جناب وزیراعظم ....ریاست مدینہ میں جمعے کی چھٹی بحال کریں

02 ستمبر 2018

نواز خان میرانی

پچھلی دفعہ میں نے حرمت رسول کے حوالے سے جو بات شروع کی تھی، الحمدللہ ہالینڈ کی حکومت نے خاکوں کے حوالے سے کئی سالوں سے ناٹک اور ڈرامہ شروع کیا تھا، اور جس کا دوبارہ انعقاد اب پھر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اسے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ ہمیں پوری دنیا میں ہمارے شہریوں (ڈچ) لوگوں کو جان کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے، کہ اس نمائش کو شروع نہ کیا جائے۔
تاہم قارئین محترم میرا خیال ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس معاملے میں اپنی ترجیحات اور کاوش کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جو قابل قدر ہے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے جانے کی بات کی ہے، مگر وزیراعظم کی یہ بات قدرے توجہ طلب ہے، کہ مغربی دنیا کو اس حوالے سے حرمت رسول سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ میرا مو¿قف یہ ہے کہ مغربی دنیا اتنی سادہ لوح، معصوم اور بے ضرر نہیں ہے ، وہ تو منصوبہ بندی سے نائین الیون کا ڈرامہ کرکے افغانستان، پاکستان اور عراق ، شام پہ چڑھ دورا ہے اسی طرح گستاخان رسول کی فہرست بھی خاصی طویل ہے، ایک گستاخ رسول ایسا بھی گزرا ہے کہ جس کا تذکرہ خود خدا نے بیان فرمایا ہے ، کہ رہتی دنیا تک مسلمان اس پر لعنت بھیجتے رہیں گے، قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کہ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہو جائے، نہ اس کا مال اس کے کام آیا نہ اس کی کمائی، مال سے مراد اس کا سرمایہ، اور (ماکسب) سے مراد اس کا نفع۔
واضح رہے کہ ابو لہب ہمارے پیارے رسول اللہ کا سگا چچا تھا، جو انتہائی خوبصورت تھا، اور انتہائی مالدار اور امیر تھا، اور لوگوں کو قرضے دیا کرتا تھا، اس نے ایک شخص کو ہزاروں درہم قرض دیاہوا تھا، کہا جاتا تھا کہ ابولہب بہت ہی بخیل تھا، اور اسے کہا کہ جنگ بدر میں ، میری بجائے تم حضور سے جنگ کرو تو تمہارا قرض معاف کردوں گا۔ اس کی بیوی بھی، اتنا مالدار خاندان، مگر اس کی بیوی ام جمیل جنگل سے خود لکڑیاں کاٹ کر آتی، اور لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر گھر آتی، اس نے گلے میں قیمتی ہار بھی ڈالا ہوا تھا، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسے تنبیہ کی تھی، بلکہ بتایا تھا، کہ تمہاری موت اسی ہار کے سبب ہوگی، اور ایسا ہی ہوا، اسی ہار کی وجہ سے اس کا گلہ گھٹ گیا تھا ۔ آیت کے مطابق جو رسی اس کی گردن میں ڈالی جائے گی، مفسرین کے نزدیک اس کے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ مضبوط بنی ہوئی رسی، یا کھجور کی چھال سے بٹی ہوئی رسی ایک اور خیال کے مطابق مونجھ یا اونٹ کی کھال، یا لوہے کی تاروں والی رسی ہوسکتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ، ابن زید ؓ اور دیگر فرماتے ہیں کہ وہ بدبخت راتوں کو اٹھ کر خاردار درختوں کی ٹہنیاں آپ کے دروازے پر ڈال دیتی تھی، یہ دشمنی میں اپنے میاں ابولہب سے کسی صورت کم نہیں تھی، حضرت ابوبکرؓ کی صاحبزادی حضرت اسماؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورة نازل ہوئی اور اس بدبخت تک اس کے الفاظ پہنچے اور اس نے سنا، تو وہ ایک بپھری ہوئی عورت رسول پاک کو تلاش کرتی پھرتی تھی۔ اس کی مٹھی میں پتھر تھے، اور وہ آپ کے خلاف اپنے شعر پڑھتی جارہی تھی، حرم میں پہنچی تو حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ حضور بھی تشریف فرما تھے۔ حضرت ابوبکر نے عرض کی ، کہ وہ ادھر آرہی ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ کم ظرف کوئی بے ہودگی نہ کردے حضور نے فرمایا کہ یہ مجھے دیکھ ہی نہیں سکے گی، چنانچہ ایسے ہی ہوا، وہ حضرت ابوبکرصدیقؓ سے پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کے رسول نے میرے خلاف ہجو کی ہے، حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا، اس گھر کے رب کی قسم ، انہوں نے تمہارے خلاف کوئی بات نہیں کی دراصل وہ سورة اللھب کے بارے میں پوچھ رہی تھی، اور حضرت ابوبکرؓ کی بات سو فی صد درست تھی کہ حضور پہ تو سورة نازل ہوئی تھی، وہ الفاظ تو اللہ تعالیٰ کے خود اپنے تھے، اور حضور وہیں تشریف فرما تھے، مگر اس بدبخت کو نظر نہیں آرہے تھے، وہ گردن میں جو بہت ہی قیمتی ہار پہن کر پھراکرتی تھی، کہتی تھی کہ میں اس کو بھی بیچ دوں گی، اور آپ کی دشمنی پر خرچ کردوں گی، یہ تو حال تھا، رسول اللہ کی سگی چچی کا، حضور کے گھر کی دیوار اور اس کی دیوار ایک ہی تھی اور اس کے علاوہ حکم بن عاص، عقبہ بن ابی عددی اور ابن الاصداءبھی آپ کے ہمسائے تھے، یہ بدبخت گھر میں بھی حضور کو چین نہیں لینے دیتے ہیں، حضور جب نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، یا عبادت میں مصروف ہوتے تھے، تو یہ بدطینت ان پر بکری کا اوجھڑ پھینک دیتے تھے، کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تھا، تو اوپر سے اس میں بھی کوئی حرام چیز پھینکنے سے باز نہیں آتے تھے، حضور گھر سے باہر جاکر ان سے فرماتے کہ یہ کیسی ہمسائیگی ہے۔
نبوت سے پہلے حضور کی دوصاحبزادیاں ،ابولہب کے دو بیٹوں ،عثبہ اور عتبہ سے بیاہی ہوئی تھیں جب آپ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی ، تو ابولہب نے کہا کہ میرے لیے اس وقت تک حرام ہے کہ میں تم سے ملیں، تم فوراً اپنی بیویوں کو طلاق دے دو، چنانچہ دونوں لعینوں نے طلاق دے دی۔ ایک دفعہ توعتبہ نے جہالت اور پاگل پن میں اتنا بڑھا کہ اس نے آپ کے سامنے آکر بدزبانی شروع کردی، اس کی اس بکواس کو سن کر آپ نے فرمایا ، اے اللہ اس پر کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کردے۔
ابولہب عاقبت نااندیش شخص نے حضور کو شہید کرنے کا چیلنج کیا تھا، جس پر حضورنے فرمایا تھا کہ تو نہیں بلکہ میں تمہیں قتل کروں گا، حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ قارئین اتنی شدید دشمنی کے باوجود ابولہب کو آپ کی بہادری، سخاوت، سچائی، دیانتداری اور امانت داری پر مکمل یقین تھا، لیکن اس کی بدقسمتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق نہ دی کہ وہ اسلام قبول کرتا، حالانکہ حضور کی بھی خواہش تھی کہ چچا ایمان لے آئے، وہ حضور کے اس فرمان کے بعد کہ تم نہیں میں تمہیں قتل کروں گاوہ شعوری اور لاشعوری طورپر آپ سے بہت ڈرتا تھا، ایک