ملک میں بڑ ھتے ہو ئے جنسی جرائم
02 اکتوبر 2020 (14:24) 2020-10-02

 قر یبا ً تین ہفتے قبل جب مو ٹر وے پر ایک خاتون کا اس کے بچوں کے سامنے ریپ کیا گیا تو میڈیا نے بہت زیادہ اس واقعے کو ریج دی۔ پھر جب عوامی رد عمل بھی سامنے آیا تو سبھی منتخب نمائندے مگرمچھ کے آنسو بہانے اور جھوٹی تسلیاں دیتے نظر آئے۔تا ہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں جنسی زیادتی کے واقعات رونما ہونے کا ایک تسلسل ہے، جو رکنے یا تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایسے واقعات کے تدارک اور ان پر قابو پانے کی تمام کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں۔ معاشرہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے کہ کیا جنسی دیوانگی کی کوئی لہر آئی ہوئی ہے، معاشرہ تہذیبی زوال کا شکار ہے، رشتوں کا مشرقی تقدس ختم ہوگیا ہے یا جنسی بھیڑیے ہر قسم کی پابندیوں سے چھوٹ کر انسانی آبادیوں پر حملہ آور ہورہے ہیں، آخر کیا مسئلہ ہے؟ ماہرین معاشیات و نفسیات کا کہنا ہے کہ درحقیقت ہمارا سماجی و معاشرتی ڈھانچہ زمین بوس ہورہا ہے،،عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے جبکہ کمزور تفتیش اور عدالتی نظام کے سقم سے فائدہ اٹھانے والے مجرموں کے دلوں سے قانون کا خوف جاتا رہا ہے۔ ”سزا“ کا تصور ختم ہوچلا ہے۔ اگر صرف ایک دن کے اخبارات کی خبروں پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں بے حد افسوسناک واقعات کی خبریں ملک بھر سے پڑھنے کو ملتی ہیں۔ قصورمیں زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد ملک بھر میں ایسے واقعات کے حوالے سے غصے کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن اس کے باوجود بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ پانچ سال کی بچی سے لے کر تمام عمر کی خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں، خواجہ سرا قتل ہورہے ہیں، چھوٹے بچوں اور لڑکوں سے بدفعلی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ آخر یہ سب کیا ہے، کیوں ہے اور اس رجحان پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے۔ ان اسباب اور عوامل کو جاننے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جنسی زیادتی کے واقعات رونما ہونا کوئی آج یا کل کی بات نہیں۔ اس کی تاریخ کافی پرانی ہے اور اس کی بنیادیں بھی کافی گہری ہیں اور ہماری ہی نسلیں اس کی پرورش کرتی آئی ہیں۔ اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جس میں عموماً ایک فرد اپنی عمر سے چھوٹے فرد کو (مرضی کے بغیر) یا بچے کو عملاً یا اشارتاً جنسی لذت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہاں پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں پر ”مرضی“ والی شرط لاگو نہیں ہوتی، کیونکہ ان کی رائے ناپختہ ہی ہوتی ہے جو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر باآسانی بدلی جاسکتی ہے۔ جنسی زیادتی کا میسر ریکارڈ اگرچہ بہت کم ہے، کیونکہ اس طرح کے کیسز زیادہ تر رپورٹ نہیں ہوتے، پھر بھی ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق بچیوں میں ہر تین میں سے ایک اور بچوں میں ہر سات میں سے ایک کو 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کم از کم ایک بار جنسی زیادتی کا شکار بننا پڑتا ہے اور ہم میں سے تقریباً ہر انسان کسی ایک ایسے شخص کو ضرور جانتا ہے جس نے یہ گھناؤنا جرم کیا ہو اور اس سے بھی حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ نوے فیصد بچے ایسے لوگوں سے زیادتی کا نشانہ بنے جن کو وہ پہلے سے جانتے تھے اور جن پر ان کو اور ان کے والدین کو بھروسا تھا۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ جنسی لذت ہی اصل مقصد ہو، بلکہ جنسی زیادتی کے واقعات پیسہ کمانے، بلیک میل کرنے، دشمنی کا بدلہ چکانے یا دیگر مقاصد کے لیے بھی رونما ہوسکتے ہیں۔ انتقامی ذہنیت بھی صورتحال کا سبب ہوسکتی ہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق کسی بھی ز ا نی کے جرم کے اسباب کی تشخیص کے لیے اس عمل کی وجوہات کا ٹھوس تعین اور ان وجوہات کی شدت طے کرنا بہت مشکل ہے۔ تاہم کئی مختلف نفسیاتی اور طبی جائزوں سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ریپ کے مرتکب افراد میں کسی جسمانی یا نفسیاتی دکھ محسوس کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے۔ وہ تقریباً بیماری کی حد تک خودپسندی کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں خاص طور پر خواتین کے خلاف جارحانہ جذبات بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ پولیس جنسی زیادتی کا شکار بچوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرتی ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان جو کمیونی کیشن گیپ ہے وہ بھی ان واقعات کو دبانے کا سبب بنتا ہے۔ معاشرہ میں بچے کو صرف خاموش رہنے کی تربیت دی جاتی ہے اور بڑوں پر اندھا اعتماد کرنا سکھایا جاتا ہے۔ انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کیا ہے۔ والدین بچوں سے اس موضوع پر نہ ہی کھل کر بات کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی تربیت کرتے ہیں۔ سکول میں بھی کیونکہ بچے کمزور ہوتے ہیں، اس لیے ان پر حملہ آسان ہوجاتا ہے۔ اگر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تو اس کا سد باب ممکن ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجموعی سماجی تبدیلیوں اور رویوں میں تبدیلی بھی اہم ہے۔ان واقعات کا ایک نفسیاتی پہلو 

