کب کوئی بلا صرف دعائوں سے ٹلی ہے
02 ستمبر 2019 2019-09-02

بلا شبہ دنیا کی تاریخ جنگ و جدل، قتل وغارت گری سے بھری پڑی ہے ۔ جنگ عظیم اول کے بعد لیگ آف نیشنز 1920 ء میں بنائی گئی۔ اور جنگ عظیم دوئم کے بعد 1945 ء میں یونائیٹڈ نیشنز کے نام سے تنظیم قائم کر دی گئی تاکہ باہمی و بین الاقوامی تنازعات مکالمے کے ذریعے طے شدہ اصول و ضوابط اور کثرت رائے سے نمٹائے جائیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور کو کوئی قاعدہ یا کلیہ طاقت کے استعمال سے نہیں روک سکا۔ UNO دنیا کے ممالک کی ایسی تنظیم بنا دی گئی ہے جس میں چند طاقتور ترقی یافتہ ممالک کی اجارہ داری ہے اور سپر پاورز کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا۔ عملاً 5 ویٹو پاورز کی دنیا میں حکومت قائم کر دی گئی۔ دیگر ممالک شامل واجے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ فلسطین ہو یا مسئلہ کشمیر UNO ، ایران ، اعراق ، مصر ، شام ، افغانستان کی بربادی میں سپر پاورز کے پیچھے کھڑی رہی ، بھارت میں 41 کروڑ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں مگر وہ آزادی کی نعمت سے محروم ہیں ۔ 1947 ء آزادی ہند نہیں کشمیر کی آزاد ریاست کی غلامی کا آغاز تھا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ چڑھتے دن کے ساتھ ظلم کی نئی صورت سامنے آتی چلی گئی۔

سازش اور شجاعت کا کبھی میل نہیں ہوتا اور نہ ہی دنیا نے کبھی تکبر، سازش، خود غرضی، منافقت اور شقاوت کو یکجا دیکھا ہو گا جیسا اس وقت بھارت اور مودی کی صورت میں دیکھا جا رہا ہے ۔ مودی بد بخت سے یہ سوال ہے کہ انگریز سے ہندوستانیوں کا کیا مطالبہ تھا جو اس نے بالآخر مان لیا اور 15 اگست کو دنیا میں بھارت جیسی سیاہ رو ریاست کی بنیاد رکھ دی مگر صد افسوس کہ یہ دن کشمیریوں کی غلامی اور ان پر ظلم کے آغاز کا دن ثابت ہوا۔ نہرو کے وعدے، اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور شملہ معاہدے کی آج صرف اس لیے کوئی اہمیت نہیں کہ کشمیر میں آزادی مانگنے والے مسلمان اور نہتے ہیں۔

چوتھا ہفتہ مکمل ہوا چاہتا ہے کہ بھارتی بھیڑیوں کی 10 لاکھ فوج کشمیریوں کے گھروں کو گھیرے ہوئے ہے ۔ کرفیو ہے قتل و غارت گری ہے بوڑھے بیمار بچے عورتیں اور جانوروں میں کچھ تفریق نہیں ۔ یہ سب اکسیویں صدی میں ہو رہا ہے جب سوشل میڈیا او ر انٹر نیٹ کے ذریعے پوری دنیا کے کسی کونے کی کوئی خبر پوشیدہ نہیں ہے ۔ مگر اس وقت دنیا کے طاقتور ممالک اور اقوام کے ضمیر ابدی نیند سوئے ہوئے ہیں۔ صد افسوس ہمارے اپنے مودی کو ایوارڈ دے رہے ہیں۔

