بیلجیئم کی آرٹسٹ کوعدالت نے سرکاری طور پر شہزادی تسلیم کر لیا
02 اکتوبر 2020 (22:36) 2020-10-02

برسلز:سات برس کی قانونی جنگ کے بعد بیلجیئم کی آرٹسٹ کوعدالت نے سرکاری طور پر شہزادی تسلیم کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈلفین نامی ایک آرٹسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ بیلجیئم کے سابق بادشاہ البرٹ ٹو اس کے والد ہیں اور اس کیلئے وہ ایک طویل عرصہ سے قانونی جنگ لڑنے میں مصروف تھیں۔ عدالت نے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد  ڈلفین کو ’پرنسس آف بیلجیئم‘ مانا ہے۔عدالت کے فوری فیصلے کو خوشگوار حیرت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ یہ فیصلہ 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

جنوری میں کیے گئے ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ کنگ البرٹ ٹو ڈلفین بوئل کے بائیلوجیکل والد ہیں۔البرٹ ٹو چھ برس قبل اپنے بیٹے فلپ کے حق میں بادشاہت سے دستبردار ہوئے تھے، ایک طویل عرصے سے سابق بادشاہ البرٹ ٹو ڈلفین بوئل کے دعوے کو غلط قرار دے رہے تھے۔ شہزادی تسلیم کیے جانے کے بعد ڈلفین بوئل کے نام کے ساتھ اب ان کے والد کا نام ’سیکس کوبرگ‘  لکھا جائے گا۔

ان کے دو بچوں جوسفین اور اوسکر کو بھی شاہی لقب ملے گا۔ڈلفین بوئل کے وکیل کا کہنا ہے کہ ’ایک قانونی جیت میں جیت والد کی محبت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ انصاف ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ مزید یہ کہ جو بچے ایسے حالات سے گزرے ہیں یہ فیصلہ ان کو ہمت دیتا ہے۔


ای پیپر