یہ ہے کہ جب آدمی میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس کی زندگی بے معنی ہے اور یہ کہ باعزت روزگار نہ ہونے سے اس کی زندگی میں کوئی عزت بھی نہیں ہے، ایسے میں بندہ کبھی کبھار اپنا شعور کھو بیٹھتا ہے یعنی وہ پھر کمزور پر اپنی طاقت کا رعب جھاڑتا ہے، کمزور پر ظلم کرتا ہے اور خود کو سمجھتا ہے کہ وہ بہت طاقتور ہوچکا ہے۔ ایسے افراد معاشرے میں صحیح مقام نہ ملنے کی صورت میں کوئی ایکٹی ویٹی تلاش کرتے ہیں۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود حکمرانوں کی زیر نگرانی پلنے والا معاشرہ اس قدر بے راہ روی کا شکار ہوچکا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ جب آپ کو معلوم ہوجائے کہ جو جرم یا گھناؤنا کردار آپ کرنے جارہے ہیں اس کے جرم میں آپ بچ جائیں گے اور اس ملک کا قانون آپ کو سخت سے سخت جرم کی پاداش میں بھی باعزت بری کردے گا تو پھر کیونکر آپ اس گناہ کو کرنے سے گھبرائیں گے؟ 

ماں باپ گھریلو مجبوریوں اور مسلسل تنگ دستی کے باعث روٹی کے حصول کے لیے دربدر پھریں یا پھر اپنے بچوں کو نفسانی بھیڑیوں سے بچاتے پھریں؟ مسلسل بے روزگاری اور غربت نے اس ملک کے بڑے بوڑھوں کے اندر سے مقصدیت کو ختم کردیا ہے۔ آخر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کئی بچوں کا باپ ہوکر بھی کوئی اتنی بربریت برپا کرسکتا ہے۔ آج انسانوں کے اندر جینے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ دم توڑ چکا ہے۔ جو آدمی سمجھتا ہے کہ اس کی اس زندگی میں کوئی عزت نہیں ہے اور یہ کہ ظالم سماج میں روٹی کے حصول کے لیے جب تک آپ درندے نہیں بن جاتے نہ تو آپ کو معاشرہ عزت دے گا اور نہ ہی روٹی دے گا۔ تو پھر وہی بات آجاتی ہے کہ اس معاشرے میں پلنے والے ناسور یہ سمجھ کر اس طرح کے واقعات کر گزرتے ہیں کہ ان کے دلوں میں سزاؤں کاخوف نہیں اور اس کے ساتھ ان کی زندگیوں میں سے مقصدیت کا خاتمہ انہیں وحشی درندے بناتا جارہا ہے جس میں انہیں اپنی عزت کا خیال رہا ہے اور نہ کسی اور کی عزت کا پاس رہا ہے۔  حکمرانوں کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ انہیں تحفظ کا احساس دلائیں، مظلوموں کے سرپر دست شفقت رکھیں اور مجرموں کو سزائیں دلوائیں۔ آئینہ سچ بولتا ہے، ہم سب کو آئینے میں اپنی صورت دیکھنی چاہیے کہ کون کون ذمہ دار ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق وفاقی کابینہ نے معصوم بچوں، بچیوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مسودہ قانون جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تاکہ جنسی شکاریوں کو اس کا موقع نہ ملے کہ وہ انسانی سماج کو اپنی غیر انسانی وارداتوں سے خوف و ہراس کا نشانہ بنائیں۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کے موثر قوانین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سفارشات اور جنسی مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح، تربیت، نفسیاتی بحالی کے سائنسی طریقوں کا جائزہ لیا جائے۔ مغرب میں کئی ممالک جنسی مجرموں کے لیے صرف سخت سزاؤں پر انحصار نہیں کرتے، وہ ڈیٹرنس سمیت سائیکالوجیکل علاج اور جنسی جرائم میں ملوث افراد کی اصلاح کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ لیکن جس منظم طریقے سے جنسی جرائم کی وارداتوں کو میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے وہ بھی محل نظر ہے۔ اس بنیادی مسئلہ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ ملک میں فحش لٹریچر، فلموں، بولڈ ڈراموں اور دیگر پرکشش پروگراموں کی افراط و تفریط اور پولیرائیزشن بھی لمحہ فکریہ ہے۔ نئی نسل کو صحت مند تفریح کے ذرائع میسر نہیں۔ ایک ناقابل بیان گھٹن کا ماحول ہے۔ جنس پہ با ت کر نا ایک ممنوعہ موضوع ہے جبکہ فطرت نے نسل انسانی کی فطری آفرینشن کے لیے تہذیبی اصول اور شرعی قوانین نافذ کیے ہیں۔ کسی کو جنسی درندگی کا کھلا لائسنس نہیں دیا جاسکتا۔ وقت آگیا ہے کہ ارباب اختیار قانون سازی کا حق ادا کریں کیونکہ جنسی تشدد اور شرمناک جرائم کا مستقل سدباب ناگزیر ہے۔


ای پیپر