در اصل اس میں بھی ہماری اپنی خارجہ پالیسی کا عمل دخل ہے ۔ آج وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے اس میں انتہائی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ بھارتی حکمران مکار عیار اور انتہائی بزدل ہیں۔دنیا کے ضمیر کو انسانیت کے حوالہ سے جگایا جا سکتا ہے ۔ کیا یہ لطیفہ نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ اور صدر فرانس کہتے ہیں کہ باہمی گفت و شنید سے پر امن حل ڈھونڈو۔ ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ کہیں جناب مسئلہ حل کرنا تو بعد کی بات ہے ۔ آپ تو سپر پاور ہیں قتل عام تو رکوائیں۔ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی رکوائیں۔ عزتوں کو تار تار کیا جا رہا ہے اور آپ چپ سادھے ہوئے ہیں۔ کیا کبھی کسی نے ڈاکوؤںقاتلوں سے مذاکرات کیے ہیں۔ ہماری میزائل ٹیکنالوجی، ایٹمی ٹیکنالوجی، سٹریٹجک پوزیشن، جغرافیائی حیثیت بھارت سے کہیں بہتر ہے ۔ فوج تعداد میں چھوٹی مگر کوالٹی اور حرکت میں کہیں بہتر ہے ۔ ہندوستان کی اندرونی صورت حال یہ ہے کہ لوگ سڑکوں پر سوتے ہیں اور باتھ روم تک پورے نہیں ہیں اس کے قومی ادارے خسارے میں، ملک کے بڑے کاروباری قرض لے کر ملک چھوڑ چکے صرف فلموں میں دکھنے والا بھارت غربت کی صورت میں دہشت گردی کے لیے بہت بڑا ایندھن رکھتا ہے جو اس کو فنا کر سکتا ہے ۔ ہمارے ہاں اکثر بنیاد پرست مفکرکہتے تھے۔ شملہ معاہدہ نے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔ 370 کی خلاف ورزی کے بعد ان کے ہاتھ کھل گئے۔ سلامتی کونسل میں مسئلہ ڈسکس ہو گیا امریکہ سے واپسی ورلڈ کپ کا نام بن گئی۔ اگر آپ کے دنیا میں دوست نہیں بھی تو ملک میں کون سی دوستی کی فضاء قائم رہنے دی ہے میرا خیال ہے کہ بھارتی اور بنگلہ دیشی ہم سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی حکمران جماعت اپوزیشن سے کرتی ہے ْ صرف اس لیے کہ سیاست میں نفرت اس کا نعرہ تھا۔جبکہ قومی یکجہتی کی اس وقت ضرورت ہے ۔ اتحاد کے بغیر دشمن پر فتح کا تصور نادانی ہے ۔ وزیراعظم ریاست کی پوری مشینری استعمال کر کے واشنگٹن میں 9 ہزار لوگوں کے ہاتھوں میں شمع پکڑوا کر جلسہ کرتے ہیں تو ملک کی اپوزیشن کے خلاف بات شروع کر کے ان سے انتقام پر ختم کرتے ہیں یہ بصیرت نہیں دانش اور فہم کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے رویہ پر غور کریں اور نادان وزیروں کے گھیرے سے نکلیں آپ باتیں کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی کرتے جو واشنگٹن سے پوری دنیا سنتی بین الاقوامی فورم پر اپنے آپ کو پی ٹی آئی کا نمائندہ نہ سمجھیں 10لاکھ فوج تو ان نہتے کشمیریوں نے تعینات کر رکھی ہے اور وہ آپ کی مدد کیا کریں۔

مسئلہ کشمیر محض اسلامی نہیں انسانی بنیاد پر بھی اقوام عالم کے سامنے رکھنا ہو گا کیونکہ مسلمانوں کے نام سے غیر مسلم اس خوفناک حد تک تعصب کا شکار ہو چکے ہیں کہ دنیا کو مسلمانوں سے خالی دیکھنا چاہتے ہیں۔

OIC کا قیامت خیزی کے چوتھے ہفتے ہوش میں آنا خوش آئندہے۔ کاش! وطن عزیز کے لوگ وزیر خارجہ ، وزیر ریلوے فردوس عاشق و دیگران کے کشمیر کے متعلق بیانات کو ایک سائیکارٹسٹ کی نظر سے دیکھ پاتے ان سے تو اداکاری بھی نہیں ہو پاتی۔ وطن عزیز کے زعما ابھی تک چہروں سے لڑ مرنے کے کا تاثربھی نہیں دے سکے۔ کشمیریوں سے یکجہتی وہ کیا کریں گے قومی یکجہتی کی بجائے نفاق و نفرت اوج ثرپا پر ہے ۔

کشمیری مسلمانوں پر مظالم کی تازہ سیریز پر مجھے کسی مسلمان حکمران اور وطن عزیز کے رہبروں کے چہرے پر اتنی بھی پریشانی اور سچائی نظر نہیں آتی جو نیوزی لینڈ کی جیسنڈرا کے چہرے پر مسجد میں مسلمانوں کے قتل عام پر تھی، اب کشمیر کی وادی وہاں کے باسیوں سے زندہ رہنے کے لیے مرنے کی متقاضی ہوئے چلی ہے ۔

بقول قبلہ سمیع اللہ ملک 8 برس قبل مشروط پابندیوں کے ساتھ بھارت نے یورپی یونین کے وفد کو بھولے سے کشمیر جانے کی اجازت دے دی جنہوں نے عام لوگوں سے رابطہ کر کے سوگ میں ڈوبی وادی کے دکھ میں فضاؤں تک کو اداس دیکھا دنیا کی خوبصورت ترین وادی بدترین جیل میں بدل چکی تھی اور اب تو ایک محشر بپا ہے ۔ 70 صفحات کی رپورٹ پیش کی گئی مگر بھارتی بھیڑیے انسانوں کے متعلق رپورٹوں کو کیا اہمیت دیتے ۔ بین الاقوامی قوتوں کو بھی بھارت ایک ارب کی منڈی دکھائی دیتی ہے جس میں سے مسلمانوں اور اقلیتوں کو نکال لیں تو عالمی ہیرا منڈی ہی تصور کریں ۔ امریکہ اور یورپ تو چائنہ کے لیے بھارت کو برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ نوشتہ دیوار ہے کہ کشمیر آزاد ہونے کا اعلان تاریخ کے صفحات کی زینت بننے کو ہے ۔

کب اشک بہانے سے کئی ہے شب ہجراں

کب کوئی بلا ، صرف دعاؤں سے ٹلی ہے !!!


ای پیپر