دفعہ جنگ بدر میں آپ نے ایک صحابی سے برچھا لے کر ابولہب کو ہلکا سا چرکہ لگایا، اس کے بعد وہ جانوروں کی طرح اس قدر زور سے غرایا ، اور چیخناچلانا شروع کردیا کہ اس کے دوستوں کو کہنا پڑا کہ شرم کرو کہ اس قدر بہادر اور اتنے بڑے سردار ہونے کے باوجود ہلکے سے زخم بلکہ خراش پہ اتنا شور مچا رہے ہو ، اس نے جواب دیا تمہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ اس ہلکی سی خراش کا کس قدر درد ہے، تم یہ دیکھو کہ یہ زخم لگاہوا کس کا ہے، آخر کار زخم میں کیڑے پڑ گئے، اور اس کے نزدیک اس کی بیوی بھی نہیں جاتی تھی، اور اس درد میں وہ جہنم رسید ہوا تو پھر اس کی لاش کو گھسیٹ کر اور دور لے جاکر پتھروں سے ڈھانک دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کا بدلہ پورے ابولہب کے خاندان کو برباد کرکے لیا حالانکہ اس دور جاہلیت میں اس کا بڑا مقام ومرتبہ تھا، اور اس مرتبے اور مقام کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیا گیا۔
اس کے خاندان کا کیا حشر ہوا، اگلی دفعہ انشاءاللہ بیان کروں گا۔
اب وزیراعظم عمران خان کے اس دعوے پر بات کرلیتے ہیں، کہ میں پاکستان کو ریاست مدینہ بناﺅں گا، اگر عمران خان واقعی ہمارے ملک کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں تو پھر فوراً اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پاکستان میں جمعے کی چھٹی کا اعلان کردیں، جوکہ میاں محمد نواز شریف نے بند کی تھی، اور ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جمعے کی چھٹی کا اعلان کیا تھا، جمعے کی چھٹی ریاست مدینہ کی جانب پہلا قدم ہے، جنرل جاوید ناصر میرے ہمسائے ہیں، ان کی دینداری کی ایک جھلک دیکھئے کہ ہم کتابوں میں پڑھتے تھے کہ فلاں بزرگ ایک دن میں قرآن پڑھتے تھے، مگر ہم خود ایک دن میں اپنی آنکھوں سے انہیں قرآن پڑھتے اور مکمل کرتے دیکھتے ہیں، مگر ہماری بدبختی دیکھئے کہ جنرل ناصر صاحب جو نماز تہجد ،نماز اشراق ،نماز چاشت ، نماز اوابین ،نماز صلوٰة تسبیح اور تمام نماز پنجگانہ خشوع وخضوع سے ادا کرتے ہیں، جمعے کی چھٹی بند ہونے کی وجہ سے دودفعہ بھولے کہ آج نماز ظہر نہیں بلکہ آج جامع مسجد میں نماز جمعہ پڑھنی ہے، ایک دفعہ میں نے اور ایک دفعہ کسی اور صاحب نے انہیں کالونی کی چھوٹی مسجد میں بیٹھا دیکھ کر انہیں کہا تھا کہ آج جمعہ ہے اور وہ جامع مسجد کی طرف دوڑے۔ نماز جمعہ کی فضیلت ، نماز عید سے بھی زیادہ ہے، لہٰذا عمران خان جو خود بھی نمازی ہیں اگر کروڑوں عوام کے دلوں کی آواز سن لیں تو اللہ ہمارے ملک میں اتنی رحمت کا نزول کرے گا کہ قرضے بھی اتر جائیں گے، اور کوئی داخلہ وخارجہ مسائل بھی پیدا نہیں ہوں گے دنیا کی وہ ریاستیں یا وہ ممالک جہاں جمعے کی چھٹی ہوتی ہے، کیا وہ ہمارے ملک جیسی ہیں؟ وہ تو دنیا کی بڑی طاقتوں کے بینک پیسوں سے بھردیتی ہیں، لہٰذا وزیراعظم اور عمر صاحب کی بجائے اپنے رب پر اعتبار کریں کہ وہی فقیروں کو بادشاہ اور بادشاہوں کو فقیر کرنے والا ہے۔ ورنہ تو اقتدار بظاہر ایک خوبصورت پھول کی مانند ہے، اور بقول وزیراعظم کے محترم بزرگ امیر نواز نیازی صاحب کے کہ
کس قدر ہے مختصر ان گلوں کی زندگی
کھل کھلا کر ہنس دیئے اور فنا کی راہ لی

مزیدخبریں