صل ہوئی۔ظفراللہ خان جمالی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔جنرل پرویز مشرف ان سے مطمئن نہیں تھے اس لئے ان کو ہٹا کر شوکت عزیز کو یہ اہم منصب سونپا گیا، بعد میںچوہدری شجاعت حسین نے بھی وزیراعظم ہائوس میں چلا کاٹا۔جنرل پر ویز مشرف جب تک حکمران رہے ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار رہا۔اپنے پورے دور حکومت میں وہ اپنے حریف اوّل میاں نواز شریف اور حریف دوم بے نظیر بھٹو سے لڑتے رہے۔میاں نواز شریف جیل کی سختیاں برداشت نہ کرسکے اور معاہدہ کرکے خاندان سمیت سعودی عرب جلاوطن ہوئے۔ بے نظیر بھٹو نے بھی خودساختہ جلاوطنی اختیار کرکے متحدہ عرب امارات میں خاندان کے ساتھ مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔جنرل پرویز مشرف اپنے پورے دور اقتدار میں اس تگ و دو میں لگے رہے کہ کیسے تاحیات وہ ایوان صدر کے مکین رہ سکتے ہیں؟بس یہی ان کی زندگی کا مقصد تھا اس لئے وہ سیاسی اور معاشی استحکام اور ملک کے دوسرے بڑے مسائل کی طرف توجہ نہ دے سکے۔اس دوران میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے پندرہ سالہ سیاسی دشمنی ختم کرکے 14 مئی 2006ء لندن میں میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا۔دونوں پاکستان واپس آگئے۔عام انتخابات سے چند ہفتے قبل27 دسمبر 2007 ء کو بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کے مشہور لیاقت باغ میں قتل کر دیا گیا۔بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے قتل کا الزام حکمران وقت جنرل پرویز مشرف پر عائد کیا۔مشکل کی اس گھڑی میں میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری کا مکمل ساتھ دیا،لیکن ملک سیاسی انتشار کا شکار رہا۔ایک طرف جنرل پرویز مشرف ،چوہدری برادران ،آفتاب شیرپائو اور فیصل صالح حیات جیسے دیگر سیاست دان تھے، جبکہ دوسری طرف میاں نوا ز شریف اور بے نظیر بھٹو جیسے حزب اختلاف کے مشہور رہنما۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ملک میں عام انتخابات چند ہفتوں کے لئے ملتوی کئے گئے۔18 فروری 2008 ء کو ملک میں انتخابات ہوئے ۔پیپلز پارٹی کو اکثریت مل گئی۔یوسف رضاگیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے۔جنرل پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد آصف علی زرداری صدر منتخب ہوئے۔پانچ سالہ دور حکومت میں آصف علی زرداری اپنے سیاسی حریف میاں نواز شریف سے لڑتے رہے۔میمو گیٹ سکینڈل اور سوئس بینک اکاونٹس کیس میں میاں نواز شریف کھل کر آصف علی زرداری کے خلاف چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے رہے۔اس دوران سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلا نی کو نااہل کیا۔آصف زرداری نے پرویز اشرف کو وزیراعظم نامزد کیا۔آصف علی زرداری کے پانچ سالہ دور حکومت میں وفاق اور سندھ میں بدعنوانی کی ہوش رباداستانیں منظر عام پر آئی ۔بجلی کا شدید بحران رہا ،لیکن آصف علی زرداری ان کے وزیروں اور مشیروں کے کان پر جونک تک نہ رینکی۔بدعنوانی اور بجلی کا بحران اگلے انتخابات میں آصف زرداری کے شکست کے اسباب بن گئے۔درحقیقت یہی پانچ سال پاکستان کے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے بدترین ماہ و سال ثابت ہو ئے۔

11 مئی 2013 ء میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) نے اکثریت حاصل کی ۔ میاں نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہوئے۔اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاج کاراستہ اختیار کیاوہ تین مہینوں تک دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا دئیے بیٹھے رہے۔ اس دروان آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ ہوا۔ انھوں نے احتجاج ختم کیا ،لیکن 3 اپریل 2016 ء کو پاناما سکنڈل عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بنا۔ حزب اختلا ف کے ابھرتے ہوئے مشہور اور روایتی حریف عمران خان نے وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ میں نااہلی کی درخواست دائر کی۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد بھی اس مقدمہ میں فریق بنے۔28 جولائی 2017 ء کو عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا او وزیر اعظم میاں نوازشریف کو آئین کی دفعہ 62 (1) (F) اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 ء کی دفعات 12(2)(F) اور19(F) کے تحت نااہل قراردے دیا۔ میاں نواز شریف کے بعد شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔چار سال تک میاں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم رہے ،لیکن ان چار سالوں میں وہ حزب اختلاف کے ساتھ لڑتے رہے۔ فوج کے ساتھ ان کے اختلافات برقرار رہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے انھوں نے کو ئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے۔وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار صرف باتوں اور الفاظ کی حد تک معاشی استحکام کی لوریاں قوم کو سناتے رہے۔جب ضرورت پڑی تو ذاتی تعلق کی بنیاد پر عرب ممالک سے قرض لیا۔بین الاقوامی اداروں سے قرض لے کر ملکی معیشت کا بیڑا غرق کیا۔یہی اسباب تھے جو اگلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کا باعث بنی۔

25 جولائی 2018 ء کو ملک میں عام انتخابات ہوئے ۔ پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی ۔ عمران خان ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ وہ معاشی استحکام اور احتساب کا نعرہ لے کر آئے تھے۔ابتدائی چار مہینوں تک وہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی پر حزب اختلاف کے ساتھ لڑتے رہے۔پھر الیکشن کمیشن کے دو ارکان کے تقرر پر حزب اختلاف کے ساتھ مشت گریبان رہے۔شروع ہی سے این آر او نہیں دونگا کے وظیفے کا ورد کررہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کا ایک سالہ دور حکومت سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا بدترین دور رہا۔اب جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے تو یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ دنیا اس سنگین ترین اور خالصتا انسانی مسئلے پر پاکستان کی حمایت کیوں نہیں کرتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مفادات کی دنیا ہے۔جس ملک میں سیاسی استحکام نہ ہو،جہاں معیشت کا پہیہ الٹا گھوم رہا ہوتو دستور یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے اور ممالک ان کو قرض تو ضرور دیتے ہیں لیکن علاقائی اور عالمی مسائل پر ان کے موقف کی حمایت ہر گز نہیں کرتے خواہ ان کا موقف کتنا ہی مضبوط اور برحق کیوں نہ ہو۔اگر پاکستان نے علاقائی اور عالمی معاملات میں تنہائی سے نکلنا ہے تو ضروری ہے کہ حکمران ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کریں ، اس لئے کہ سیاسی طور پر منتشر اور معاشی طور پر کمزور ممالک کے ساتھ دنیا کے طاقتور ممالک ایک صف میں کھڑے ہونے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ جدید دنیا میں مضبوط دفاع کے ساتھ سیاسی استحکام اور معاشی ترقی بھی ملکوں اور قوموں کی سربلندی کی علامت ہے ۔


ای پیپر